دبئی کا حکمران: بیٹیاں اغوا اور بیوی کو قید میں رکھنے کی کہانی

  • ہفتہ 07 / مارچ / 2020
  • 12500

اپریل 2018 میں دبئی کے حکمران 70 سالہ شیخ محمد بن راشد المکتوم کی 35 سالہ بیٹی شیخہ لطیفہ نے امریکی خاتون دوست اور فرانسیسی سابق فوجی جاسوس کی مدد سے فلموں کی طرز پر دبئی سے فرار ہونے کی ناکام کوشش کی تھی۔

شیخہ لطیفہ کو دبئی سے فرار ہونے کی کوشش کے دوران بھارتی اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی افواج نے بحیرہ عرب سے گرفتار کیا تھا اور تب سے شہزادی لاپتہ ہیں اور تاحال ان کے حوالے سے کسی کو کوئی علم نہیں۔ شیخہ لطیفہ کے لاپتہ ہونے کی گونج 5 مارچ 2020 کو لندن کی ہائی کورٹ میں اس وقت سنائی دی جب دبئی کے حکمران کے خلاف ان کی اہلیہ شہزادی حیا بنت حسین کی درخواستوں پر برطانوی عدالت نے فیصلہ سنایا اور اس کی اشاعت کی اجازت بھی دے دی۔

لندن ہائی کورٹ نے دبئی کے حکمران کی فرار ہونے والی اہلیہ شہزادی حیا کی درخواستوں پر فیصلہ دسمبر 2019 میں محفوظ کیا تھا تاہم شیخ محمد بن راشد المکتوم کی جانب سے اپنے خلاف دائر درخواستوں کے خلاف برطانوی سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا تھا جس نے ہائی کورٹ کو فوری طور پر فیصلہ نہ سنانے کی ہدایت کی تھی۔

دبئی کے بادشاہ نے برطانوی سپریم کورٹ سے یہ استدعا بھی کی تھی کہ ان کے اور ان کی فرار ہونے والی اہلیہ شہزادی حیا کے درمیان تنازع کے لندن ہائی کورٹ کے فیصلے کو خفیہ رکھا جائے کیوں کہ یہ ان کے نجی معاملات ہیں۔ تاہم برطانوی سپریم کورٹ نے گزشتہ ہفتے دبئی کے حکمران کی تمام درخواستیں مسترد کرتے ہوئے ہائی کورٹ کو فیصلہ سنانے اور اس کی اشاعت کا حکم دیا تھا۔

سپریم کورٹ کی اجازت کے بعد ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے اس کی اشاعت کردی۔ فیصلہ کے مطابق سماعت کے دوران عدالت کو معلوم ہوا کہ 70 سالہ محمد راشد المکتوم نے اپنی 2 بیٹیوں کو اغوا کیا جب کہ انہوں نے اپنی اہلیہ شہزادی حیا کو بھی طاقت کے زور پر قید کرکے ہراساں کیا۔ ہائی کورٹ آف انگلینڈ اینڈ ویلز کے فیملی ڈویژن کی سربراہی کرنے والے جج اینڈریو مکارلین نے شیخ محمد کو شیخہ شمسہ برطانوی شہر کیمبرج سے اگست 2000 میں اغوا کا حکم دینے اور اس کی منصوبہ بندی میں ملوث پایا۔ اس وقت شیخہ شمسہ 19 برس کی تھیں۔

جج نے سماعت کے دوران کہا کہ شیخہ شمسہ کو دبئی واپسی پر مجبور کیا گیا اور گزشتہ 2 دہائیوں سے ان کی آزادی چھینی گئی ہے۔ علاوہ ازیں شمسہ کی بہن 35 سالہ شیخہ لطیفہ کو 2 مرتبہ 2002 اور 2018 میں پکڑ کر دبئی واپس لایا گیا تھا۔ انہیں پہلی مرتبہ فرار ہونے کی کوشش سے قبل اپنے والد کی ہدایات پر 3 سال تک قید رکھا گیا تھا۔ مارچ 2018 میں ان کی دوسری قید عالمی شہ سرخیوں کا حصہ بنی تھیں لیکن تاحال وہ لاپتہ ہیں۔ وہ اس وقت کہاں اور کس حال میں ہیں اس بات کا علم کسی کو نہیں۔

