کورونا وائرس: پاکستان، ناروے اور دیگر ممالک میں سخت اقدامات

  • جمعرات 12 / مارچ / 2020
  • 4900

کورونا وائرس پھیلنے کی وجہ سے پاکستان اور ناروے سمیت دنیا کے متعدد  ملکوں نے سخت سفری اور دیگر پابندیاں لگانے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں میڈیکل ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے جبکہ بلوچستان میں اسکول بند کردیے گئے ہیں۔

ناروے کی وزیر اعظم ارنا سولبرگ نے کورونا سے متاثرین کی تعداد میں ڈرامائی تبدیلی کے باعث آج سخت پابندیوں کا اعلان کیا۔  ناروے میں اسکول و کالجز بند کردیے گئے ہیں جبکہ ریستورانوں اور دیگر پبلک مقامات کو بھی بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ناروے میں کورونا سے متاثرین کی تعداد 700 سے تجاوز کرچکی ہے۔ اس کے علاوہ سفری پابندیں عائد کرنے اور بیرون ملک سے آنے والوں کو دو ہفتے تک قرنطینہ میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

پاکستان کے صوبہ سندھ کی حکومت نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے کراچی میں شیڈول میچز کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر شائقین کے بغیر کرانے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعلٰی سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے حکومتی فیصلے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو آگاہ کر دیا ہے۔  پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی کھلاڑیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہاتھ ملانے سے گریز کریں۔

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کی حکومت نے کرونا وائرس کے باعث شہر کے تعلیمی ادارے 31 مارچ تک بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ نئی دہلی کے وزیر اعلٰی اروند کیجریوال نے کہا کہ اسکول، کالجز اور دیگر تعلیمی ادارے 31 مارچ تک بند رہیں گے۔ ارند کیجریوال نے کہا کہ نئی دہلی کے تمام سنیما ہال بھی اس عرصے کے دوران بند رہیں گے۔ بھارت کے محکمہ صحت کے مطابق ملک میں کورونا وائرس کے کیسز 73 ہو گئے ہیں۔ جمعرات کو ایک غیر ملکی سمیت مزید 13 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ نئی دہلی میں اب تک کرونا وائرس کے چھ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔

سعودی عرب نے ملک میں کورونا وائرس کے 24 نئے کیسز سامنے آنے کے بعد پاکستان اور یورپی یونین سمیت دنیا کے کئی ممالک کے لیے پروازیں منسوخ کر دی ہیں جب کہ شہریوں اور وہاں مقیم افراد کی آمد و رفت پر بھی پابندی عائد کی ہے۔  سعودی عرب نے جن ممالک کے لیے پروازیں منسوخ کی ہیں ان میں سوئٹزرلینڈ، بھارت، پاکستان، سری لنکا، فلپائن، سوڈان، ایتھوپیا، جنوبی سوڈان، ایریٹیریا، کینیا، جبوتی اور صومالیہ شامل ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق کورونا وائرس سے متاثرہ ملکوں سے سعودی عرب آنے والے تمام افراد کے داخلے پر پابندی ہو گی۔ سعودی عرب نے اردن کی سرحدی راہداری کے ذریعے بھی مسافروں کی آمد و رفت بھی بند کر دی ہے تاہم تجارتی سامان اور کارگو ٹریفک کو آنے جانے کی اجازت ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ رات یورپی مملک سے سفر پر پابندیاں عائد کردی تھیں۔ امریکہ میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ کورونا وائرس اب لگ بھگ دُنیا کے 113 ممالک میں پھیل چکا ہے جس کے باعث عالمی معیشت، تجارت، کھیل سمیت زندگی کا ہر شعبہ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اسے وبائی مرض بھی قرار  دیا ہے۔

امریکہ، بھارت، ایران، پاکستان، یورپ سمیت دُنیا کے بیشتر ممالک نے سرکاری مشینری اس وبائی مرض کا پھیلاؤ روکنے کے لیے وقف کر رکھی ہے۔ پاکستان میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے 'صحت ایمرجنسی' نافذ کرنے کے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔ اٹلی میں لاک ڈاؤن کے بعد ڈنمارک اور دیگر یورپی ملکوں میں بھی احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں۔ کرونا وائرس کے باعث اب تک دُنیا بھر میں 4600 افراد ہلاک جب کہ ایک لاکھ 26 ہزار افراد اس وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔

عالمی وبا قرار دیے جانے کے بعد دُنیا کی متعدد حکومتوں نے ہنگامی اقدامات تیز کر دیے ہیں۔ کورونا وائرس کے باعث عالمی اسٹاک مارکیٹس، سیاحت، ایئر لائنز اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں کے علاوہ کھیلوں کی سرگرمیاں بھی محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ تیل کی قیمتیں گرنے سے فضائی کمپنیوں نے کرایوں میں کمی کر دی ہے۔ دُنیا کے بڑے شہروں میں ہوٹل انڈسٹری بھی متاثر ہو رہی ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یورپ سے امریکہ سفر پر بھی پابندی لگانے کے بعد تیل کی قیمتوں میں مزید چار فی صد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ وبائی مرض قرار دیے جانے اور صدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کے علاوہ اسٹاک مارکیٹس میں بھی مندی کا رُجحان ہے۔ وائرس کے باعث چین میں کاروباری سفر 95 فی صد کم ہوا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث کاروباری سفر محدود ہونے سے عالمی سطح پر 820 ارب ڈالر نقصان کا تخمینہ ہے سب سے زیادہ چین کو 404 ارب ڈالر نقصان پہنچنے کا اندازہ ہے۔ چند روز قبل ورلڈ بینک نے بھی کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے محدود وسائل رکھنے والے ملکوں کی مدد کے لیے 12 ارب ڈالر جاری کرنے کا اعلان کیا تھا۔

عالمی سطح پر کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے اور اس سے بچاؤ کی ویکسین کی تیاری پر بھی کام جاری ہے۔ البتہ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اس عمل میں وقت لگ سکتا ہے۔