جنگ گروپ کے سربراہ میر شکیل الرحمان کو گرفتار کرلیا گیا

  • جمعرات 12 / مارچ / 2020
  • 4640

قومی احتساب بیورو  نے جنگ گروپ کے سربراہ میر شکیل الرحمان کو گرفتار کر لیا ہے۔  نیب کے ترجمان نے جنگ گروپ کے سربراہ میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔ اُن پر سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں 54 پلاٹ حاصل کرنے کا الزام ہے۔

اس سے پہلے نیب لاہور نے شکیل الرحمن کو پانچ مارچ کو طلب کیا تھا اور انہیں ایک سوال نامہ بھی فراہم کیا گیا تھا۔ جمعرات کو نیب  حکام نے میر شکیل الرحمن کو طلب کیا اور دو گھنٹے تفتیش کے بعد اُنہیں گرفتار کرلیا گیا۔ نیب کے حکام کے مطابق ملزم کو جمعہ کے روز لاہور کی احتساب عدالت میں پیش کرکے ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی استدعا کی جائے گی۔

قومی احتساب بیورو کی طرف سے جس مقدمے میں میر شکیل الرحمن کو گرفتار کیا گیا ہے اس کی تفصیلات بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا ہے کہ  1986 میں لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے 180 کنال اراضی پر استثنیٰ قرار دیتے ہوئے اسے ہدایت علی اور حاکم علی کے نام الاٹ کیا تھا جبکہ اس کی پاور آف اٹارنی میر شکیل الرحمن کے پاس تھی۔

نیب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ 1986 میں اس وقت کے پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں نواز شریف نے استثنیٰ کے قواعد کو تبدیل کرتے ہوئے 55 کنال پانچ مرلےاراضی ہدایت علی اور حاکم علی کے نام کردی جس کی اٹارنی میر شکیل الرحمن کے پاس تھی۔ اس بیان میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ کسی بھی سرکاری ہاؤسنگ سکیم میں پلاٹوں کی الاٹمنٹ قرعہ اندازی کے ذریعے ہوتی ہے لیکن اس میں قرعہ اندازی نہیں کروائی گئی۔

ابیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ میر شکیل الرحمن کو مختلف مقامات پر تین پلاٹ الاٹ کیے گئے جن میں 33 کنال کا پلاٹ کنال بینک روڈ پر،124 کنال کا پلاٹ سوک سیٹر کے پاس جبکہ 33کنال کا پلاٹ سوک سیٹر سے دور آلاٹ کیا گیا۔  سوشل میڈیا پر میر شکیل الرحمان کی ویڈیو فوٹیج جاری کی گئی ہیں جن میں صحافی احتساب بیورو کے دفتر کے باہر ان سے سوال کرتے ہیں کہ کیا آپ آج کوئی ثبوت لے کر آئے ہیں۔

سوشل میڈیا پر صارفین خاص طور پر صحافتی حلقوں کی جانب سے اس خبر پر تبصرے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ کچھ نے اسے صحافت پر حملہ قرار دیا ہے اور سوال کیا جا رہا ہے کہ صرف جنگ گروپ ہی کیوں؟

صحافی و اینکر پرسن معید پیرزادہ نے اپنے ٹوئٹ میں سوال اٹھایا کہ کیا تقریباً 30 سال پرانے کیس کو کھولا جانا ایک دانشمندانہ اقدام ہے؟