شیخہ لطیفہ کی فٹنیس ٹرینر رہنے والی ان کی امریکی دوست ٹینا جوہینن نے انہیں دبئی سے فرار ہونے میں مدد دی تھی اور انہوں نے ہی عالمی میڈیا اور برطانوی عدالت کو بتایا تھا کہ دبئی کے حکمران نے کس طرح اپنی بیٹی کی فرار ہونے کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے انہیں قید کرکے لاپتہ کردیا۔

رواں برس جنوری میں ٹینا جوہینن نے شیخہ لطیفہ کے فرار ہونے کے منصوبے سے متعلق خبر رساں ادارے رائیٹرز کو تفصیلات سے آگاہ کیا تھا۔ ٹینا جوہینن نے بتایا تھا کہ انہیں شیخہ لطیفہ کا فٹنیس ٹرینر مقرر کیا گیا تو آہستہ آہستہ ان کے درمیان دوستی ہوئی۔ تاہم ابتدائی طور پر شہزادی اپنی زندگی کو انتہائی ذاتی رکھتیں اور ان سے کسی بھی بات کا اظہار نہیں کرتی تھیں۔ ٹینا جوہینن نے لندن ہائی کورٹ میں بھی شیخہ لطیفہ کے فرار ہونے کی ناکام کوشش کے دوران انہیں دبئی کے حکمران کی جانب سے اغوا کیے جانے سے متعلق گواہی دی اور عدالت کو بتایا کہ یہ سچ ہے کہ ’دبئی سے فرار ہونے کی کوشش کے دوران ہی شہزادی لطیفہ کو اغوا کرکے دبئی میں قید کرلیا گیا اور تب سے وہ لاپتہ ہیں‘۔

ٹینا جوہینن نے کافی عرصے بعد حالیہ ہفتوں میں شیخہ لطیفہ کے فرار ہونے کے منصوبے سے متعلق عالمی میڈیا سے بات کرنا شروع کی، جس دوران انہوں نے بتایا کہ وہ 2010 میں پہلی بار شیخہ لطیفہ سے ملیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ شیخہ لطیفہ کو ہفتے میں 5 دن تک مارشل آرٹس اور فٹنیس کی تربیت دیتی تھیں۔ ان دونوں کو دوست بننے میں کچھ وقت لگا لیکن جب ان کی گہری دوستی ہوگئی تو شہزادی نے انہیں بتایا کہ وہ دبئی سے فرار ہونا چاہتی ہیں اور اس حوالے سے ایک ناکام کوشش بھی کر چکی ہیں۔

امریکی خاتون ٹرینر ٹینا جوہینن کے مطابق شیخہ لطیفہ نے انہیں بتایا کہ انہوں نے 2002 میں دبئی سے فرار ہونے کی کوشش کی تھی تاہم ناکامی کے بعد انہیں قید کرلیا گیا تھا اور اب ایک بار پھر وہ یہاں سے فرار ہونا چاہتی ہیں۔ وہ دبئی میں نہیں رہنا چاہتیں۔ انہوں نے کہا کہ شیخہ لطیفہ نے انہیں بتایا کہ فرار ہونے کی ناکام کوشش کے بعد ان کے دبئی سے باہر جانے پر پابندی ہے اور ان کے پاس پاسپورٹ تک نہیں۔

ٹینا جوہینن کے مطابق شیخہ لطیفہ نے ہی انہیں 2016 میں بتایا تھا کہ ان کے والد نے ان کی ایک بہن شیخہ شمسہ کو بھی اپنے نجی قید خانے میں قید کر رکھا ہے۔ امریکی خاتون کے مطابق 2017 میں ایک بار پھر دبئی سے فرار ہونے کی خواہش ظاہر کی اور اس دوران انہوں نے فرانسیسی سابق فوجی جاسوس ہروی جوبرٹ کی ’دبئی سے فرار ہونے کے طریقوں‘ پر لکھی گئی ایک کتاب پڑھنا شروع کی تھی۔

