امن معاہدہ توڑنے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں: ترجمان طالبان
- اتوار 08 / مارچ / 2020
- 4810
طالبان نے امریکی میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں کی تردید کی ہے کہ وہ 29 فروری کو امریکہ کے ساتھ طے پانے والے امن معاہدے کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔
طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے ایک ٹوئٹ میں امریکی ٹی وی پر نشر ہونے والے امریکی اہلکاروں کے ان دعوؤں کی تردید کی ہے۔ خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے دعویٰ کیا تھا کہ طالبان امریکہ کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ برقرار رکھنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ خبر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ امریکی فوج کے انخلا کے بعد طالبان افغان حکومت گرا کر خود اقتدار پر قابض ہو سکتے ہیں۔
سہیل شاہین نے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن معاہدے پر عمل درآمد تسلی بخش رفتار میں آگے بڑھ رہا ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبر میں کہا گیا تھا کہ امریکی انتظامیہ کے پاس انٹیلی جنس رپورٹیں موجود ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ طالبان سمجھوتے میں کیے گئے وعدوں کی پاسداری کا ارادہ نہیں رکھتے۔
اس سے قبل ایک بیان میں سہیل شاہین نے کہا تھا کہ اگر معاہدے کے تحت قیدیوں کا تبادلہ ہو جاتا ہے تو طالبان بین الافغان مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ بین الافغان مذاکرات کے لیے وفد اور ایجنڈے کو حتمی شکل دی جا چکی ہے۔
طالبان اور امریکہ کے درمیان 29 فروری کو طے پانے والے معاہدے کے باوجود افغانستان میں پرتشدد واقعات جاری ہیں۔ طالبان کی جانب سے افغان فورسز اور پولیس کے خلاف حملے کیے گئے جب کہ امریکہ نے بھی طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے۔ چند روز قبل کابل میں چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کی ریلی میں فائرنگ سے درجنوں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ البتہ اس حملے کی ذمہ داری دولت اسلامیہ (داعش) نے قبول کی تھی۔
حالیہ کشیدگی کے باعث بعض مبصرین اس معاہدے کے مستبقل کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ البتہ طالبان ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ معاہدے پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔ امریکہ اور طالبان نے 29 فروری کو طے پانے والے معاہدے میں 14 ماہ کے اندر امریکی فوج کے انخلا اور قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق کیا تھا۔
امن معاہدے میں طالبان نے امریکہ اور اس کی اتحادی افواج کے خلاف حملے نہ کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔ معاہدے میں یہ بھی شامل تھا کہ طالبان افغانستان کی سرزمین امریکہ سمیت دیگر ممالک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