سعودی عرب: بغاوت کے الزام میں شاہی خاندان کے تین سینئر ارکان گرفتار
- ہفتہ 07 / مارچ / 2020
- 5580
سعودی عرب کی حکومت نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے بھائی سمیت شاہی خاندان کے تین سینئر اراکین کو بغقاوت کے الزام میں حراست میں لے لیا ہے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد میں بادشاہ کے بھائی شہزادہ احمد بن عبدالعزیز اور بھتیجے محمد بن نائف شامل ہیں۔ ان افراد کو جمعہ کو حراست میں لیا گیا۔ امریکی جریدے 'وال اسٹریٹ جرنل' کے مطابق ان افراد کو بغاوت کے الزامات میں حراست میں لیا گیا۔
سعودی حکومت کی جانب سے اس حوالے سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔۔ ولی عہد محمد بن سلمان کے احکامات پر 2017 میں شاہی خاندان کے متعدد وزرا، کاروباری شخصیات اور اراکین کو گرفتار کر کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔ اُن میں شہزادہ محمد بن نائف بھی شامل تھے، جو اُس وقت وزیر داخلہ کے منصب پر بھی فائز تھے۔
مبصرین کے مطابق ولی عہد محمد بن سلمان کی بعض پالیسیوں کے باعث شاہی خاندان میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ خاص طور پر 2018 میں سعودی صحافی جمال خشوگی کے قتل کے بعد اُن کے طرز حکمرانی پر سوال اُٹھائے گئے تھے۔ امریکی جریدے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شاہی خاندان کے کچھ افراد احمد بن عبدالعزیز کو بادشاہ کا جانشین بنانا چاہتے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ 84 سالہ بادشاہ کسی بھی ایسی کوشش کی حمایت نہیں کریں گے۔ سعودی بادشاہ نے اپنے بیشتر اختیارات ولی عہد محمد بن سلمان کو تفویض کر رکھے ہیں۔ البتہ وہ خود بھی حکومتی اجلاسوں میں شرکت کرتے ہیں۔ محمد بن سلمان نے 2016 سے سعودی عرب میں معاشی اور سماجی اصلاحات کا آغاز کر رکھا ہے۔ جن میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دینے سمیت بعض دیگر اقدامات شامل ہیں۔ سعودی حکومت کا موقف ہے کہ وہ تیل کے علاوہ سیاحت سمیت دیگر ذرائع پر بھی اپنا انحصار بڑھانا چاہتی ہے۔ لیکن سعودی ولی عہد کی بعض پالیسیوں پر تنقید کی جاتی رہی ہے۔
سعودی عرب میں گرفتار ہونے والے افراد میں سے دو سلطنت میں انتہائی بااثر شخصیات تھیں۔ حراست میں لیے جانے والے اراکین میں شاہ سلمان کے چھوٹے بھائی شہزادہ احمد بن عبدالعزیز، سابق ولی عہد محمد بن نائف اور کزن شہزادہ نواف بن نائف شامل ہیں۔
وال سٹریٹ جرنل کے مطابق جمعہ کے روز شاہی اراکین کو ان کے گھروں سے سعودی گارڈز نے حراست میں لیا۔ انہوں نے چہرے پر ماسک اور سیاہ رنگ کا لباس پہن رکھا تھا۔ محمد بن سلمان کو 2016 میں اس وقت عالمی پذیرائی ملی جب انہوں نے قدامت پسند ملک سعودی عرب میں متعدد اقتصادی اور سماجی اصلاحات کرنے کا عزم کیا۔ تاہم وہ اب تک متعدد تنازعات کی زد میں بھی آ چکے ہیں جن میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کا ترکی کے شہر استنبول میں موجود سعودی سفارت خانے میں قتل شامل ہے۔
حالیہ دنوں میں سعودی عرب کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بھی متعدد اقدامات کر رہا ہے۔ اس حوالے سے کیے جانے والے اقدامات میں عمرے پر پابندی لگانا بھی شامل ہیں۔ اب رواں برس حج کے منعقد ہونے پر سوالیہ نشان موجود ہیں۔