مادر سری معاشرے سے پدر سری سماج تک
- تحریر ظفر محمود وانی
- اتوار 08 / مارچ / 2020
- 13240
لاکھوں سال تک بنی نوع انسان صرف شکار پر ہی گزر اوقات کرتا رہا۔ یہی وہ دور تھا جب انسانوں کے گروہ شکار کے پیچھے پیچھے سفر کرتے ہوئے دنیا کے مختلف علاقوں میں پھیل گئے۔
ان دنوں بودو باش کا نظام کچھ اس طرح ہوتا کہ مردوں کے گروہ شکار کی تلاش میں دور دور تک پھرا کرتے، جبکہ عورتیں، بچے اور بوڑھے،ڈیرہ یا کیمپ میں قیام کرتے۔ دن بھر عورتیں چھوٹے بچوں کو ساتھ لٹکائے، کیمپ کے آس پاس جنگلی پھل، جڑی بوٹیاں، مختلف قسم کی بیریاں اور شہد وغیرہ تلاش کرتی رہتی تھیں اور ان اشیا کو شکار نہ ملنے کی صورت میں خوراک کے طور پر کام میں لایا جاتا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس وقت سوائے ادنی نوعیت کے ہتھیاروں اور کپڑے کے طور پر پہنی جانے والی کھالوں کے علاوہ ذاتی ملکیت کا تصور نہیں تھا۔ جو شکار اور اشیا دستیاب ہوتی تھیں، وہ اجتماعی طور پر ضرورت کے مطابق تقسیم کی جاتی تھیں۔ اس دور میں کیونکہ ڈیرہ اور اس کا انتظام، بچے اور ان کی پرورش اور بوڑھوں کی نگہداشت کی تمام ذمہ داری عورتوں پر ہی ہوتی تھی، اس لئے ڈیرہ یا کیمپ کے متعلق تمام فیصلے عورتیں ہی کیا کرتی تھیں۔ اس طرح یہ مادر سری معاشرہ تھا اور ڈیرے کے طے شدہ اصولوں اور قوانین کی خلاف ورزی پر مردوں کو کبھی ان جرائم کے ارتکاب پر ڈیرہ سے نکال بھی دیا جاتا تھا۔
خاندان سازی کے لئے جوڑے بناتے وقت عورت کی رائے اور مرضی کو ترجیح ہوتی تھی لیکن کسی علاقے میں شکار مستقل دستیاب نہیں ہوتا تھا اور شکار کی نقل مکانی کی وجہ سے شکاریوں کو بھی ان کے پیچھے ہی سفر کرنا پڑتا تھا۔ یہ عورتوں کے لئے سخت مشقت اور مشکل کا وقت ہوا کرتا۔ یہ بچے اور اسباب اٹھائے، بوڑھوں کو سہارا دیتی گرتی پڑتی شکاری گروہ کے پیچھے پیچھے سفر کرتی تھیں۔ ضرورت ایجاد کی ماں ہے تو غالب امکان یہی ہے کہ ایسی ہی طویل نقل مکانیوں کی وجہ سے ہی پہلی بار پہیہ ایجاد کیا گیا تھا کیونکہ سازو سامان سے لدے ہوئے گٹھوں کو زمین پر گھسیٹنے میں بہت قوت لگانی پڑتی تھی۔ کسی عقل مند بزرگ یا خاتون نے ان کے نیچے گول لکڑیاں وغیرہ رکھی ہوں گی کہ ان کو گھسیٹنا آسان ہو جائے۔ اسی طرح یہ قافلے کسی دوسرے علاقے میں جا کر پانی کے قریب کسی محفوظ جگہ کیمپ لگا لیتے۔
اسی دور میں ایسا ہوا کہ شکاری گروہ شکار کے ساتھ جنگلی بکریوں کے بچے بھی زندہ پکڑ کے لے آئے کہ کیمپ میں بچے ان کے ساتھ کھیلیں گے۔ اب ڈیرہ میں باڑہ بھی بنانا پڑ گیا کہ یہ جانور بھاگ نہ جائیں۔ آہستہ آہستہ جب جانوروں کے بچے بڑے ہو گئے تو خیال آیا کہ اگر شکار نہ ملے تو ان کو کھا کر بھی گزارا کیا جا سکتا ہے۔ یعنی یہ پالے ہوئے جانور خوراک کا زخیرہ ہیں۔ اسی وجہ سے آج تک ایسے پالتو جانوروں کو لائیو سٹاک کہا جاتا ہے یعنی ”زندہ زخیرہ“۔اب اس طرح جانور پالنے پرزیادہ توجہ دی گئی اور شکار کے لئے لمبی لمبی نقل مکانی کی زیادہ ضرورت نہ رہی، بلکہ اب ان پالتو جانوروں لے لئے گھاس وغیرہ کی کمی اور موسم کی شدت سے بچانے کے لئے نقل مکانیاں کی جانے لگیں۔ لیکن یہ سفر شکاری اسفار کی طرح نامعلوم زمینوں کی طرف نہیں بلکہ دیکھے بھالے علاقوں کی طرف کئے جانے لگے۔ آج کے بکر وال قبیلے اس جدہد دور میں بھی اسی قدیم ترین طریقہ کار کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔
تو اپنی کہانی دوبارہ شروع کرتے ہیں کہ جب پالتو جانوروں کو باڑوں میں گھاس وغیرہ ڈالی جاتی تو امکان یہی ہے کہ اس طرح کچھ بیج گھاس کی کسی قسم سے زمین پر گر کر بکھر گئے ہوں گے اور بارش وغیرہ پڑنے پر اگ آئے ہوں گے۔ تب کسی بزرگ نے جو اپنی عمر کی یا اور وجہ سے زیادہ چلنے پھرنے سے معذور ہو گا اور ایک ہی جگہ بیٹھا آس پاس کا مشاہدہ کرتا رہتا ہو گا، ان بیجوں کے اس طرح اگنے کا مشاہدہ کر کے تجربے کے طور پر کچھ بیج زمین میں ڈال کر ان کو اگانے میں کامیابی حاصل کر لی ہو گی۔ یاد رہے کہ گندم، چاول، جو، گنا وغیرہ بنیادی طور پر گھاس کی ہی اقسام ہیں۔ اس طرح نسل انسانی نے زراعت کے دور میں قدم رکھا۔ ان کو شکار کے لئے دور دراز پھرنے سے نجات مل گئی۔ اب مختلف قبائل نے اپنی طاقت اور افرادی قوت کے زور سے اچھی اچھی زرخیز زمینوں پر قبضہ کر لیا اور اس قبضے کے لئے بعض دفعہ طاقتور قبائل نے وہاں پہلے سے آباد کم تعداد والے کمزور قبائل کو بھگا کر یا غلام بنا کر قبضہ کرنا شروع کر دیا۔
پہلے کیونکہ غیر یقینی شکار یا محنت سے پالے گئے جانوروں پر گزارا ہوتا تھا تو زیادہ افرادی قوت کی ضرورت نہیں ہوتی تھی تاکہ تعداد اتنی زیادہ نہ ہو کہ شکار کا گوشت سب کو پورا نہ ہو سکے۔ لیکن زرعی پیداوار کی وجہ سے اب پہلی بار فالتو اور ضرورت سے زیادہ پیداوار زخیرہ ہونے لگی تو دو رواج شروع ہوئے۔ ایک تو اس زائد پیداوار کو چوری سے بچانا اور دوسرے کھیتوں میں کام کرنے کے لئے زیادہ افرادی قوت۔ اس لئے اب انسانوں کے گروہ ایک دوسرے پر ذخیرہ شدہ پیداوار لوٹنے اور کھیتوں میں کام کے لئے افرادی قوت کے حصول کے لئے دوسرے انسانوں کو غلام بنانے کا طریقہ شروع ہوا۔
اب معاشرے کی ضروریات بالکل تبدیل ہو گئیں۔ اب فیصلوں کی نوعیت اور ضرورت بھی بدل گئی تو اس زرعی سماج کے ساتھ ہی مادر سری معاشرہ زوال پزیر ہو کر پدر سری معاشرے میں بدل گیا۔ قدیم ترین مستقل انسانی آبادیاں اور گاؤں اسی دور میں قائم ہونے شروع ہوئے۔ اب قبیلوں کو پہلی بار کسی کو سردار مقرر کرنے کی ضرورت پڑی تاکہ دفاع، جنگ، پیداوار کے بارے میں فیصلے کئے جا سکیں اور اس طرح انسانی سماج نے مادر سری نظام سے پدر سری نظام تک کا سفر طے کیا۔