دنیا بھر میں کورونا وائرس کے سبب نقل و حرکت محدود، ہلاکتوں میں اضافہ

  • ہفتہ 14 / مارچ / 2020
  • 4050

دنیا بھر میں کورونا وائرس کے سبب معمولات زندگی متاثر ہورہے ہیں۔ متعدد ممالک نے سخت سفری پابندیاں عائد کی ہیں اور تعلیمی ادارے بند کردیے گئے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس وات یورپ اس خطرناک وائرس کا مرکز ہے۔

ایران کے سرکاری ٹی وی نے کہا ہے کہ ملک بھر میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد ہفتے کو 611 ہو گئی ہے۔ جمعہ کو یہ تعداد 514 تھی۔ وزارتِ صحت کے حکام کے حوالے سے سرکاری ٹی وی کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کورونا وائرس کے 12 ہزار 729 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے واہگہ بارڈر پر پرچم اُتارنے کی تقریب کو بھی محدود کر دیا گیا ہے۔ پرچم اُتارنے کی تقریب میں شہریوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ پاکستان کے پنجاب رینجرز اور بھارت کی بارڈر سیکیورٹی فورسز  کے درمیان پریڈ معمول کے مطابق ہوگی، لیکن شہریوں کی شرکت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

پاکستان کے صوبہ سندھ کے حکومتی ترجمان مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ ایران سے آنے والے زائرین کو قرنطینہ میں رکھا جائے گا۔ مرتضی وہاب کا کہنا ہے کہ تفتان سے آنے والے 308 زائرین کو سکھر منتقل کر دیا گیا ہے۔ سندھ حکومت نے چار مقامات پر آئسو لیشن وارڈز قائم کر دیے ہیں۔

پاکستان میں ہفتے کو کورونا وائرس کا ایک اور کیس رپورٹ ہوا ہے۔ 30 سالہ خاتون میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ خاتون کو تشویش ناک حالت میں اسلام آباد کے پمز اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔  خاتون امریکہ سے پاکستان آئی تھیں۔ حکام کے مطابق خاتون کو اسپتال کے آئسو لیشن وارڈ میں وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

کورونا وائرس کی وبا دسمبر میں چین کے شہر ووہان سے پھیلنا شروع ہوئی تھی اور اب یہ مہلک وائرس 120 سے زائد ممالک میں پھیل چکا ہے۔ کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کو 'کووِڈ 19' کا نام دیا گیا ہے۔ اس مہلک بیماری سے دنیا بھر میں مجموعی طور پر اب تک 5000 سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں کورونا وائرس کے ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت نے کرونا وائرس کو عالمی وبا قرار دیا ہے۔

دنیا بھر میں اس وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے مختلف کوششیں کی جا رہی ہیں جن میں شہروں کو بند کرنا، قرنطینہ مراکز بنانا اور عوامی اجتماعات پر پابندیاں بھی شامل ہیں۔ کورونا وائرس کا پھیلاؤ چین سے شروع ہوا تھا لیکن اب چین میں کووڈ 19 کے کیسز میں کمی آ رہی ہے جب کہ امریکہ اور یورپی ممالک میں یہ مہلک وبا تیزی سے پھیل رہی ہے۔ پاکستان میں بھی کورونا وائرس کے متعدد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں سے 2 مریض صحت یابی کے بعد اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کورونا وائرس سے متعلق اقدامات کرتے ہوئے ملک میں ایمرجنسی لگانے کا اعلان کیا ہے اور اس وبا سے نجات کے لیے 50 ارب ڈالرز کا فنڈ مختص کیا ہے۔

دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وجہ سے متعدد ممالک نے اپنی سرحدیں بند کر دی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق کورونا وائرس سے دنیا بھر میں ہلاکتوں کی تعداد 5 ہزار سےتجاوز کر چکی ہے۔ 3ہزار سے زائد افراد کے وائرس سے متاثر ہونے کے بعد اسپین میں بھی ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔ اکثر یورپی ممالک نے غیرملکیوں کے لیے اپنی سرحدیں بند کردی ہیں جبکہ تمام عوامی مقامات پر اجتماعات اور غیرضروری سرگرمیوں پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

