ریاستی سطح پر چند بڑے چیلنجز

پاکستان نے اگر ایک درست سمت کو اختیار کرنا ہے اور خود کو داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر ایک مہذب اور ذمہ دار معاشرے سمیت ترقی اور خوشحالی میں تبدیل کرنا ہے تو ہمیں ایک نئے کردار اور فکر کی طرف توجہ دینی ہوگی۔

 موجودہ ریاستی نظام  میں کئی سطح پر بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ انقلاب او راصلاحات میں سے جمہوری راستہ اصلاحات کی طرف توجہ دیتا ہے او راسے اگر ہم نے غیر معمولی انداز میں اپنی ترجیحات کا حصہ نہ بنایا تو یہ عمل پہلے سے موجود کمزورریاستی نظام کومزید کمزور کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ یقینی طور پر ریاست کی سطح  پرجو چیلنجزہیں وہ کسی سیاسی تنہائی میں حل نہیں ہوں گے۔ اس کے لیے ایک بڑی مشاورت اور اتفاق رائے پر مبنی سیاست کو آگے بڑھانا ہوگا۔

مسئلہ یہ ہے کہ ہماری سیاست،جمہوریت، حکمرانی کانظام، ادارہ جاتی عمل او رانتظامی ڈھانچہ اپنے اندر بہتری کے تناظر میں کئی بڑی تبدیلی کو ناگزیر سمجھتا ہے۔ لیکن اس تبدیلی کے لیے تمام فریقین کس حد تک تیار ہیں اور خود سے وہ کیا عمل کرنا چاہتے ہیں جو ریاستی نظام میں پہلے سے موجود خرابیوں کو کسی بہتری کی شکل دے سکیں۔ایک مسئلہ ریاستی فہم و فراست، ادارک اور تدبر سمیت سمجھ بوجھ کا ہے کہ ہم کس حد تک اپنی سطح پر اپنے مرض کی درست تشخیص کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ہمیں اپنی ترجیحات کا تعین کرنا آتا ہے۔کیونکہ ریاستی نظام میں جو ٹکراؤ یا ایک دوسرے پر عدم اعتماد یا بھروسہ کی کمی کا مسئلہ ہے وہ خود مسائل کے حل میں ایک بڑی رکاوٹ بن گیا ہے۔

اصل بڑا چیلنج ریاست، حکومت اور عوام کے درمیان باہمی تعلق کا ہے۔ اس مسئلہ ہم عمومی طور پر سٹیزن شپ پیکٹ کہتے ہیں یعنی تمام فریقین کا ایک دوسرے پر اعتمادا اور بھروسہ ہوتا ہے۔ اس وقت معاشرے میں موجود امیر اور غریب کی تقسیم سمیت جو مختلف نوعیت کی محرومیوں پر مبنی سیاست ہے اس نے کمزور اور عام آدمی کا ریاستی رشتہ کمزور کیا ہے۔ اس وقت سب سے بڑی توجہ کا مرکز بڑے طاقت ور اور مالی طو رپر مستحکم افراد کے مقابلے میں کمزور اور محروم طبقات کو اپنی بنیادی نوعیت کی ترجیحات کا حصہ بنانا ہوگا جس میں خاص طور پر شہریوں کے بنیادی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانا ریاست او رحکومت کی بنیادی بڑی ذمہ داری کے زمرے میں آتا ہے۔

ایک مسئلہ  سیاست اور جمہوریت سمیت حکمرانی کے نظام میں شفافیت کے نظام سے جڑا ہے۔ عملی طور پر ہماری سیاست او رجمہوریت کا جو بڑا گٹھ جو ڑ کرپشن اور بدعنوانی کی سیاست سے جڑا ہوا ہے اس کو کمزور یا ختم کرنا ہی ایک بامقصد سیاست اور جمہوری عمل کو تقویت دینے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ٹرانسپرینسی انٹرنیشنل نے بھی اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں انتباہ کیا ہے کہ اگر سیاست او رپیسے کے کھیل کے درمیان کوئی بڑی دیوار قائم نہیں کی گئی تو شفافیت پر مبنی نظام محض خواب ہی رہے گا۔ کیونکہ جب سیاست دولت کا کھیل بن جائے اور اس کی مدد سے عوامی خدمت کے مقابلے میں مالی منافع کمانا مقصد بن جائے تو اس سے سیاسی عمل خراب یا بگاڑ کا جہاں سبب بنتا ہے وہیں یہ سیاسی کھیل دولت مند وں کے ہاتھوں یرغمال بن جاتا ہے۔

