کورونا وائرس کی وجہ سے خانہ کعبہ میں طواف رک گیا
- جمعہ 06 / مارچ / 2020
- 14660
سعودی حکومت نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے حرم شریف میں طواف کا سلسلہ عارضی طور پر روک دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی تصویروں میں دیکھا جاسکتا ہے کہ حرم شریف کوجراثیم کش ادویات سے صاف کیا جارہا ہے۔ اس لئے صحن کعبہ میں طواف کا عمل روک دیا گیا۔ حرمین شریفین پریزیڈنسی کے مطابق 1979 میں حرم شریف پر قبضے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ طواف روکا گیا ہے۔ سعودی وزارت داخلہ نے گزشتہ روز اپنے شہریوں اور مملکت میں مقیم غیر ملکیوں کے بھی عمرہ ادا کرنے اور روضہ رسول ﷺ کی زیارت پر پابندی عائد کردی تھی۔ اس سے قبل سعودی حکومت بیرون ملک سے آنے والے عمرہ زائرین اور سیاحوں پر بھی پابندی عائد کردی تھی جس کا مقصد مہلک وائرس کو پھیلنے سے روکنا اور زائرین کے جانوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
سعودی عرب میں کورونا وائرس کے آج مزید 3 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد مملکت میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 5 ہوگئی ہے۔ سعودی پریس ایجنسی (واس) کے مطابق نئے مریض ایران سے آئے تھے۔ اس طرح ملک میں کورونا کے مریضوں کی تعداد پانچ ہوگئی ہے۔ سعودی وزارت صحت نے کہا ہے کہ نئے مریضوں میں ایک میاں بیوی شامل ہیں جو ایران سے براستہ کویت یہاں پہنچے تھے۔
اس دوران ایران میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 107 ہوگئی ہے۔ ان میں ایرانی کے وزیر خارجہ کے مشیر حسین شیخ الااسلام بھی شامل ہیں۔
ایران کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے کوشش کررہا ہے لیکن اب تک وائرس سے 3 ہزار 513 افراد متاثراور کم سے کم 107 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ایران میں کورونا وائرس سے مرنے والوں میں 6 سیاستدان یا سرکاری اہلکار شامل ہیں۔ حسین شیخ الااسلام ، وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے مشیر تھے اور شام میں سفیر کے فرائض بھی انجام دے چکے تھے۔ انہوں نے 1981 سے 1997 تک نائب وزیر خارجہ کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔
اس سے قبل ایران کے سپریم لیڈر کے قریبی ساتھی اور ان کو تجاویز دینے والے کونسل کے رکن کورونا وائرس سے متاثرہ ہوکر ہلاک ہوگئے تھے۔ وہ ریاست میں اس وائرس سے متاثر ہونے والے پہلے اعلیٰ عہدیدار تھے۔
ایران میں کورونا وائرس کے خلاف حفاظتی اقدامات کے تحت دفاتر میں کام کے اوقات میں بھی کمی کردی گئی ہے اور گزشتہ روز ایران کی ایمرجنسی سروس کے سربراہ بھی متاثر ہونے کی تصدیق کردی گئی تھی۔
خیال رہے کہ چین سے شروع والا یہ وائرس اب دنیا کے کئی ممالک تک پھیل چکا ہے۔ ایران میں چین کے بعد سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں اور متاثرین میں جنوبی کوریا دوسرے نمبر پر ہے تاہم ہلاکتیں ایران سے کم ہوئی ہیں۔