افغان امن معاہدہ اورمستقبل کا نقشہ
- تحریر سلمان عابد
- جمعرات 05 / مارچ / 2020
- 4670
طالبان او رامریکہ کے درمیا ن امن معاہدہ ایک تاریخی واقعہ ہے۔ اگرچہ اس امن معاہدہ سے فوری نتائج نکالنا درست حکمت عملی نہیں ہوگی۔ یہ دستاویز ایک ابتدائی معاہدہ ہے او راس پر عملدرآمد کرکے مستقبل میں افغانستان سمیت خطہ کی سیاست میں امن کا راستہ تلاش کیا جاسکتا ہے۔
یہ معاہدہ نہ تو فوری طور پر ہوا ہے او رنہ ہی کسی سیاسی تنہائی میں کیا گیا ہے۔ اس معاہدہ پر پہنچنے کے لیے کئی برس تک مختلف فریقین کے درمیان مشاورت کا عمل چلتا رہا او ریہ عمل کبھی ٹوٹتا او رکبھی جڑ جاتا تھا۔کیونکہ فریقین میں بہت زیادہ بداعتمادی تھی او رکوئی کسی پر اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔اس معاہدہ کی تکمیل میں پاکستان کا کلیدی کردار ہے اور تمام فریقین اور دنیا نے پاکستان کے کردار کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ خاصی پزیرائی بھی دی ہے۔ پاکستان کے لیے یہ کردار بہت آسان نہیں تھا اور نہ ہی افغان طالبان کے فیصلے ہمارے ہاتھ میں تھے اور خاص طو رپر بداعتمادی کے سائے میں پاکستان کا مثبت کردار او ران سب اہم فریقین کو مذاکرات اور اب معاہدہ پر لانا واقعی غیر معمولی عمل تھا۔ماضی میں امریکہ نے پاکستان کو باہر نکال کر افغان حل تلاش کرنے کی کوشش کی تھی، جوسود مند نہیں ہوسکی تھی۔
اس تاریخی معاہدہ کے تناظر میں چار اہم فریق تھے۔ افغان حکومت، افغان طالبان، امریکہ او رپاکستان ۔جبکہ دنیا کی توجہ کا مرکز بھی افغانستان تھا۔ پاکستان بنیادی طور پر افغان بحران کے حل کو محض افغانستان تک محدود کرکے نہیں دیکھتا تھا بلکہ اس کے بقول اس سے دونوں ممالک سمیت خطہ کی سیاست کا استحکام بھی جڑا ہوا ہے اور افغان بحران کے حل کے بغیر پاکستان بھی داخلی طور سے مستحکم نہیں ہوسکے گا۔امریکہ او ربالخصوص امریکی صدر ٹرمپ اس تاریخی معاہدہ کی صورت میں امریکہ اور اپنے ووٹروں کو یہ واضح پیغام دینا چاہتا ہے کہ افغان بحران کا حل اس نے کیا ہے اور امریکہ کو ایک بڑی جنگ سے باہر نکالا ہے۔اسی طرح امریکہ کی کوشش تھی کہ وہ اس معاہدہ کی صورت میں اس تاثر کو نہ ابھرنے دے کہ اسے شکست ہوئی ہے۔ وہ عملی طور پر ایسی صورتحال چاہتا ہے جس میں سب فریق اسے اپنی اپنی جیت کی صورت میں پیش کریں۔ امریکہ کی خواہش یہ بھی کہ امریکی فوجیوں کے انخلا کے باوجود اس کا ایک بڑا اثر یہاں کی فیصلہ سازی میں کسی نہ کسی شکل میں موجود رہے۔