ٹینا جوہینن کا کہنا تھا کہ انہوں نے شیخہ لطیفہ کی مدد کرنے کا سوچا جس کے بعد انہوں نے سب سے پہلے فرانسیسی جاسوس ہروی جوبرٹ سے رابطہ کیا اور ان سے پہلی ملاقات تھائی لینڈ میں کی۔ جس کے بعد ان کی ایک ملاقات دبئی میں ہوئی اور اس دوران انہوں نے اپنے موبائل فون بند کردیے تھے۔

ٹینا جوہینن کا کہنا تھا کہ بالآخر انہوں نے فرانسیسی جاسوس ہروی جوبرٹ کے ساتھ مل کر شیخہ لطیفہ کو دبئی سے فرار کرنے کا منصوبہ بنایا جس کے تحت شہزادی کو ایک کیفے میں آنے کے بعد وہاں سے فرار ہونا تھا۔ امریکی خاتون ٹرینر کا کہنا تھا کہ شیخہ لطیفہ کو معمول کے مطابق ڈرائیور نے ایک کیفے میں چھوڑا جس کے بعد شہزادی کپڑے بدلنے کے بہانے ٹائلٹ گئیں اور وہیں وہ اپنا موبائل فون اور کپڑے چھوڑ کر ان کے ساتھ مسقط روانہ ہوئیں۔  وہ 6 گھنٹے بعد اپنی دوسری منزل پر پہنچے۔

ٹینا جوہینن نے بتایا کہ مسقط سے وہ بوٹ کے ذریعے بھارتی ریاست گوا کی جانب روانہ ہوئے اور شیخہ لطیفہ پہلی بار بوٹ کی پہلی سیٹ پر بیٹھیں تو انتہائی جذباتی ہوگئیں اور انہوں نے کہا کہ وہ زندگی میں پہلی بار کسی سفر میں پہلی سیٹ پر بیٹھیں ہیں۔ امریکی خاتون ٹرینر کے مطابق وہ، شیخہ لطیفہ، فرانسیسی جاسوس اور بوٹ کے ڈرائیور طے شدہ منصوبے کے تحت آگے بڑھ رہے تھے کہ بیچ سمندر میں ان کی کشتی کو یو اے ای اور بھارتی بحریہ کے کمانڈوز نے گھیر لیا۔ کمانڈوز ہیلی کاپٹرز اور دیگر جدید جہازوں اور کشتیوں پر سوار تھے۔ انہوں نے ان کی کشتی پر قبضہ کرکے انہیں قید کرلیا۔

ٹینا جوہینن نے دعویٰ کیا کہ کمانڈوز نے شیخہ لطیفہ کو تشدد کے بعد قید کیا۔ کمانڈوز کشتی کے ڈرائیور، انہیں اور فرانسیسی جاسوس کو 45 منٹ تک تشدد کا نشانہ بناتے رہے اور بعد ازاں انہیں بھی قید کرکے دبئی لایا گیا۔ ٹینا جوہینن کا کہنا تھا کہ انہوں نے آخری بار شیخہ لطیفہ کو وہیں دیکھا تھا جس کے بعد کوششوں کے باوجود ان کا رابطہ شہزادی سے نہیں ہو سکا۔ اب انہیں ان سے متعلق کچھ معلوم نہیں۔

امریکی خاتون ٹرینر کے مطابق دبئی میں لائے جانے کے بعد انہیں تین ہفتوں بعد آزاد کردیا گیا۔ ’رائٹرز‘  نے ’ٹینا جوہینن‘ کی جانب سے کیے گئے دعوؤں پر دبئی کے میڈیا آفس اور بھارت کے دفتر خارجہ سے بھی رابطہ کیا۔ تاہم دونوں حکومتوں نے اس معاملے پر بات کرنے سے انکار کردیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارتی دفتر خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے اس معاملے اور شیخہ لطیفہ کو قید کرنے کے دعوؤں پر بات کرنے سے صاف انکار کردیا۔

برطانوی ہائی کورٹ میں ہونے والی سماعتوں اور عدالت کی جانب سے شائع کیے گئے فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ سماعت کے دوران عدالت نے دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کو اپنی بیٹی شیخہ شمسہ کے اغوا میں ملوث پایا۔

