پاکستان میں خواتین کے عالمی دن پر عورت مارچ اور دیگر ریلیاں
- اتوار 08 / مارچ / 2020
- 5270
خواتین کے عالمی دن پر پاکستان کے مختلف شہروں میں ریلیوں اور تقاریب کا اہتمام کیا گیا ہے۔ خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں کی جانب سے عورت مارچ جب کہ مختلف مذہبی جماعتوں کی جانب سے 'حیا مارچ' اور 'تکریم نسواں مارچ' کا اہتمام ہؤا۔
لاہور میں پریس کلب سے ایوان اقبال تک عورت مارچ کیا گیا جس میں خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ خواتین نے مختلف بینرز اور پلے کارڈز بھی اُٹھا رکھے تھے۔ ان پر خواتین کے حقوق سے متعلق نعرے درج تھے۔ ریلی کے شرکا کا کہنا تھا کہ خواتین کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ ریلی کے موقع پر سیکیورٹی کے بھی انتہائی سخت انتظامات کیے گئے۔ خواتین پولیس اہلکاروں نے ریلی میں سیکیورٹی کے فرائض سرانجام دیے۔
کراچی میں بھی فریئر ہال کے باہر عورت مارچ کا اہتمام کیا گیا۔ عورت مارچ میں شرکت کے لیے خواتین فریئر ہال کے باہر جمع ہو رہی ہیں۔ اسلام آباد سے وائس آف امریکہ کے نمائندے علی فرقان کے مطابق اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب کے باہر خواتین تنظیموں کی جانب سے عورت مارچ کا اہتمام کیا گیا ہے۔
نیشنل پریس کلب کے باہر جماعت اسلامی پاکستان کی جانب سے 'تکریم نسواں مارچ' کیا گیا۔ جس میں خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مارچ کے شرکا سے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے خطاب کیا۔ اُنہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی آئندہ کسی ایسے شخص کو انتخابی ٹکٹ نہیں دے گی جو اپنی بہن یا بیٹی کو حق وراثت سے محروم کرے گا۔
اسلام آباد کی جامعہ حفصہ کی طالبات نے بھی نیشنل پریس کلب تک ریلی نکالی۔ تنظیم منہاج القرآن کی جانب سے بھی اسلام آباد میں خواتین کے حقوق کے لیے مارچ کیا گیا۔ وائس آف امریکہ کے نمائندے شمیم شاہد کے مطابق پشاور میں بھی خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ریلیوں کا اہتمام کیا گیا ہے۔
ملتان میں خواتین کے عالمی کے حوالے سے منعقدہ مارچ میں 18 سال قبل پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی مختاراں مائی نے بھی شرکت کی۔ کوئٹہ میں بھی خواتین کے عالمی دن کے موقع پر تقاریب کا اہتمام کیا گیا۔