عورت مارچ سے ثقافتی تضاد ابھر کر سامنے آگیا: وزیراعظم

  • بدھ 11 / مارچ / 2020
  • 4380

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ 8 مارچ کو کئے گئے عورت مارچ سے ثقافتی تضاد ابھر کر سامنے آ گیا ہے۔ اس کی وجہ ملک کا  دوہرا تدریسی نظام ہے۔

اسلام آباد میں 20 ہزار گھروں کی تعمیر کے 7 منصوبوں کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سرکاری اور نیم سرکاری اسکولوں میں مختلف نصاب کی وجہ سے ثقافتی تضاد گہرا ہؤا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ نجی اسکولوں میں بھاری فیس دے کر تعلیم حاصل کرکے جب معاشرے کو دیکھتے ہیں تو انہیں بے پناہ خامیاں نظر آتی ہیں۔ اسے عورت مارچ کی صورت میں دیکھا جاسکتا ہے۔ وزیر اعظم نے اس کمی کو دور کرنے کا وعدہ کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ آئندہ برس تک وزارت تعلیم تمام سرکاری اور نجی اسکولوں کے لیے ایک نصاب پر مشتمل ایک لائحہ عمل پیش کرے گی تاکہ تدریسی اداروں سے ایک قوم ابھرے اور ثقافتی تفریق ختم ہو۔  واضح رہے کہ 8 مارچ کو خواتین کے عالمی کی مناسبت سے پاکستان کے مرکزی شہروں میں عورت مارچ منعقد کی گئی جس میں خواتین کے ساتھ مردوں نے بھی شرکت کی تھی۔ عورت مارچ کے مقابلے میں مذہبی جماعتوں نے بھی ریلیاں منعقد کی تھیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے اسمبلی میں نئے گھروں سے متعلق سوال اٹھائے لیکن صرف پہلا قدم اٹھانے میں تاخیر ہوتی ہے کیونکہ اس میں متعدد مراحل شامل ہوتے ہیں۔ اس کے بعد تمام امور احسن طریقے سے حل ہوجاتے ہیں۔  عمران خان نے کہا کہ حکومت گھر نہیں بنا سکتی بلکہ پرائیوٹ سیکٹر اور بینکوں کی بدولت گھر عام آدمی کو دے رہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ تعمیراتی صنعت کو در پیش مشکلات یا رکاوٹیں دور کرنے کے لیے کوشاں ہیں اور ہاؤسنگ اسکیم سے وابستہ 40 صنعتیں پروان چڑھیں گی اور ملازمت کے مواقع پیدا ہوں گے۔

وزیر اعظم عمران خان نے اس اقدام سے بے گھر افراد کو چھت کی فراہمی کا وعدہ پورا ہوگا۔ فنانسنگ کی سہولت سے تنخواہ دار طبقے کا اپنے گھر کا خواب پورا ہوگا۔