عدالت کے مطابق یہ بات ثابت ہوئی کہ دبئی کے حکمران نے اپنی بیٹی شیخہ شسمہ کو برطانوی شہر کیمبرج سے اگست 2000 میں اغوا کرنے کا حکم دیا اور وہ تب سے لاپتہ ہیں۔ جس وقت شیخہ شمسہ کو برطانوی شہر سے اغوا کرکے غائب کیا گیا، اس وقت ان کی عمر 19 برس تھی۔ اب اس واقعے کو 20 سال گزر چکے ہیں مگر تاحال ان سے متعلق کوئی معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔

دبئی کے حکمران کی دوسری بیٹی شیخہ لطیفہ نے 2017 میں اپنی بہن شیخہ شمسہ کے متعلق اپنی خاتون ٹرینر کو بتایا تھا کہ ان کی بہن کو نجی قید خانے میں رکھا گیا ہے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ شیخہ شمسہ اور شیخہ لطیفہ سگی بہنیں ہیں یا دونوں کی مائیں الگ الگ ہیں۔ تاہم دونوں دبئی کے حکمران کی 2019 میں فرار ہونے والی بیوی شہزادی حیا کی بیٹیاں نہیں ہیں۔

جولائی 2019 میں دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کی 45 سالہ اہلیہ شہزادی حیا اپنے 7 سالہ بیٹے زید اور 11 سالہ بیٹی جلیلا کے ہمراہ دبئی سے جرمنی فرار ہوگئی تھیں اور بعد ازاں وہ برطانیہ منتقل ہوگئی تھیں۔ رپورٹس کے مطابق وہ 3 کروڑ پاؤنڈ کی خطیر رقم ساتھ لے کر دبئی سے فرار ہوکر یورپ پہنچی تھیں۔ ابتدائی طور پر یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ شہزادی حیا شوہر کی جانب سے دھوکے باز اور بے وفا جیسے خطاب دیے جانے اور خود کو درپیش خطرات کی وجہ سے فرار ہوئیں تاہم برطانوی عدالت میں سماعت کے دوران پتہ چلا کہ انہیں بھی شوہر نے قید کر رکھا ہؤا تھا۔

شہزادی حیا نے عدالت کو بتایا کہ انہیں شوہر نے دھمکیاں بھی دی تھیں کہ وہ ’اب زندہ نہیں رہ سکیں گی‘۔ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا تھا کہ شیخ محمد بن راشد المکتوم نے شہزادی حیا کے علم میں لائے بغیر 7 فروری 2019 کو انہیں طلاق دے دی تھی۔ شہزادی حیا اردن کے سابق بادشاہ حسین بن طلال کی بیٹی اور حالیہ بادشاہ عبداللہ کی بہن ہیں اور متعدد غیر تصدیق شدہ رپورٹس کے مطابق وہ دبئی کے حکمران کی چھٹی اہلیہ ہیں۔

شہزادی حیا 2 بچوں کی ماں ہیں۔ وہ ماضی میں اقوام متحدہ کی خصوصی سفیر برائے خوراک اور انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی رکن بھی رہ چکی ہیں۔ شہزادی حیا نے فلسفہ، سیاست اور تاریخ کی تعلیم برطانیہ میں حاصل کی اور انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ وہیں گزارا۔ شہزادی حیا نے دبئی کے حکمران کی اہلیہ کے طور پر کئی سماجی منصوبے شروع کئے۔ وہ ہر وقت ان کے ساتھ عوامی تقریبات میں دیکھی جاتی تھیں۔

شہزادی حیا اپنے نفیس لباس، خوبصورتی، گفتگو اور انداز کی وجہ سے ہمیشہ عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز رہی ہیں۔ شہزادی حیا اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی اداروں کے ساتھ فلاحی منصوبوں پر کام کے دوران سماجی سرگرمیوں کے لیے دیگر ممالک کا دورہ بھی کرتی رہیں۔ شہزدی حیا کو بچپن سے گھڑ دوڑ سواری کا شوق تھا، وہ اس کھیل میں حصہ بھی لیتی رہیں۔

شہزادی حیا کے برطانوی شاہی خاندان سے قریبی تعلقات ہیں اور ان کا ساڑھے آٹھ کروڑ یورو مالیت کا عالیشان گھر بھی شاہی محل کے قریب ہی ہے۔ وہ برطانیہ میں ہر سال ہونے والے کیپ فیسٹیول میں بھی شرکت کرتی ہیں۔

(بشکریہ: روزنامہ ڈان)