عراق: ایران نواز ملیشیا کے ٹھکانوں پر امریکی طیاروں کی بمباری

  • جمعہ 13 / مارچ / 2020
  • 6040

امریکہ نے جمعرات کو عراق میں ایران نواز ملیشیا کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے امریکی اور برطانوی فوجیوں کی ہلاکت کے ردعمل کے طور پر کیے گئے ہیں۔

پینٹاگون کے مطابق ان حملوں کا دائرہ کار محدود تھا۔ ان میں ایران نواز ملیشیا 'کتائب حزب اللہ' کے اسلحہ ذخیرہ کرنے والے پانچ مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ ان میں وہ اسلحہ مرکز بھی شامل ہے جو ماضی میں امریکہ کے خلاف حملوں میں استعمال ہوتا رہا ہے۔

عراقی حکومت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی حملے میں چار اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی حکام نے ان حملوں میں ہونے والی جانی نقصان سے متعلق تفصیلات نہیں دیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے پائلٹ طیاروں کے ذریعے کیے گئے۔ پینٹاگون سے جاری ہونے والے بیان میں امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکہ ایسے حملے دوبارہ بھی کر سکتا ہے۔ ایسپر کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ عراق اور خطے کے دیگر ملکوں میں تعینات فوج کے تحفظ کے لیے کسی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔

بدھ کو عراقی شہر بغداد کے شمال میں واقع امریکہ کے تاجی ملٹری کیمپ پر عسکریت پسندوں کی جانب سے درجنوں راکٹ داغے گیے تھے۔ امریکی صدر نے واقعے کے فوری بعد جوابی کارروائی کی اجازت دے دی تھی۔ اطلاعات کے مطابق امریکی کیمپ پر لگ بھگ 30 راکٹ داغے گئے، جن میں سے 18 ہدف پر لگے۔ تاحال کسی گروپ کی جانب سے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی۔

حالیہ مہینوں میں یہ تیسرا موقع ہے کہ امریکی فوج کی جانب سے کتائب حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ امریکی فوج کی جانب سے دسمبر میں تنظیم کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ جس میں دو درجن سے زائد جنگجو ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ حملہ عراقی بیس پر عسکریت پسندوں کے حملے میں امریکی کانٹریکٹر کی ہلاکت کے بعد کیا گیا تھا۔

بدھ کو عسکریت پسندوں کا حملہ عراقی کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کی 63 ویں سالگرہ کے دن کیا گیا تھا۔ جس کے بعد بعض تجزیہ کار اس حملے کو انتقام کی کڑی ہی قرار دے رہے ہیں۔ امریکی فوج نے تین جنوری 2020 کو بغداد ایئرپورٹ کے قریب ڈرون حملے میں ایران کی پاسداران انقلاب فورسز کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی اور کتائب حزب اللہ کے ڈپٹی کمانڈر ابو مہدی المہندس کو ہلاک کر دیا تھا۔