پاکستان میں سیاست، جمہوریت، حکمرانی اور دولت کے کھیل پر سب ہی فریقین تنقید تو کرتے ہیں مگر اس کی اصلاح کے لیے کوئی بڑا قدم اٹھانے کے لیے تیار نہیں۔ وجہ صاف ہے کہ جب سیاست میں فیصلے ہی ان ہی لوگوں کے ہاتھوں میں ہوں گے جو دولت کی بنیاد پر سیاست اور جمہوریت کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں تو ا ن سے بڑی تبدیلی کی توقع مشکل بن جاتی ہے۔ سیاسی قیادت کے اردگرد وہی لوگ زیادہ قابض ہوجاتے ہیں جو دولت کی بنیاد پر سیاسی جماعتوں اور سیاسی قیادتوں کی ضرورت ہوتے ہیں۔ اب اس کا علاج تلاش کرنا بھی عملی طور پر سیاست اور ریاست سے جڑے فریقین ہی کی ذمہ داری ہے ۔لیکن یہ کام اسی صورت میں ہوگا جب رائے عامہ سے جڑے افراد یا ادارے سمیت سیاسی جماعتوں کے اندر رسے ایک بڑے دباؤ کی سیاست بیدا ر ہوگی۔

ایک مسئلہ ملک میں بجلی کے بحران کا ہے۔ اس بحران کا براہ راست تعلق ملک کی معاشی صورتحال اور مجموعی معاشی ترقی سے جڑا ہوا ہے۔ اس بحران کا براہ راست جہاں عام آدمی پر پڑتا ہے وہیں ہماری صنعت بھی اس سے براہ راست متاثر ہوتی ہے۔ اس بحران کی ایک بڑی وجہ ماضی کے بیشتر حکمرانوں وہ غلط معاہدے ہیں جو ہم بجلی پیدا کرنے یا ان کے ٹیرف طے کرنے کے حوالے سے مختلف فریقین سے کیے ہوئے ہیں۔ اس پر سیاسی جماعتوں او رمختلف حکومتوں کے درمیان الزام تراشی کا کھیل زیادہ نمایاں نظر آتا ہے اور ہر فریق اس بحران کی ذمہ داری خود لینے کی بجائے دوسروں پر ڈال کر خود کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بجلی پیدا کرنا، بجلی کی چوری، بجلی کے بلوں کی شفاف ادائیگی اور بجلی کی قیمتوں کا تعین کرنے کا سارا نظام ہی بگاڑ کا شکارہے۔ ہمیں بجلی کے ٹیرف کو علاقائی ممالک سے جوڑنا ہوگا او رجو سہولتیں یا ٹیرف علاقائی ممالک میں ہیں ان کی مدد سے ہی آگے بڑھ کر ہم اس بحران سے نمٹ سکتے ہیں۔پاکستان نے بطور ریاست اگر بجلی کے بحران کو تمام فریق کی مدد سے حل نہ نکالا تو اسے ہماری معاشی ترقی کا عمل پیچھے رہ جائے گا۔

