سعودی عرب میں شہزادوں کے بعد فوجی افسروں کی گرفتاریاں
- سوموار 09 / مارچ / 2020
- 8670
سعودی عرب میں شاہی خاندان کی گرفتاریوں کے بعد سیکیورٹی کریک ڈاؤن کو توسیع دی گئی ہے۔ اس دوران حکومتی عہدیداران اور فوجی افسروں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل کے مطابق یہ اقدام سعودی ولی عہد کی جانب سے اپنے اقتدار کے لیے ممکنہ چیلنجز کو ختم کرنے کےلیے اٹھایا گیا۔ سعودی حکام نے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے بھائی اور بھتیجے سمیت 3 شہزادوں کو
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی شاہی خاندان کے افراد کی جانب سے بغاوت کی مبینہ منصوبہ بندی پر گرفتاری کے ایک روز بعد امریکی اخبار نے کہا تھا کہ زیر حراست افراد میں انٹیلیجنس کے سابق فوجی سربراہ شہزادہ نائف بن احمد بھی شامل ہیں۔ کارروائیوں میں توسیع کو بغاوت کی حمایت کی کوشش کرنے والے وزارت داخلہ کے درجنوں عہدیداران، سینئر فوجی افسران اور دیگر ملزمان تک پھیلا دیا گیا ہے۔
امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق 2 سعودی شہزادوں کی گرفتاری کے بعد ممکنہ بغاوت یا شاہ سلمان کی صحت کی اچانک خرابی کی قیاس آرائیاں جاری تھیں۔ جس کے تناظر میں اتوار کے روز سرکاری میڈیا میں سعودی فرماں روا کی ایک تصویر جاری کی گئی جس میں وہ بظاہر اچھی صحت میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔
شاہی خاندان کے 2 قریبی افراد کا کہنا ہے کہ دونوں شہزادوں کی گرفتاری ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ تعاون نہ کرنے پر عمل میں آئی جنہوں نے اپنے والد کی حمایت سے اقتدار کی ہر سطح پر اپنا کنٹرول مستحکم کرلیا ہے۔
اس کے علاوہ سعودی فرماں روا کے چھوٹے بھائی شہزادہ احمد بن عبدالعزیز اور بھتیجے محمد بن نائف کی گرفتاری کو سعودی عرب میں ذرائع نے قیادت کے لیے اشتعال انگیز طرزِ عمل قرار دیا تھا۔ ذرائع نے یہ بھی کہا تھا کہ ان گرفتاریوں سے شاہی خاندان میں ہر اس شخص کو پیغام دیا گیا ہے جو احساس محرومی رکھتا ہے کہ اپنی صفیں درست کرلیں اور خاموش ہوجائیں کیوں کہ اگر شہزادہ احمد بن عبدالعزیز گرفتار ہوسکتے ہیں تو کوئی شہزادہ بھی گرفتار ہوسکتا ہے۔
کریک ڈاؤن کی رپورٹس جمعہ کو سامنے آئی تھیں جس کے بعد جاری کردہ ایک تصویر میں شاہ سلمان 2 سعودی سفارتکاروں سے حلف لیتے نظر آئے تھے۔ واضح رہے کہ گرفتار ہونے والے شہزادے محمد بن نائف پہلے سے ہی سرکاری نگرانی میں تھے کیوں کہ انہیں 2017 میں جانشینی کے دوڑ سے نکال دیا گیا تھا۔
شہزادہ احمد بن عبدالعزیز کی گرفتاری غیر متوقع تھی کیوں کہ وہ شاہ سلمان کے حقیقی چھوٹے بھائی اور السعود خاندان کے ایک سینئر رکن ہیں۔ تاہم وہ شہزادہ احمد ولی عہد کے حوالے سے مخالفانہ نظریات رکھتے تھے اور ان چند سینئر شہزادوں میں شامل ہیں جنہوں نے سعودی ولی عہد کے منصب سنبھالنے پر ان کی بیعت لینے سے انکار کردیا تھا۔