نیب عدالت نے میر شکیل الرحمٰن کا 12 دن کا جسمانی ریمانڈ دے دیا

  • جمعہ 13 / مارچ / 2020
  • 4130

لاہور کی احتساب عدالت نے زمین کی خریداری سے متعلق کیس میں جنگ اور جیو کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن کا 12 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا ہے۔

لاہور کی احتساب عدالت میں جج امیر محمد خان نے نیب کی جانب سے 54 کینال اراضی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ جیو اور جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن کو جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کے لیے پیش کیا گیا۔ سماعت کے دوران میر شکیل الرحمٰن کی جانب سے سینئر وکیل اعتزاز احسن پیش ہوئے جبکہ نیب کی نمائندگی پراسکیوٹر حافظ اسد اعوان نے کی۔

سماعت کے آغاز پر اعتزاز احسن نے میر شکیل الرحمٰن سے ملاقات کی اجازت طلب کی اور کہا کہ ابھی وکالت نامے پر دستخط کیے ہیں مجھے مؤکل سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔ عدالت نے انہیں اجازت دیتے ہوئے سماعت کو کچھ دیر کے لیے ملتوی کیا۔

وقفے کے بعد جب سماعت شروع ہوئی تو اعتزاز احسن نے مؤقف اختیار کیا کہ میر شکیل بھاگے نہیں وہ نیب کے سامنے پیش ہوئے، جب میر شکیل نیب سے تعاون کر رہے تھے تو پھر کیوں گرفتار کیا گیا۔ اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ میر شکیل نے ایل ڈی اے سے زمین نہیں خریدی۔ زمین کسی نجی بندے سے قانون کے مطابق خریدی گئی۔ زمین میں کسی بھی قسم کی جعلسازی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے مؤکل کا نام میر شکیل الرحمٰن ہے اور وہ تنقید کرتے ہیں، اسی وجہ سے انہیں گرفتار کیا گیا۔ ان کو کسی نہ کسی حکومت نے گرفتار تو کرنا تھا۔

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز میر شکیل نیب کے سوالوں کے جوابات لے کر گئے تھے، تاہم انہیں غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ جب چیئرمین نیب نے میر شکیل کے کیس کی فائل دیکھی ہی نہیں تو وارنٹ کیسے جاری کر دیے۔ اس پر نیب کے وکیل نے کہا کہ میر شکیل الرحمٰن کو قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ نیب کا میر شکیل الرحمٰن سے رویہ بدنیتی پر مبنی ہے۔ نیب کو میر شکیل الرحمٰن کا جسمانی ریمانڈ نہیں ملنا چاہیے، نہ ہی ان کا جوڈیشل ریمانڈ ہونا چاہیے۔ میر شکیل الرحمٰن کو اس مقدمے سے خارج کرکے رہا کیا جائے۔

تاہم عدالت نے میر شکیل کو 12 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا۔ اور میر شکیل الرحمٰن سے ہونے والی تفتیش سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کا بھی حکم دے دیا۔ اسی دوران اعتزاز احسن کی جانب سے سماعت کی تاریخ تبدیل کرنے کی درخواست کی گئی جس پر عدالت نے اسے منظور کرتے ہوئے میر شکیل 25 مارچ کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

خیال رہے کہ 12 مارچ کو نیب نے جنگ اور جیو گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن کو اراضی سے متعلق کیس میں گرفتار کیا تھا۔ ترجمان نیب نوازش علی نے بتایا گیا تھا کہ ادارے نے 54 پلاٹوں کی خریداری سے متعلق کیس میں میر شکیل الرحمٰن کو لاہور میں گرفتار کیا۔

واضح رہے کہ میر شکیل الرحمٰن کو 28 فروری کو طلبی سے متعلق جاری ہونے والے نوٹس کے مطابق انہیں 1986 میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب نواز شریف کی جانب سے غیر قانونی طور پر جوہر ٹاؤن فیز 2 کے بلاک ایچ میں الاٹ کی گئی زمین سے متعلق بیان ریکارڈ کرانے کے لیے 5 مارچ کو نیب میں طلب کیا گیا تھا۔

جنگ گروپ کے ترجمان کے مطابق یہ پراپرٹی 34 برس قبل خریدی گئی تھی جس کے تمام شواہد نیب کو فراہم کردیے گئے تھے، جن میں ٹیکسز اور ڈیوٹیز کے قانونی تقاضے پورے کرنے کی دستاویز بھی شامل ہیں۔