کورونا چین کی ایک شہزادی

کورونا چین کی ایک شہزادی تھی۔ جسے ہم ین میں تول رہے تھے اور اس پر ڈالروں کی بارش کر ریے تھے۔ مگر اس حسین دوشیزہ، خوابوں کی ملکہ، دلکش و دلپذیر خوبرو اور نوجوان ماہ لقا کا انکو بیشن وقفہ بہت تھوڑا تھا۔

جس سے ہمارا گلے ملنے کو دل مچلتا تھا، جسے ہم فٹبال کے میچ، مذہبی جلسے، عورت مارچ ہر جگہ لے جاتے تھے، بڑے چاؤ سے اپنے پاس بٹھاتے تھے۔ اس کی آغوش میں سر دیے بیٹھنا اچھا لگتا۔ اب اس کی خوبصورت اور دل موہ لینے والی جوانی ڈھل گئی ہے اور یہ ایک بھیانک سی ڈائن کی شکل اختیار کیے، چین سے نکل کر ہمالہ کو عبور کر کے الپائن میں ڈیرا ڈال رہی ہے۔  تو ہم سب اس سے پیچھا چھڑانے کے لیے چھپتے پھر رہے ہیں ۔ مذہب کے ٹھیکہ دار کہہ رہے ہیں کہ مذہب نے اسی لیے معانقہ اور سر عام بوس کنار سے منع کیا ہے۔ اور سر چھپا کر اور تن ڈھانپ کر رکھنے کو کہا ہے، سو اب اس کی سب پیروی کر رہے ہیں۔ کہاں کھلے عام بے حیائی اور کہاں یہ کہ محرم کے ہاتھ میں بھی ہاتھ بھی نہ دو۔ ایسے میں مرد وعورت کی تخصیص کہاں۔ ایسا لگ رہا کہ یہ کورونا بیماری نہیں مذہب کی  پرچاری ہے۔ یا یہ بائیولوجیکل جنگ ہے۔ 

وائرس کمپوٹر کو خراب کرنے کا باعث  ہو یا انسانی جسم کو اب دونوں طرح کے ہی وائرس تجربہ گاہ سے ہی بھاگے ہوئے یا بھگائے ہوئے ہوتے ہیں۔ اور دونوں وائرس کے اینٹی وائرس بھی وائرس کے خالق کے پاس ہی ہوتے ہیں۔ گویا وائرس کا موجد نہ ہوا کوئی بھگوان ہوگیا۔ دونوں طرح کے وائرس سے بچاؤ میں تیر بہدف نسخہ وہی ہے جو مذہب کہتا ہے۔ غیر مانوس سے تعلق  نہ رکھ۔

کمپوٹر میں کبھی یہ مانا جاتا تھا کہ نا معلوم 'اسٹیک' نہ لگاؤ وائرس آجانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ لیکن یہ دور بھی گیا۔ اب گھر بیٹھے آن لائن اور گلوبلائزیشن کے دور میں ایسے وائرس گھر بن بلائے مہمان کی طرح آجاتے ہیں۔ ورنہ یورپ میں کسی کو معلوم بھی نہیں کہ دلی کب اور کتنی بار اجڑ کر بسی اور یہ کہ طاعون سے اجڑی تھی۔ اسی طرح یورپ کب کب کون کون سی وبا کا شکار رہا ہے۔ مگر اب تو یہ چین کی شہزادی کے اغوا کہانی بن چکی ہے۔ اسے اٹھا کر شمالی امریکہ کا ایک جن لے گیا ہے اور اس خوبصورت شہزادی کے بدلے میں ایک ڈائن چھوڑ گیا ہے۔

چین کی شہزادی کی 'جان' اس نے اس کی ہم نام کورونا ڈائن میں ڈال دی ہے۔ اب یہ چینی شہزادی کے چاہنے والے شہزادے اور شمالی امریکہ کے جن کے مابین جنگ ہے۔ جب جب شہزادہ اس ڈائن کورونا پر آخری وار سمجھ کر حملہ کرتا ہے۔ ایک نئی 'وار' چھڑ جاتی ہے۔ کورونا پر حملے سے تیل کا بیوپار بھی متاثر ہورہا ہے۔ شہزادہ بھرپور حملے سے گھبراتا ہے کہ کہیں وہ کورونا ڈائن پر حملہ کرتے کرتے اصلی شہزادی کو نہ زخمی کرڈالے۔ دونوں ہم نام و ہم شکل جو ٹھہریں۔

کورونا وائرس کے تجربہ گاہ سے بھاگ نکلنے، پھیلنے اور متاثرین کی ہلاکت پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس سلسلے میں بہت کچھ داؤ پر لگا ہے۔ انسانی جان کی ہلاکت ایک طرف، معیشت کی بدحالی تیل کی گرتی قیمت اور بے قابو جن، ڈالر۔ یارب یہ سمجھیں ہیں سمجھیں گے میری بات۔مرگ بر کورونا وائرس۔