ہندوتوا بھارت کو کہاں لے جائے گا؟
- تحریر
- اتوار 08 / مارچ / 2020
- 6230
یہ ایک شدیدسفارتی خفت تھی کہ امریکی صدر کی نئی دہلی میں عین موجودگی کے وقت وہاں مسلم کش فسادات پھوٹ پڑے۔ اس سے قبل نریندر مودی کی حکومت امریکی صدر کو متاثر کرنے کے لئے بندروں تک کو قابو کرنے اور تاج محل کے سنگ مرمر کی چمک بحال کرنے کے لئے ہلکان ہو رہی تھی۔
اس دورے کے دوران تین دن تک نئی دہلی کی گلیوں بازاروں میں خاک و خون کا بازار گرم رہا، خنجر، لاٹھیاں، آتشیں ہتھیار اور پٹرول ہاتھوں میں پکڑے غول کے غول نئی دہلی کی گلیوں میں دندناتے رہے۔ شعلے کچھ سرد پڑے تو اندازہ ہوا کہ گجرات فسادات کے بعد یہ شدید ترین خونریز مسلم کش فسادات ہوئے۔ اس قدر بڑی سفارتی ہزیمت کے باوجود نئی دلی میں بی جے پی کی حکومت نے تین روز چپ سادھے رکھی۔ تیسرے روز وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک ٹویٹ کے ذریعے امن امان کی اپیل کرکے رسم نبھا دی لیکن عملاٌ ان فسادات پر کوئی پچھتاوا ظاہر کیا نہ یہ اندھیرگردی برپا کرنے والوں کے خلاف کوئی ایکشن لینے کا ارادہ ظاہر کیا۔ یوں جلتے گھروں اور دوکانوں کے شعلے سرد ہوئے تو انچاس سے زائد ہلاکتیں ہو چکی تھیں جن میں سے غالب اکثریت مسلمانوں کی تھی، سینکڑوں زخمی ہوئے اور ہزاروں خاندان مزید کسی تباہی سے بچنے کی کوشش میں نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ ان فسادات نے بھارت میں موجود بظاہرسیکولر معاشرت کی بھد اڑا دی۔
نئی دلی میں ممکنہ تصادم کا اندیشہ تو بڑھ رہا تھا لیکن اس کی ٹائمنگ اور شدت کا کسی کو اندازہ نہ تھا۔ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کے بعد شہریت کا امتیازی بل پاس ہوا تو ملک بھر میں احتجاج شروع ہو گیا۔ اس احتجاج میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ بلکہ ان سے کہیں زیادہ ہندو شہریوں نے آواز اٹھائی۔ اپوزیشن میں سب سے توانا آواز مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی کی تھی۔ احتجاج پر بی جے پی حکومت کا جواب شدید ترین تشدد کے طور پر سامنے آیا۔ مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ تو درکنار دہلی میں جواہر لال یونی ورسٹی کی لائبریری اور ہوسٹلز میں گھس کر طلباء اور طالبات کو نشانہ بنایا گیا۔ بے تحاشا ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں مگر بی جے پی کا اشتعال بڑھتا ہی چلا گیا۔
اس دوران شاہین باغ نئی دہلی میں مظاہرین نے سردی کی پروا کئے بغیر ایک طویل دھرنے کا آغاز کر دیا۔ خواتین اور بچوں کی اکثریت اور تمام مکتبہ ہائے فکر کے بھارتی شہریوں کی اس میں شرکت سے یہ دھرنا شہریت کے امتیازی قانون کے سامنے مزاحمت کی ایک علامت کے طور پر سامنے آیا۔ عالمی میڈیا نے بھی اس پر باقاعدگی سے رپورٹنگ کی۔ اس دھرنے کے ردِ عمل پر بی جے پی کی قیادت کی طرف سے شدیدمتعصبانہ اور متشدد جواب کے اشارے ملنا شروع ہو گئے۔ بی جے پی کے قیادت کے اعتبار سے دوسرے اہم ترین لیڈر امیت شاہ کے بیانات نے جلتی پر تیل ڈالا۔ بی جے پی کے ایک اور لیدر کپل مشرا کی تقریر نے تو گویا طبلِ جنگ بجا دیا۔
امریکی صدر کی موجودگی میں شروع ہونے والے یہ مسلم کش فسادات نئی دہلی میں 1984 میں سکھ فسادات کے بعد وسیع پیمانے پربرپا ہوئے۔ ان فسادات کے لئے باہر سے بھی لوگ لائے گئے جنہیں واردات کے بعد بھاگنے کا راستہ بھی پولیس سے پوچھنے کی ضرورت پڑی۔ ان فسادات میں نئی دہلی پولیس کا کردار بھی اتنا ہی بھیانک اور خوفناک رہا جتنا شرپسندوں کا۔ کئی ایسی ویڈیوز میڈیا پر وائرل ہوئیں جن میں واضح طور پر پولیس وردی میں ملبوس اہلکار فسادیوں کے ساتھ شامل ہیں۔ کئی ایک ایسی ویڈیوز بھی سامنے آئیں کہ جہاں پولیس فسادات کی جائے واردات پر موجود ہونے کے باوجود خاموش تماشائی بنی رہی۔ جس پولیس کو مظلوموں کو تحفظ دینا تھا اس کے یکطرفہ اور متعصبانہ کردار کے سبب مسلمانوں میں خوف اور عدم تحفظ کا احساس مزید بڑھ گیا ہے۔
