عورت مارچ کا خوف
- تحریر سرور غزالی
- جمعہ 06 / مارچ / 2020
- 7930
ابھی کرونا وائرس کی پریشانیاں اپنے عروج پر نہیں پہنچی تھیں اور انسان سوچ رہا تھا کہ اس مصیبت کے پیچھے، قدرتی آفات کا ہاتھ ہے کہ یہ بائیولوجکل وار کی کارستانی ہے کہ اچانک دہلی میں فسادات پھوٹ پڑے۔
فسادات بڑے ہی ظالم ہوتےہیں۔ نہ مرنے دیتے ہیں نہ جینے۔ انسان جیتے جی مر جاتا ہے۔ اس سے تو اچھی وہ ظالم اور سفاک جنگیں ہوتی کہ بندہ جان سے جائے ہر قسم کی پریشانیوں سے نجات ۔ مگر جنگیں ہوں یا فسادات سب ہی بڑی ظالم چیز ہوتی ہیں اور اتنی سفاک کے ان کے سامنے انسان آج بھی اتنا ہی بے بس نظر آتا ہے جیسے آج سے صدیوں قبل۔ شام و عراق کی جنگ کے اثرات میں ترکی اور یونان کی پرانی دشمنی کھل کر سامنے آرہی ہے۔ بے گھر لوگ عارضی کیمپوں میں پڑے ہیں۔ لیکن ایسے عارضی کیمپ تو اب دہلی میں بھی بنادیے گئے ہیں۔
تقریباً پچیس ہزار افراد دہلی کے کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ اپنے ہی شہر میں، اپنے ہی گھر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر۔ اکیسویں صدی میں دنیا کے ایک عظیم الشان جمہوری ملک کے اتنے بڑے شہر میں اچانک ایسے فسادات اور اس پر حکومت کی ایسی بے حسی۔ پولیس کی ایسی لاپرواہی۔ مجھے سن ستر کے وہ فسادات یاد آگئے جو کبھی بنگلہ دیش میں بپا ہوئے تھے۔ ڈھائی لاکھ انسانی جانوں کا زیاں ہؤا۔ ابھی کشمیر کی طرف سے تو خبریں ہی مو صول نہیں ہورہی ہیں۔ جانے وہاں انسان کس خوف وہراس میں جیتے جی مر رہا ہے۔
میں سوچ رہا ہوں کہ کیا کرونا وائرس عفریت ہے یا خود انسان، جو برچھی، بندوق لے کر گھروں میں سوئے ہوئے لوگوں پر حملہ آور ہوتا ہے۔ جنگ، فساد، بے گھر افراد، کیمپ کی زندگی اور کرونا وائرس، انسان کس کس عفریت سے کیسے کیسے خود کو بچانے کی کون کون سی ترکیب کرے۔ کیا آج کا انسان صدیوں قبل کے زمانے کے انسان سے تھوڑا بہت بھی خود کو محفوظ پارہا ہے۔ جب وہ درختوں اورپہاڑوں کی اوٹ میں جنگل میں دندناتے خطرات سے نبرد آزما تھا۔
یقیناً ہم آج کی جدید سہولیات اور ترقی سے بھرپور زندگی گزار رہے ہیں۔ موبائل فون اور جدید ٹیکنالوجی کی آسائش پر انحصار کرتے ہوئے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ مگر یہ سب کچھ ایک کاغذ کے بنے گھر کی مانند ہے۔ ہوا کے ایک جھونکے سے سب کچھ اڑجانے کو ہے۔ زندگی جتنی ناپائیدار نظر آتی ہے اتنی ہے نہیں۔ اگر انسان مر جائے تو سارے غم سے نجات، مگر اگر جیتے جی مرجائے تو زندہ رہنے کا غم ۔ خوف و ہراس ہر لمحے نئے المیے کا خوف۔
اور ایسے میں عورت مارچ کا خوف کچھ لوگوں کو جیتے جی مار رہا ہے۔ یہ خوف ان لوگوں کے لیے یقیناً اہم ہے اور سچ مچ کی جنگ، بے سروسامانی، کروناوائرس اور فساد سے زیادہ دہلانے دینے والا خوف ہے کہ اگر عورت یعنی انسان کی اس آدھی آبادی کو اس کے جائز حقوق مل گئے تو ان کا کیا بنے گا؟
عورت مارچ سے خائف وہی لوگ ہیں جن کو اپنی حیثیت کم اور اپنا مقام مشکوک لگتا ہے۔ ورنہ انسان کی آزادی سے خائف انسان اصل میں ایسی غلام ذہنیت کے حامل افراد ہیں جو سر اٹھا کر چلنے سے ڈرتے ہیں کہ کہیں کاٹ نہ دیئے جائیں۔ اور کہیں آقا ایسےمارچ سے ناخوش ہوکر روٹی پر پابندی نہ لگادے۔