اسی طرح احتساب کے نظام کو مضبوط بنانے سے ہے۔ اگرچہ موجودہ احتساب کا نظام عدم شفافیت پر مبنی ہے او ربہت سے لوگ موجودہ نیب کے احتسابی نظام سے نالاں نظر آتے ہیں۔پاکستان کی موجودہ حز ب اختلاف تو اس احتساب کے نظام اور نیب کے ادارہ کے خاتمہ پر زور دیتی ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ نیب کی موجودگی سے قطع نظر ہمارا احتساب کا نظام کیا ہونا چاہیے او رکیسے اس نظام کو شفافیت پر مبنی بنایا جاسکتا ہے۔نیب کو اگر اتفاق رائے سے ختم کرنا ہے تو سیاسی فریقین یہ کرسکتے ہیں۔ لیکن اس کا متبادل نظام کیا ہونا چاہیے اس پر کوئی بحث کے لیے تیار نہیں۔ اگر منطق یہ دی جاتی ہے کہ پہلے سے مروجہ نظام کو ہی بنیاد بنا کر احتساب کے عمل کو آگے بڑھایا جائے تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نیب سے پہلے ہمارے ادارے کیا کررہے تھے اور اس کی فعالیت کیا تھی اور کیوں سیاسی جماعتیں ملک میں ایک شفاف احتساب کے نظام کو قائم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

موجودہ احتساب میں اداروں نے تمام اوپر سے لے کر نیچے تک کے فریقین میں ایک خوف کی کیفیت پیدا کردی ہے اور مختلف فریقین ڈر اور خوف کی وجہ سے اداروں کے ساتھ بڑے مجرموں کے خلاف تعاون کرنے لیے تیار نہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ کوئی بھی ادارہ اگر نیک نیتی سے بھی احتساب کرنا چاہے تو اسے مختلف محاذ پر مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔اس کے لیے ہمیں نچلی سطح اور اداروں جاتی پر کچھ طبقات بالخصوص بیوروکریسی کی سطح پر احتساب میں تعاون کے تناظر میں عام معافی یا کچھ رعائتیں دینی پڑیں گی تاکہ وہ کسی بڑے شکنجے میں نہ جکڑیں جائیں۔ تاکہ جو بھی لوگ احتساب کے نظام میں خود کو تعاون کے لیے پیش کرنے کے لیے تیار ہیں ان میں اعتماد پیدا ہو۔

یہ بات اہل دانش کی سطح پر سمجھنی ہوگی کہ کوئی بھی جمہوریت یا سیاست شفاف نظام یا جوابدہی کے نظام کے بغیر ممکن نہیں۔ احتساب کو سیاست او رجمہوریت کے لیے خطرہ سمجھنا اور اس پر پردہ یا خاموشی اختیار کرنا مسائل کاحل نہیں۔ ہمیں احتساب کے حوالے سے کچھ بڑے اقدام کرکے مستقبل کی طرف بڑھنا ہوگا۔ ہمیں اپنے قوانین، پالیسیوں، نگرانی اور شفافیت سمیت جوابدہی کے نظام میں غیر معمولی طور پر کام کرنا ہوگا۔اسی طرح ملک کو آگے بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم افراد کے مقابلے میں تمام سیاسی، انتظامی، قانونی اور سماجی ادارہ جاتی عمل کو مضبوط بنائیں اور وہی معاشرے آگے بڑھتے ہیں جو قانون کی حکمرانی اور اداروں کی حقیقی پر نہ صرف بالادستی پر نہ صرف یقین  رکھتے ہیں بلکہ اس کو عملی طور پر مستحکم بھی کرتے ہیں۔

ہمیں خود کو ایک انتہا پسنداور پرتشد دمعاشرے کے مقابلے میں امن پسندی اور ہر قسم کی پر تشدد سیاست کرنے والوں سے لاتعلقی، ان کے خاتمہ او رعلاقائی امن میں خود کو ایک بڑے فریق کے طور پر پیش کرنا ہوگا۔ا س وقت جو ہماری عالمی تصویر میں مثبت اشارے ابھرے ہیں ان کوبنیاد بنا کر ان کو اور زیادہ داخلی اور خارجی سیاست میں مستحکم کرنا ہوگا۔اسی طرح ان تمام مسائل کو حکومتی مسائل سے زیادہ ریاستی مسائل سمجھ کر مسائل کی کنجی تلاش کرنا ہوگی او ریہ ہی ہماری ریاستی بقا سے جڑا سوال بھی ہے۔