کورونا وائرس سے زیادہ افواہ ساز متحرک

  • تحریر
  • جمعرات 12 / مارچ / 2020
  • 5550

کہنے سننے میں  ہمیشہ یہی آیا کہ خالی ذہن شیطان کی آماجگاہ ہوتا ہے۔ بھلے وقتوں میں بڑے بوڑھے پہلی فرصت میں اپنے نوجوان لڑکے بالوں  کی شادی اس بنا پر  جھٹ کر دیتے کہ بے کار نہ پھرے ۔

نوکری کا کیا ہے آج نہیں تو کل مل ہی جائے گی۔ مگر خالی ذہن کی ایک آدھ شیطانی اگر سرزد ہو گئی تو پورا خاندان عذاب بھگتتا پھرے گا۔ زمانہ بدلا ہے تو بڑے بوڑھوں کی یہ پریشانی اب جاتی رہی ہے۔ نوکری ہے یا نہیں، آج کل لڑکے بالے ایک پل بھی بے کار نہیں بیٹھتے۔ اللہ بھلا کرے جس نے انٹرنیٹ، موبائل اور سوشل میڈیا ایجاد کیا کہ اب بے کار سب سے زیادہ "مصروف" ہوتے ہیں۔ بقول  ہمارے دوست کے: بھائی کیا پوچھتے ہو ایک دھیلے کا کام نہیں مگر ایک سیکنڈ کی فرصت بھی نہیں ہے۔ 

ایک زمانے میں پھر بھی آنے جانے والے عرضی نویس سے پوچھ کر پرائے معاملے میں مداخلت کرتے تھے، بھائی اگر کسی کو خط لکھ رہے ہو تو ہمارا سلام لکھ دینا۔ اگر کسی کے خلاف عرضی لکھ رہے تو ہماری گواہی لکھ دینا۔ اب سوشل میڈیا کی بدولت بات سلام دعا یا گواہی تک محدود نہیں بلکہ دوسروں پر تنقید کے اندھا دھند نشتر برسانے کے لئے اب 24/7 فیس بک، واٹس اپ، ٹک ٹاک، انسٹاگرام  سمیت الم غلم بے تحاشا ایپس ہاتھ لگ گئی ہیں۔ ہر کوئی بلا مبالغہ مبصر بھی ہے اور دوسروں کا جج بھی۔ ادھر کسی پوسٹ کی صورت استغاثہ پیش ہوا  ادھر انہوں نے جھٹ سے فیصلہ سنا ڈالا ۔ 

سوشل میڈیا کے اس دور بے قرار میں فیک نیوز نے بھی خوب رواج پایا ہے۔صدر ٹرمپ نے فیک نیوز کی حرافہ کو ہمیشہ آڑے ہاتھوں لیا۔ جس کے سبب فیک نیوز کی شہرت ساتویں آسمان تک جا پہنچی ہے۔ لائکس کی اشتہا نے سوشل میڈیا پر فیک نیوز کو کھل کھیلنے کا موقع دیا ہے۔ فیک نیوز کورونا کی بڑھتی ہوئی بھرمار میں اب یا حقیقت پرکھے بغیر معلومات دینے والی ویب سائٹس کا  کام چل نکلا ہے۔

  وائرس وویان چائنا میں دریافت ہوا اور پھر پھیلتا ہی چلا گیا۔ ہزاروں متاثر ، سینکڑوں  ہلاک ہوئے۔ شہر لاک ڈاون ہوئے، سفر ممنوع ٹھہرے، چین میں خوف و ہراس اور زندگی سہم گئی مگر ہمارے ہاں سوشل میڈیا ایکسپرٹس کو اٹھکیلیوں کا سامان مل گیا،  پیاز، لہسن، ادرک سمیت ایسے ایسے نسخے شرطیہ اثر کے ساتھ پیش کئے الحفیظ و الامان۔

اب کورونا وائرس کے سبز قدم پاکستان کی سرزمین پر آن پڑے ہیں تو علاج کے نسخوں کی عطا میں کچھ کمی آئی ہے۔ مگر اب سوشل میڈیا بےچین ہے کہ حکومت چھپا رہی ہے۔ کسی نے کراچی کے فلاں فلاں ہسپتال میں سینکڑوں مریض خود دیکھے جس کی خبر حکومت نے چھپائی۔ کسی کو پکی خبر ہے کہ لمز یونیورسٹی میں تین طلباء کو کورونا وائرس لگ گیا مگر یونیورسٹی چھپا رہی ہے۔ کسی کا کزن بیرون ملک سے اج ہی آیاتو ائرپورٹ پر کورنا وائرس جانچنے کا سرے سےکوئی انتظام نہ تھا وغیرہ وغیرہ۔ فیک نیوز کی آڑ میں اذیت پسندی اور تماش بینی کی علت کو ایک پل چین نہیں۔حکومت اور الزام رسیدہ ادارے وضاحتوں پر وضاحتیں دے رہے ہیں مگر سوشل میڈیا کی عقابی نظریں دھڑا دھڑ وہ سب بیان کر رہی ہیں جو کسی اور کو دکھائی نہیں دیتا۔

کورونا وائرس سے دنیا وحشت زدہ ہے، کاروبار اور روزمرہ کی زندگی الٹ پلٹ ہو کر رہ گئی ہے مگر پاکستان میں کورونا وائرس پر تماش بینی کا ایک نیا باب کھل گیا ہے۔ تازہ ترین  مئں سے ایک کچھ یوں سنا۔ چھٹی کی درخواست کچھ یوں پیش ہوئی، مجھے کورونا وائرس فلو ہے ، دفتر سے دو ہفتے کی رخصت دی جائے۔ درخواست کی نامنظوری کی صورت میں فدوی کل دفتر پہنچ جائے گا، پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی۔