جبکہ افغان طالبان اس معاہدہ کو اپنی بڑی جیت اور امریکہ کی پسپائی سے جوڑنا چاہتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ یہ تاثر نہ ابھرے کہ یہ معاہدہ ہماری کمزوری تھا یا ہم تھک گئے تھے او رلوگ ہمیں ہارا ہوا تسلیم نہ کریں۔اسی طرح وہ امریکی انخلا کی صورت میں امریکہ سے چاہتا ہے کہ وہ اصل طاقت، اقتدار او راختیار کسی او رکو منتقل کرنے کی بجائے افغان طالبان کو دے۔ جبکہ افغان حکومت چاہتی ہے کہ اس معاہدہ کی صورت میں اس کا اپنا کردار ختم نہ ہو اور طالبان ان کے کردار کو ایک بڑے فریق کے طور پر تسلیم کریں او راگر امن کی طرف بڑھنا ہے تو افغان طالبان عملی طور پر افغان حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں۔پاکستان چاہتا ہے کہ امریکہ ماضی کی طرح سے یہاں سے انخلا کے بعد فوری طو رپر نہ جائے اور اس کی موجودگی ہی یہاں کے مستقل امن کی ضمانت بن سکتی ہے۔امریکہ میں بھی یہ احساس موجود ہے کہ ہم ماضی کی غلطی کو نہ دہرائیں اور فوری طو رپر افغانستان سے نکلنے کی پالیسی سے گریز کیا جائے۔
اس تاریخی معاہدہ کی صورت میں امریکہ او راتحادی فوجیوں کا انخلا، دونوں اطراف سے قیدیوں کا تبادلہ، انٹرا افغان مکالمہ، طالبان کی جانب سے مستقبل میں امریکہ یا پاکستان سمیت کسی بھی ملک کے خلاف اپنی سرزمین کو استعمال کرنا، افغانستان او رطالبان پر لگی تمام پابندیوں کا خاتمہ بشمول ان کو دہشت گردوں کی فہرست سے نکالنا شامل ہے۔ طالبان کو تمام دہشت گردوں سے اپنے رابطے ختم کرنے ہوں گے۔ اس معاہدہ کو یقینی بنانے میں چین، روس اور قطرنے بھی اہم کردار ادا کیا۔اس معاہدے میں شامل تمام نکات بتدریج آگے بڑھیں گے او راس کا انحصار تمام فریقین کے کردار او راعتماد سازی کے ماحول سے جڑا ہوا ہوگا۔ کیونکہ اگر فریقین نے اس معاہدے کی پاسداری کی او راسے اپنی ذاتی انا اور ضد کی بھینٹ چڑھایا تو یقینی طور پر یہ معاہدہ آگے نہیں بڑھ سکے۔ امریکہ او رافغان حکومت کے بقول اس معاہدہ کی کامیابی افغان طالبان کے مثبت کردار سے جڑی ہوئی ہے جبکہ محض افغان طالبان ہی نہیں بلکہ خود افغان حکومت او ر امریکہ کا اپنا کردار بھی اس کی کامیابی سے جڑا ہوا ہے۔
افغان حکومت کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس معاہدہ کو اپنی سیاسی کمزوری سمجھتے ہیں او ران کو اندازہ ہے کہ افغان طالبان ان کی سیاسی حیثیت او ر کردار کو تسلیم نہیں کریں گے او رنہ ہی وہ موجودہ افغان حکومت کے حامی ہیں۔ اس لیے اگر افغان حکومت کو لگا کہ ان کا کردار محدود ہورہا ہے اور طالبان زیادہ باختیار ہورہے ہیں تو وہ اسے خراب کرسکتے ہیں۔ کیونکہ طالبان کسی بھی صورت میں افغان حکومت کی بالادستی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔خود افغان طالبان کی بڑی ذمہ داری یہ ہوگی کہ وہ طالبان سے جڑے تمام فریقین کو اس معاہدہ کا حصہ بنائیں او راگر کسی نے اسے چیلنج کیا او راپنی مزاحمت جاری رکھی تو مسائل پیدا ہوں گے۔اگر اس معاہدہ نے آگے بڑھنا ہے تو امریکہ او رافغان حکومت کے درمیان بھی ہمیں مسائل دیکھنے کو ملیں گے۔ اس کی ابتدائی شکل افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کی جانب سے قیدیوں کی فوری رہائی کے امریکی فیصلہ کو تسلیم کرنے سے انکار ہے۔ان کے بقول قیدیوں کی رہائی کا نکتہ مذاکرات کا حصہ ہوسکتے ہیں، لیکن فوری طور پر قدیوں کی رہائی ممکن نہیں ہوگی۔اگر افغان حکومت امریکی ایجنڈے سے ہٹ کر کام کرے گی تو امریکہ او رافغان حکومت کے درمیان بھی ہمیں سرد جنگ دیکھنے کو مل سکتی ہے۔
