نگرانی کے بغیر نیب اختیارات بنیادی حقوق کے خلاف ہیں: اسلام آباد ہائی کورٹ

  • اتوار 08 / مارچ / 2020
  • 4040

اسلام آباد ہائی کورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے نگرانی کے بغیر اقدامات کو آئین کے تحت عوام کو ملنے والے بنیادی حقوق کے خلاف قرار دیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے نیب کے خلاف ایک پٹیشن پر فیصلہ سناتے ہوئے یہ ریمارکس دیے گئے۔ عدالت نے پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ڈائریکٹر جنرل عبدالصمد اور ڈائریکٹر امجد مصطفیٰ ملک کی براڈ بینڈ سیلیولر ٹیکنالوجی 4 جی کی نیلامی کے حوالے سے کیس میں ضمانت کی درخواستوں پر تفصیلی فیصلہ سنایا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کا بنچ  چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل تھا۔ بنچ نے قبل ازیں سابق پی ٹی آے حکام کو مختصر فیصلہ سناتے ہوئے ضمانت قبل از گرفتاری دی تھی۔ تفصیلی فیصلے میں عدالت نے وائٹ کالر جرائم کی تحقیقات کے لیے صلاحیت نہ رکھنے والے افسران کی تحقیقات میں خامیوں کی نشاندہی کی۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ گرفتاری کے اختیار کا منصفانہ، مساوی اور بلا امتیاز استعمال ضروری ہے۔ ملزم کی گرفتاری کا جواز پیش کرنے کے لیے کافی مواد ہونا چاہئے۔ یہ مواد  اس نوعیت کا ہونا ضروری ہے جو 1999 کے آرڈیننس کے تحت جرم میں ملزم کے ملوث ہونے کی نشاندہی کرے۔ ریکارڈ پر لائے گئے مواد میں غیر قانونی فائدہ حاصل کرنے کے مقصد کے ساتھ اس میں شریک ہونے کا عنصر بھی شامل ہونا چاہیے۔

عدالت نے کہا کہ بصورت دیگر ایک ملزم کی گرفتاری 1999 کے آرڈیننس کے تحت گرفتاری کے اختیارات کا غلط استعمال ہوگی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ  اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کسی ملزم کو آزادی کے حق سے محروم کرنے کا جواز پیش نہیں کریں گے۔ کیونکہ کسی بے ضابطگی یا غلط فیصلے سے مجرمانہ ارادے ظاہر نہیں ہوتے۔ 1999 کے آرڈیننس کے تحت گرفتاری کے اختیار کو بلا امتیاز، لاپرواہی یا غیرذمہ دار طریقے سے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ آئین کے تحت  بنیادی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

عدالت کا کہنا ہے کہ نیب انکوائری یا چھان بین کے دوران کسی ملزم کی گرفتاری کا حکم دینے کے اختیار سے نہ صرف نقصان دہ اثرات سامنے آتے ہیں بلکہ ان کے اہل خانہ پر بھی مضر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ ضمانت حاصل کرنے والے درخواست گزاروں نے نیب چیئرمین کی طرف سے گرفتاری وارنٹ جاری کرنے کے اختیارات پر سوال اٹھایا تھا۔ اور ایگزیکٹو پاور کے عدالتی جائزے کی درخواست کی تھی جس کے تحت انہیں آزادی سے محروم کرنا مقصود تھا۔

احتساب ادارے کے مطابق نیب چیئرمین نے اطلاعات ملنے پر 16 اکتوبر 2018 کو تحقیقات کے احکامات دیے تھے۔ تحقیقات کی اجازت دینے سے قبل انکوائری نہیں کی گئی تھی۔ متعلقہ افسروں پر الزام لگایا گیا کہ سیلیولر کمپنی کو 4جی/ایل ٹی ای ٹیکنالوجی کے استعمال کی اجازت دی کر پی ٹی اے حکام نے غیر قانونی فائدہ حاصل کیا جس سے 51 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کا نقصان ہوا۔

عدالتی حکم کہا گیا ہے کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ وفاقی حکومت اور مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) احتساب کے عمل کو موثر، شفاف اور منصفانہ بنانے کے لیے مناسب اقدامات کرنے پر غور کریں گے۔