یورپ میں شٹ ڈاؤن سے پاکستانی برآمدات متاثر

  • اتوار 15 / مارچ / 2020
  • 4290

یورپی خریداروں نے پاکستانی ٹیکسٹائل برآمدکنندگان سے درخواست کی ہے کہ وہ کورونا وائرس کی وبا کے سبب پیدا ہونے والی غیریقینی صورتحال کے پیش نظر شپمنٹس ملتوی کردیں۔

عالمی ادارہ صحت جمعہ کو کورونا وائرس کی وبا کا مرکز یورپ کو قرار دے چکا ہے۔ یورپی یونین، پاکستان کا دوسرا بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ یورپ میں  20فیصد پاکستانی برآمدات کو ڈیوٹی فری رسائی ہے جبکہ 70فیصد کو ترجیحی درجہ حاصل ہے۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے سبب حالات پیچیدہ ہوئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق زارا نے اسپین میں اسٹورز بند کر دیے ہیں اور امکان ہے کہ دیگر مشہور برانڈز بھی ان کے نقش قدم پر چلیں گے۔

پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیف کوآرڈینیٹر اور پاکستان اپیرل فورم کے چیئرمین محمد جاوید باجوہ نے کہا کہ یورپ میں کورونا وائرس کے کیسز آنے کے بعد دو اہم پیشرفت ہوئی ہیں۔ ٹیکسٹائل کے یورپی یونین کے درآمد کنندگان نے پاکستانی سپلائرز سے کہا ہے کہ وہ اپنی پیداوار کم کردیں جبکہ دیگر نے کہا ہے کہ انہیں ایک سے ڈیڑھ ماہ بعد اپنا مال چاہیے۔

کونسل آف ٹیکسٹائل ایسوسی ایشن کے چیئرمین زبیر موتی والا نے کہا کہ یورپین خریدار شپمنٹس میں ایک سے تین ہفتے التوا پر اصرار کر رہے ہیں لیکن خوش قسمتی سے ابھی تک یورپ سے پرانے آرڈرز منسوخ نہیں کیے گئے۔

زبیر موتی والا نے خدشہ ظاہر کیا کہ یورپ میں وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے سبب صورتحال خطرناک شکل اختیار کر سکتی ہے لیکن غیریقینی صورتحال کے باوجود ہم نے پیداوار جاری رکھی ہوئی ہے۔

سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے صدر سلیمان چاولہ نے کہا کہ یورپ اور امریکا کے درآمد کنندہ نے پاکستانی برآمدکنندگان سے کہا ہے کہ وہ اپنی ٹیکسٹائل کی مصنوعات بنانے کا سلسلہ جاری رکھیں اور شپمنٹس کو ایک ہفتہ ملتوی کردیں۔ انہوں نے بتایا کہ یورپی ممالک میں برآمدات 15 سے 21 دن میں پہنچتی ہیں۔

پاکستان لیدر گارمینٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین فواد اعجاز خان نے کہا کہ یورپ میں کورونا وائرس سے برآمد کنندگان کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ ان میں سے کچھ کے تازہ آرڈرز میں 50فیصد تک کمی آئی ہے۔ کچھ یورپی خریداروں نے مقامی برآمدکنندگان سے یہاں تک کہا ہے کہ وہ صرف درخواست کیے جانے پر شپمنٹس بھیجیں۔ یورپ میں متعدد مشہور اسٹورز بند کر دیے گئے ہیں۔

عالمی سطح پر تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد بھی ساڑھے پانچ ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جس میں سے 3ہزار 173افراد چین میں لقمہ اجل بنے۔ یورپ میں اٹلی سب سے زیادہ تاثر ہونے والے والا ملک ہے جہاں 18ہزار سے زائد افراد وائرس کی زد میں آئے جبکہ 1400 سے زائد ہلاک ہو چکے ہیں۔