بھارت اب تک اپنی خفیہ ایجنسی او رافغا ن ایجنسی کی مدد سے افغانستان او رپاکستان کے داخلی استحکام کو نشانہ بنتا رہا ہے او رافغان حکومت کو پاکستان مخالف ایجنڈے کے طو رپر بھی استعمال کیا گیا۔ اب اس تاریخی معاہدہ کی صورت میں بھارت کس حد تک اس عمل میں مثبت کردار ادا کرے گا، خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ لیکن اگر بھارت نے امریکی ایجنڈے کے برعکس اس افغان امن معاہدہ کو خراب کرنے کی کوشش کی تو اس سے امریکہ بھی قبول نہیں کرے گا۔جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو امریکہ اور روس جنگ کے تناظر میں پاکستان کا کردار زیادہ خوشگوار نہیں۔ کیونکہ امریکہ کی جانب سے افغان بحران میں ماضی میں پاکستان کو تنہا چھوڑنے کے نتائج نے افغانستان کو ایک بڑی دلدل میں دھکیل دیا۔پاکستان نے جس جامع انداز میں تمام فریقین کو اس معاہدہ پر راضی کیا، وہ ہماری سیاسی اور عسکری قیادت کی بڑی کامیابی ہے مگر یہ چیلنج خود پاکستان کے لیے بھی بڑ ا ہے کہ اس معاہدہ پر عملدرآمد کے نظام کو کیسے شفاف اور ممکن بنایا جائے۔
افغان امن معاہدہ ایک بڑا اہم موقع فراہم کرتا ہے تمام فریقین کو وہ اس سے فائدہ اٹھائیں، کیونکہ اگر اس دفعہ یہ امن معاہدہ آگے نہ بڑھ سکا اور لڑائی یا تضاد میں الجھ گیا تو مستقبل کا افغانستان اور یہ خطہ مجموعی طور پر مزید دہشت گردی کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔اس میں بڑا کردار تو افغان حکومت، افغان طالبان یا دیگر گروپس کا ہے۔ افغان حکومت کو بھی اب بہت زیادہ پاکستا ن پر الزام تراشی لگانے کی بجائے اس معاہدہ کی کامیابی کے لیے دو طرفہ تعاون کے امکانات کو آگے بڑھانا ہوگا۔کیونکہ امریکہ سمیت سب نے جنگ کا نتیجہ دیکھ لیا او رآخر میں انہیں مفاہمت کا راستہ ہی تلاش کرنا پڑا او راب بھی افغانستان کے بحران کا حل فوجی نہیں بلکہ سیاسی ہے۔ماضی میں جو لوگ افغان بحران اور طالبان کا حل فوجی طاقت سے دیکھنے کی کوشش کررہے تھے ان کو ہر محاذ پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا او ربڑی طاقتوں کو مجبور ہونا پڑا کہ وہ سیاسی راستے کی کڑوی گولی کو ہی ہضم کریں۔
مسئلہ کسی کی فتح او رجنگ کا نہیں ہونا چاہیے۔ اس وقت دنیا کے تمام ممالک کے پاس واحد راستہ افغان بحران کے حل میں اس معاہدہ کی کامیابی سے جڑا ہوا ہے او رجو بھی فریق یا ملک پرامن افغانستان کے عمل میں اپنا کردار ادا کرے گا وہی خطہ میں امن، ترقی اور خوشحالی کی ضمانت کو یقینی بناسکتا ہے۔