یہ فسادات اچانک نہیں ہوئے بلکہ نفرت کے اس سفر کا ایک پڑاؤ ہے جو کئی دِہائیوں سے جاری ہے۔ ہندوتوا کا یہ سفر مختلف ناموں اور تنظیموں کے ساتھ آزادی کے بعد سے جاری رہا ہے۔ ہندوتوا کے اس ایجنڈے پر عمل پیرا لوگوں نے کبھی اپنے عزائم کو نہیں چھپایا کہ وہ بھارت کو ایک ہندو ریاست بنانا چاہتے ہیں۔ بی جے پی کو حکومت اور نریندر مودی کا وزیر اعظم کے منصب تک پہنچنے میں کانگرس اور دیگر سیاسی جماعتوں کی عوام میں گرتی ہوئی مقبولیت کا بھی عمل دخل ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ دخل سات دِہائیوں سے جاری ہندوتوا کے سفر ی تسلسل اور جنون کا بھی ہے۔
ہندوتوا کے سفر پر پر بھارت کے ایک نامور تاریخ دان اور جواہر لال نہرو یونی ورسٹی کے استاد ڈاکٹر ویکاس پاتھک کا ایک مضمون کئی نامور جرائد میں شائع ہوا ہے۔ خلاصہ اس مضمون کا یہ ہے کہ آزادی کے بعد سے ہی آر ایس ایس کی ذیلی سیاسی تنظیمیں الیکشن کے ذریعے متحرک ہوئیں لیکن انہیں خاص کامیابی نہ ملی۔ ساٹھ کی دہائی میں نام کی تبدیلی کے ساتھ دوبارہ کوششیں شروع ہوئیں۔ معمولی کامیابی تو ملی لیکن فیصلہ کن کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ اندرا گاندھی کی جانب سے لگائی گئی ایمرجنسی اور پھر ان کے قتل کے بعد بھارت کے سیاسی منظرنامے پر کایا پلٹ تبدیلیاں ہوئیں۔
اسی کی دِہائی میں بی جے پی قائم ہوئی، بابری مسجد کی شہادت کا واقعہ ہوا، ایل کے ایڈوانی رام رتھ یاترا لے کر ملک کے طول و عرض میں نکلے۔ دوسری طرف سیاسی طور پر واجپائی ایک قابلِ قبول اور قدرے معتدل مزاج کے قائد کی حیثیت میں ابھرے۔ بھارت کی اسی اور نوے کی دہائی کی سیاست علاقائی جماعتوں کے ساتھ بنتے بگڑتے اتحادوں سے عبارت رہی۔ ان اتحادوں میں بی جے پی نے اپنی نمایاں سیاسی پوزیشن بنا لی۔ واجپائی وزیر اعظم بنے تو بھی اتحاد کے سر پر بنے لیکن اپنی مدت پوری کرنے میں کامیاب رہے۔ اس دوران ہندوتوا کے ایجنڈے کو درکار انتظامی اور سیاسی قوت میں فیصلہ کن اضافہ ہوا۔
واجپائی کے منظر سے علیحدہ ہونے کے بعد بی جے پی کا اصل چہرہ ایڈوانی بنے جن کی پوری سیاسی زندگی ہندوتوا کے ایجنڈے کو بڑھانے میں صرف ہوئی۔ کانگرس وو ٹر حکومت کرنے کئے باوجود پاپولر حمایت گنوا بیٹھی۔ خصوصاً دوسری مدت میں کرپشن کے الزامات نے ان کی حیثیت کو کاری ضرب لگائی۔ کانگرس میں قیادت کے بحران نے ایک خلاء پیدا کیا جسے بی جے پی نے پر کیا۔ نریندر مودی کی شعلہ بیانی، کشش اور اس سے جڑی کارپوریٹ میڈیا مشینری نے اسے ایک مسیحا کے طور پر پیش کیا۔ پہلی ٹرم میں نریند ر مودی نے بظاہر ایک اصلاحات پسند کا امیج بنانے کی کوشش کی لیکن دوسری ٹرم شروع ہوتے ہی ایک پراسرار انداز میں ہندوتوا ایجنڈے کے شدید پرچارک بی جے پی کی لیڈرشپ پر فائز ہوگئے۔ اب نریندر مودی کے بعد سب سے طاقتور شخص ہوم منسٹر امیت شاہ اور تیسرے نمبر پر یو پی کا وزیر اعلیٰ گوپی ناتھ۔ اس سیاسی قیادت کی موجودگی میں سات دَہائیوں سے جاری ہندوتوا کے ایجنڈے کے لئے میدان اب کھلا ہے۔
پارٹی کے اندر اعتدال کی کوئی آواز نہیں ہے۔ قومی وحدت پر اب ہندوتوا کا جنون غالب ہے، اس جنون میں واضح ٹارگٹ مسلمان ہیں۔ دوسری طرف بھارت کی عالمی معاشی اور سیاسی انتظام میں اہمیت نے دنیا کو مصلحت پسندی کی چادر اوڑھنے پر مجبور کر رکھا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بھارت کی ترقہ اور ہندوتوا کا سفر اکٹھے چل سکتا ہے یا نہیں؟ آنے والا وقت بھاری لگ رہا ہے۔