کویت میں اذان کے ذریعے لوگوں کو گھروں میں نماز ادا کرنے کی ہدایت
- اتوار 15 / مارچ / 2020
- 4920
خلیجی ملک کویت میں کورونا وائرس کے حوالے سے احتیاطی تدابیر کے پیش نظر لوگوں کو اذان کے ذریعے نمازیں گھروں پر ادا کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔
کویت کی وزارت مذہبی امور نے پہلے ہی نماز جمعہ کے اجتماعات کو کورونا وائرس کے پیش نظر احتیاطی تدابیر کے باعث عارضی طور پر معطل کردیا ہے اور لوگوں کو دیگر نمازوں کے لیے بھی کم سے کم مساجد میں جانے کی ہدایت کر رکھی ہے۔ تاہم زیادہ تر لوگوں کی جانب سے نمازوں کی باجماعت ادائیگی کے لیے مسجد آنے کے بعد وہاں کے مؤذن نے اذان کے ذریعے ہی لوگوں کو نمازیں گھروں پر ادا کرنے کی ہدایت کرنا شروع کردی۔
کویت میں اذان میں تھوڑی سی ترمیم کرتے ہوئے لوگوں کو گھروں پر نمازیں ادا کرنے کی ہدایت شروع کردی اور اذان کی ذریعے ایسی ہدایات کرنے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد وائرل ہوگئیں۔ رپورٹ کے مطابق مؤذن اذان کے درمیان ’حی علی الصلاح‘ (نماز کے لیے آئیں‘ کے بجائے ’الصلاة في بيوتكم‘ (نمازیں گھر پر ادا کریں) کا جملہ کہہ رہے ہیں تاکہ کم سے کم لوگ مساجد کی جانب آئیں۔
یہ واضح نہیں ہے کہ کیا پورے کویت کی مساجد میں اسی طرح اذان کے ذریعے لوگوں کو گھروں میں نمازیں ادا کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔ تاہم سوشل میڈیا پر بتایا گیا کہ مصروف علاقوں کی مساجد میں ترمیم شدہ اذان دی جارہی ہے۔
عرب ممالک اور دیگر اسلامی ممالک کے افراد کویت میں لوگوں کو گھروں میں نمازیں ادا کرنے کی ہدایات کی تعریف کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ وائرس سے بچاؤ کو واحد طریقہ یہی ہے اور لوگوں کا کسی بھی جگہ کم سے کم تعداد میں جمع ہونا ہی سب سے بہتر احتیاط ہے۔
کویت کی طرح ایران اور عراق نے بھی عارضی طور پر نماز جمعہ کے اجتماعات بند کردیے ہیں تاہم پاکستان سمیت کئی اسلامی ممالک میں حکومتوں کی جانب سے ایسا کوئی اعلان نہیں کیا گیا لیکن کورونا وائرس کے پیش نظر لوگوں سے رضاکارانہ طور پر نمازیں گھروں میں ادا کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔
سعودی عرب نے عمرے پر عارضی پابندی عائد کی ہوئی ہے۔ اور مساجد میں بھی کم سے کم لوگوں کی جماعت کرنے کی ہدایات کردی گئی ہیں۔ اسلامی ممالک میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ملک ایران ہے۔ جہاں 15 مارچ کی دوپہر تک مریضوں کی تعداد 13 ہزار تک پہنچ چکی تھی۔ ہلاکتوں کی تعداد بھی 600 سے تجاوز کرگئی تھی۔
اسلامی ممالک میں کورونا وائرس کے مریضوں کے حوالے سے دوسرے نمبر پر 337 مریضوں کے ساتھ قطر، تیسرے نمبر پر 238 مریضوں کے ساتھ ملائیشیا اور 210 مریضوں کے ساتھ بحرین چوتھے نمبر پر ہے۔ عراق، کویت، سعودی عرب اور مصر جیسے ممالک میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر چکی ہے جب کہ انڈونیشیا میں مریضوں کی تعداد 100 کے قریب پہنچ چکی ہے۔
برونائی اور الجزائر میں مریضوں کی تعداد 35 سے 40 کے درمیان ہے جب کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 38 ہے۔ ترکی، بنگلہ دیش اور افغانستان جیسے ممالک میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 10 سے بھی کم ہے جب کہ کئی اسلامی ممالک میں مریضوں کی تعداد 5 یا اس سے کم ہے۔
چین کے بعد کورونا وائرس کے سب سے زیادہ مریض یورپی ملک اٹلی میں ہیں، جس کے بعد جنوبی کوریا، اسپین، جرمنی، فرانس، امریکا اور برطانیہ مریضوں کے حوالے سے بتدریج بڑے ممالک ہیں اور عالمی ادارہ صحت کے مطابق کورونا کا وائرس یورپ میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