گزشتہ روز عالمی ادارہ صحت نے اس عالمی وبا کا نیا مرکز یورپ کو قرار دیا تھا جہاں روزانہ کی بنیاد پر زیادہ سے زیادہ کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔ ادھر تمام صورتحال کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے نیشنل ایمرجنسی قرار دے دیا ہے جہاں رپورٹس کے مطابق صرف امریکی ریاست اوہایو میں اس وقت ایک لاکھ سے زائد کورونا وائرس کے مریض ہونے کا امکان ہے۔

دنیا کے دیگر خطوں کے علاوہ اب افریقہ میں بھی کورونا وائرس کا خطرہ منڈلانے لگا ہے اور گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران 6 افریقی ملکوں نے وائرس کا شکار ہونے کی تصدیق کی ہے۔ افریقہ بھر میں 54 ممالک میں سے 16 نے کووڈ-19 وائرس رپورٹ ہونے کی تصدیق کردی ہے اور ان میں اکثر کیسز دیگر ملکوں سے آنے والے افراد سے منتقل ہوئے۔

افریقی ممالک میں یہ وائرس ماہ فروری میں رپورٹ ہونا شروع ہوا اور اکثر کیسز یورپ اور امریکا سے سفر کرکے آنے والے افراد میں پائے گئے۔ گزشتہ روز کینیا، گیانا، سوڈان اور اتھوپیا میں پہلا کیس رپورٹ ہوا تھا جبکہ جمعرات کو گبون اور گھانا میں پہلے فرد میں وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔

ادھر چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن کا کہنا ہے کہ صوبہ ہوبے کے دارالحکومت ووہان میں مزید 4کیسز رپورٹ ہوئے ہیں تاہم جنوری کے بعد سے اب تک یہ رپورٹ ہونے والے کیسز کی سب سے کم تعداد ہے۔ اس کے علاوہ 7 مزید کیسز بھی رپورٹ ہوئے جن میں سے 4 شنگھائی، 2صوبہ گانسو اور ایک بیجنگ سے رپورٹ ہوا اور یہ سب کیسز بیرون ملک سے آئے ہوئے لوگوں میں سامنے آئے۔

انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتا کے گورنر انیس باسویدن نے بتایا کہ کورونا وائرس کے 69کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ سینکڑوں لوگوں کی نگرانی جاری ہے۔ جکارتا میں تمام اسکول اور جامعات سمیت تعلیمی بند کر دیے گئے ہیں اور اساتذہ کو دو ہفتوں کے لیے گھروں سے ہی آن لائن تعلیم دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

وائرس کے سبب سعودی عرب نے تمام بین الاقوامی پروازوں کی ملک میں آمد پر دو ہفتوں کے لیے پابندی عائد کردی ہے۔ سعودی عرب میں اب تک وائرس کے سبب کوئی ہلاکت نہیں ہوئی تاہم 86افراد میں وائرس کی تشخیص کے بعد ملک کے تمام تعلیمی ادارے بند کردیے گئے ہیں۔

نیوزی لینڈ نے بھی وائرس کے خطرے سے نمٹنے کے لیے حفاظتی انتظامات کا اعلان کیا گیا ہے۔ حکام نے ہدایت دی ہے کہ بیرون ملک سے آنے والے افراد خود کو قرنطینہ میں رکھیں تاکہ وائرس کو پھیلاؤ سے روکا جا سکے۔ وزیر اعظم جسنڈا آرڈرن نے کہا کہ بیرون ملک سے آنے والے کم از کم 14دن تک خود کو محدود رکھیں۔ تمام بحری جہازوں کو بھی ہدایات دی گئی ہے کہ وہ 30جون سے قبل نیوزی لینڈ نہ آئیں۔

نیوزی لینڈ میں اب تک 6افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے لیکن خوش قسمتی سے اب تک کوئی ہلاکت سامنے نہیں آئی۔ تھائی لینڈ میں کورونا کے مزید 7 کیسز رپورٹ ہونے کے بعد وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 82ہو گئی ہے جبکہ ملک میں اس کے سبب ایک ہلاکت ہوئی ہے۔