ٹی وی مباحثہ کی لذت اور عورتوں کے حقوق کا قضیہ
- تحریر
- ہفتہ 07 / مارچ / 2020
- 7120
بظاہر تو یہ معمول کا ٹاک شو تھا۔ شام ڈھلے سے رات گئے تک درجنوں ٹی وی چینلز اور پروگرام کے اژدھام میں سے ایک۔ فارمیٹ بھی اسی ڈھب کا تھا کہ ایسے مہمان مدعو تھے جو ہر اعتبار سے اجتماع ضدین تھے۔
موضوع کا انتخاب بھی ایسا تھا کہ توجہ کا دامن کھینچ لے۔ زیادہ تر ٹاک شوز اپنے پروگرام روزانہ اسی ترکیب اور ڈھب سے کرتے ہیں مگر ریٹنگ کا ’ہما‘ شاذ ہی کسی کے ہاں اترتا ہے۔ جس کسی کے ہاں یہ ہما بیٹھ جائے اس چینل، اینکر اور پروگرام کے وارے نیارے ہو جاتے ہیں۔ اشتہارات ، مبارک سلامت اور تعریف و توصیف کی لائن لگ جاتی ہے۔ حالیہ چند ہفتوں میں وفاقی وزیر فیصل واوڈا کہ طرف سے بوٹ کو لائیو پروگرام میں میز پر رکھنے اور اپوزیشن کے ’بوٹ" کے ساتھ تعلقات اور جذباتی لگاؤ ‘ کے بارے گفتگو نے بھی ہما کو اس پروگرام پر بیٹھنے پر مجبور کردیا تھا۔ پروگرام کی ویڈیو کلپس لاکھوں کی تعداد میں شئیر ہوئیں۔
یادش بخیر نعیم الحق مرحوم نے ایک لائیو پروگرم میں مخالف پر پانی کا گلاس پھینک دیا کہ ان کے قائد کی شان میں گستاخی ان کی برداشت سے باہر تھی۔ پی ٹی آئی کے مراد سعید نے ڈاکٹر ارسلان فرزند چوہدری افتخار احمد کے ساتھ لائیو پروگرام میں لفظی جنگ کا ماحول بناتے ہوئے انہیں معافی مانگنے کا حکم دیا۔ اس تلخ کلامی کے دوران بازو بھی پکڑ لیا۔ پروگرام عارضی تعطل کے بعد شروع کرنا پڑا۔
ان سے ملتے جلتے واقعات میں پبلک کی دلچسپی لذت پسندی اور دل کھول کر اپنا غبار نکالنے کے کام آتی ہے۔ سوشل میڈیا اور ٹی ٹاک شوز کی پیالیوں میں دو چار روز طوفان برپا رہتا ہے تاآنکہ لوگ بور ہو جائیں یا اس سے زیادہ ہنگامہ خیز پروگرام سامنے آ جائے۔میڈیا کی روزانہ کی یہی روٹین ہے۔ کرکٹ بیٹسمین کی طرح بیٹ پکڑ کر اور پیڈ باندھ کر میدان میں اترتے ہیں لیکن چوکے چھکے اور سنچری کسی کسی کے حصے میں آتی ہے اور وہ بھی کبھی کبھار۔ لیکن روزانہ سینکڑوں بلے باز اپنی قسمت آزمانے میدان میں اترتے ضرور ہیں۔
چند روز قبل یہ بھی ایسا ہی ایک معمول کا پروگرام تھا۔ قدرے کم قدر آور ٹی وی چینل پر قدرے کم معروف خاتون اینکر کا پروگرام تھا لیکن قسمت نے یاوری کی اور پروگرام میں دو مہمانوں کے درمیان تلخ کلامی اور لفظی ہاتھا پائی نے ایسا سماں باندھ دیا کہ عوام ، سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا پاگل ہو گئے ہیں۔ خاتون مہمان فون لائن پر تھیں مگر اسٹوڈیو میں بیٹھے مہمان نے ابے تبے ایسے ہی کی جیسے وہ بنفس نفیس ان کے منہ سے نکلنے والی جھاگ کی ذد میں ہو۔ نیو ٹی وی اور اینکر عائشہ احتشام پر قدرت مہربان ہو گئی۔
آٹھ مارچ کو حقوق نسواں کے عالمی دن کی مناسبت سے عورت مارچ کے حوالے سے گفتگو تھی۔ اس دن کی مناسبت سے خواتین اور بچیوں کو پیش آمدہ مسائل پر گفتگو ایک اختلافی نعرے کے ہاتھوں اغوا ہو گئی۔ ’میرا جسم میری مرضی‘ کے نعرے کو ماروی سرمد نے مارچ کے بنیادی نکتے کے طور پر پیش کیا۔ خلیل الرحمان قمر جو اپنی حالیہ ٹی وی سیریل کی کامیابی کے بعد ابھی تک ساتویں آسمان پر ہیں، انہوں اس نعرے کی تحلیل نفسی کا آغاز کرتے ہوئے اسے غلیظ قرار دیا۔ ماروی سرمد نے فوراً مداخلت کی۔ اس سے قبل خلیل الرحمان قمر موصوفہ کی بات خاموشی سے سنتے رہے۔ اپنی بات شروع کرنے سے قبل انہوں نے اپنی گفتگو میں مداخلت نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے بات شروع ہی کی تھی مگر دوسری جانب سے ٹوکنے پر وہ سیخ پا ہوئے۔ دوسری جانب سے چوٹ برابر کی تھی، جھٹ سے آداب گفتگو کا حجاب جاتا رہا اور شٹ اپ کا پہلا گولہ فائر ہوا ۔ جواب میں ہوش اور جوش کو تیاگ کر خلیل الرحمان قمر نے ان الفاظ کی گولہ باری کردی جس کا تعفن کراہت انگیز تھا اور لہجہ اس سے بھی گرا ہوا۔ پروڈیوسر نے پروگرام روکا نہ آواز خاموش کی۔ اینکر نے بے دلی سے گولہ باری میں وقفے کی گزارش کی لیکن ان کی دل کی مراد بر آ رہی تھی، کون کم بخت منع کر رہا تھا اور کون رستم زماں ممانعت سننے کے موڈ میں تھا۔
کس نے کیا کہا؟ مناسب تھا یا نہیں؟ پچھلے چند دنوں سے پوری قوم ، سوشل میڈیا اور میڈیا یہ قضیہ نمٹانے میں مصروف ہے۔ اس دوران نئی دہلی میں دنگا فسادات میں مسلمانوں پر قیامت بیت گئی؟ ملک میں کرونا وائرس نے سبز قدم رکھا، کراچی میں خستہ عمارت کے انہدام میں ڈیڑھ درجن لوگ جان سے گئے۔۔۔ مگر عوام ، سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا کو صرف ایک یہی مسئلہ درپیش ریا، میرا جسم میری مرضی ہے کہ نہیں۔
یہ نعرہ امریکہ میں اسقاط حمل کے حامیوں کا بیانیہ ہے۔ اس کے مخالفین اس نعرے پر آج بھی برہم اور چیں بہ چیں ہیں۔ اس نعرے کا سادہ ترجمہ کرکے یہاں عورت مارچ میں نمایاں کرنے والوں نے کامیابی سے میڈیا کی توجہ بھی حاصل کرلی اور دائیں بازو کو مشتعل کرکے بحثا بحثی کا ایک مستقل محاذ کامیابی سے بنا لیا۔ عالمی دن برائے حقوق نسواں اور مقامی خواتین کے سلگتے مسائل اور ایشوز اس بیانئے کے ہاتھوں اغوا ہو کر پس پردہ چلے گئے ہیں۔ روایتی لبرلز، سرخے اور قدامت پسند اپنا اپنا مورچہ سنبھال کر بیانئے کی لڑائی میں جت گئے ہیں۔
اس گھمسان کی لڑائی میں اب کسے ہوش ہے کہ پاکستانی خواتین میں کثیر تعداد کو شب و روز صنفی تعصب اور امتیاز کا سامنا کرنا پڑتا ہے، غیرت کی قربان گاہ پر قتل ہونا پڑتا ہے، جنسی ہراسگی کا شکار ہونا پڑتا ہے، تعلیم اور خوراک تک میں امتیاز کا عذاب سہنا پڑتا ہے۔ گھریلو تشدد کے عذاب کو کوئی عذاب سمجھنے پر آمادہ نہیں، وراثت میں قانونی حصہ ہڑپ کرنے کا کلچر مردانہ حق ٹھہرا، کئی بچیوں کو جنسی درندگی کا شکار بننا پڑتا ہے، گھریلو خواتین اور بچیوں کے حالات کار کا کوئی پرسان حال نہیں۔
کہاں تک سنو گے کہاں تک سنائیں لیکن قربان جائیں اشرافیہ کی ان چند خواتین اور خود ساختہ جدت طراز گروہ کے جنہوں نے ایک با مقصد عالمی دن کو اپنی انا کی تسکین اور شناخت کی بھٹی میں جھونک دیا۔ واری جائیں ان قدامت پسندوں پر بھی جنہوں نے اس عالمی دن کے مقاصد کو لبرلز اور قدامت پسندی کی جنگ میں جھونک کر اپنے روایتی حریف کے دانت کھٹے کرنے کا موقع ضائع نہیں ہونے دیا۔ اغوا کار بیانیہ بھلے چنگے اہم مقاصد کو اپنے جال میں پھنسانے میں کامیاب ٹھہرا ۔ مظلوم اور مجبور خواتین کااللہ وارث ہے۔ کچھ نہ کچھ کبھی نہ کبھی ان کا بھی بھلا ہو ہی جائے گا۔ فی الحال تو فریقین کی شناخت کی لڑائی کا ایک اور لاحاصل راؤنڈ ہی اہم ہے۔