کورونا وائرس سے ہلاکتیں 5800 سے بڑھ گئیں، ڈیڑھ لاکھ سے زائد مریض
- اتوار 15 / مارچ / 2020
- 4080
کورونا وائرس سے دنیا بھر میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 5800 سے زائد ہو گئی ہے جب کہ ایک لاکھ 53 ہزار سے زائد افراد اس مہلک وبائی مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں۔
کورونا وائرس کا پھیلاؤ چین سے شروع ہوا تھا لیکن اب وہاں وائرس سے متاثرین کی تعداد میں کمی آ رہی ہے۔ ہفتے کو چین میں 'کووڈ 19' کے 20 مریض رپورٹ ہوئے جس کے بعد چین میں مریضوں کی تعداد 80 ہزار 844 ہو گئی ہے۔ تاہم مریضوں کی بڑی تعداد میں صحت یابی کے بعد گھروں کو لوٹ چکی ہے۔ چین میں ہفتے کو مزید 10 ہلاکتوں کے بعد ملک بھر میں مجموعی ہلاکتیں 3199 ہو گئی ہیں۔
چین کے بعد کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک اٹلی ہے جہاں اب تک 1441 ہلاکتیں ہو چکی ہیں جب کہ 21 ہزار سے زائد افراد کرونا وائرس میں مبتلا ہیں۔
امریکہ میں کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپ سے امریکہ سفر پر 30 روز کے لیے پابندی عائد کی تھی۔ اب برطانیہ اور آئرلینڈ کو بھی اس فہرست مین شامل کرلیا گیا ہے جنہیں پہلے استثنیٰ حاصل تھا۔
اسلام آباد اور کراچی میں کورونا وائرس کے بالترتیب ایک اور 4 نئے کیسز منظر عام پر آنے کے بعد پاکستان میں وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 38 ہوگئی ہے۔ محکمہ صحت سندھ کے مطابق کراچی میں کورونا وائرس کے مزید 4 کیسز کی تصدیق ہوئی۔ 4 میں سے تین کورونا وائرس کے مریض چند روز قبل ہی سعودی عرب سے واپس وطن پہنچے تھے۔
نئے کیس سامنے آنے کے بعد سندھ میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 21 ہوگئی ہے جن میں سے 2 مریض صحتیاب ہوکر گھر جاچکے ہیں جبکہ 15 زیر علاج ہیں۔ دوسری جانب اسلام آباد میں زیرعلاج کورونا وائرس کی مریضہ کے شوہر میں بھی وائرس کی تصدیق ہوگئی۔
گزشتہ روز سندھ و بلوچستان میں 2، 2 نئے کیسز کے علاوہ اسلام آباد میں کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے کے بعد ملک میں مجموعی کیسز کی تعداد 33 ہوگئی تھی۔ بلوچستان میں بھی کورونا وائرس کے مزید 2 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔
سندھ میں کورونا وائرس کے خلاف سخت احتیاطی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ صوبائی حکومت نے تعلیمی ادارے، پارکس، سینما، تفریحی مقامات اور مزارات بند کر دیے ہیں۔ شادی ہالوں میں شادی کے اجتماعات پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔
پنجاب میں اب تک کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا ہے۔ جبکہ نو افراد کو وائرس کے شبہ میں آئسولیشن اور نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں بھی اب تک کورونا وائرس کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے۔ پنجاب میں کورونا وائرس کا پہلا مریض رپورٹ ہونے کے بعد ملک بھر میں 'کووڈ 19' کے مریضوں کی مجموعی تعداد 38 ہو گئی ہے۔ صوبائی وزیرِ صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے لاہور میں کورونا وائرس کے پہلے مریض کی تصدیق کر دی ہے۔
کورونا وائرس چین کے بعد اب یورپی ملکوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے جس کے باعث عالمی ادارۂ صحت بھی یورپ کو کورونا وائرس کا نیا مرکز قرار دے چکا ہے۔ اس مہلک بیماری کو روکنے کے لیے یورپی ممالک سخت حفاظتی اقدامات کر رہے ہیں اور مختلف پابندیاں بھی عائد کی جا رہی ہیں۔ اسپین اور فرانس نے اپنے ملک میں کرونا وائرس کے تدارک کے لیے حفظِ ماتقدم کے طور پر سخت پابندیاں عائد کی ہیں۔
اسپین نے ہفتے کو ملک بھر میں جزوی لاک ڈاؤن کر دیا ہے۔ لوگوں کے گھروں سے بلا ضرورت باہر نکلنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ شہریوں کو اشیائے خور و نوش کی خریداری، علاج یا پھر کسی اشد ضرورت کے تحت ہی گھروں سے نکلنے کی اجازت ہو گی۔ اسپین میں کرونا وائرس سے 196 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یورپ میں اٹلی کے بعد اسپین کرونا وائرس سے متاثر ہونے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔ ملک بھر میں کرونا وائرس کے 5753 مریض سامنے آ چکے ہیں جن میں اسپین کے وزیرِ اعظم کی اہلیہ بھی شامل ہیں۔
اٹلی میں نظام زندگی مکمل طور پر مفلوج ہے۔ لوگ گھروں تک محدود ہیں جب کہ ریستوران اور پارکس بھی بند کر دیے گئے ہیں۔ اٹلی چین کے بعد کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے جہاں اب تک 1441 ہلاکتیں ہو چکی ہیں جب کہ 21 ہزار سے زائد مریض سامنے آ چکے ہیں۔ دوسری جانب فرانس نے بھی ریستوران، بارز، سینما، نائٹ کلب اور دیگر عوامی و تفریحی مقامات بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ البتہ اشیائے خور و نوش کی دکانیں، میڈیکل فارمیسی اور بینک وغیرہ کھلے رہیں گے۔
برطانوی حکومت نے آئندہ ہفتے سے ملک بھر میں عوامی اجتماعات پر پابندی کا فیصلہ کیا ہے جب کہ جرمنی نے اٹلی، سوئٹزرلینڈ اور آسٹریا سے آنے والے اپنے شہریوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ خود کو دو ہفتوں کے لیے آئسولیشن میں رکھیں۔
ناروے پیر سے اپنے تمام ایئرپورٹس اور بندرگاہیں بند کر رہا ہے۔ البتہ ناروے کے شہریوں کو بیرونِ ملک سے آنے کی اجازت دی جائے گی۔ یونان میں بھی کرونا وائرس سے تین ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ ہفتے کو یونان کے حکام نے اعلان کیا ہے کہ وہ اٹلی سے آنے والی تمام پروازوں پر پابندی لگا رہے ہیں۔
روس نے ہفتے کو پولینڈ اور ناروے کے ساتھ اپنی سرحدوں سے غیر ملکیوں کا داخلہ بند کر دیا ہے۔ چیک ری پبلک نے زیادہ تر دکانوں اور ریستورانوں کو 10 روز کے لیے بند کر دیا ہے۔ اس سے قبل ملک بھر میں اسکولوں کو بند اور عوامی اجتماعات اور تفریحی تقریبات کو منسوخ کیا جا چکا ہے۔ ڈنمارک میں ہفتے کو کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت ہوئی ہے جس کے بعد حکام نے حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں۔