افغان حکومت نے 1500 طالبان قیدیوں کی رہائی معطل کردی
- سوموار 16 / مارچ / 2020
- 5120
افغان حکومت نے ہفتے کے روز 1500طالبان قیدیوں کی رہائی معطل کر دی ہے۔ یہ بات ایک افغان اہل کار نے بتائی ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں طالبان اور امریکہ کے مابین گزشتہ ماہ طے پانے والا امن سمجھوتا خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
افغان قومی سلامتی کے مشیر کے دفتر کے ترجمان جاوید فیصل نے کہا ہے کہ رہائی میں تاخیر کی جا رہی ہے، کیونکہ قیدیوں کی فہرست کا جائزہ لینے کے لیے مزید وقت درکار ہو گا۔ اس فیصلے سے قبل اسی ہفتے صدر اشرف غنی کہہ چکے ہیں کہ ہفتے کے دن سے رہائی کا آغاز کر دیا جائے گا، جو بین الافغان مذاکرات شروع کرنے کے لیے نیک نیتی پر مبنی اقدام ہے۔
امریکہ طالبان معاہدے کا مقصد یہ بیان کیا گیا تھا کہ اس سے افغانستان کی لڑائی ختم کرنے میں مدد ملے گی اور تقریباً 19 برس بعد امریکی فوجیں وطن واپس آ سکیں گی۔ قیدیوں کی رہائی میں تاخیر کے فیصلے کے بارے میں فوری طور پر طالبان کی جانب سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔
امریکہ طالبان سمجھوتے میں بین الافغان مذاکرات سے پہلے 5000 تک طالبان قیدی رہا کرنے اور ساتھ ہی افغان حکومت کے 1000 قیدیوں کو رہائی دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس عمل کو افغانستان میں دیرپا امن لانے کا ایک اہم قدم خیال کیا جا رہا ہے۔
اشرف غنی کے حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ ہفتے کے دن سے ایک روز قبل 100 قیدیوں کو روزانہ کی بنیاد پر رہا کیا جاتا رہے گا، جب تک 1500 قیدی رہا نہیں ہو جاتے۔ اس کے بعد باقی 3500 قیدیوں کو اس وقت رہا کیا جائے گا جب بین الافغان مذاکرات کا آغاز ہو جائے گا، اور یہ رہائی قسط وار ہو گی اور بات چیت میں پیش رفت کے مطابق کی جائے اور طالبان تشدد کی کارروائی میں کمی لاتے رہیں گے۔
تاہم صدر اشرف غنی کابل میں جاری سیاسی افراتفری میں الجھے ہوئے ہیں، جہاں وہ اپنے سرکردہ سیاسی رقیب عبداللہ عبداللہ سے نبردآزما ہیں، جو خود کو صدر کہلواتے ہیں۔ عبداللہ نے اب تک گزشتہ سال کے انتخابی نتائج کو قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔
طالبان نے 5000 قیدیوں کی فہرست امریکی مذاکرات کار کے حوالے کی تھی، جسے انہوں نے افغان حکومت کی انتظامیہ کے حوالے کیا تھا۔ قطر میں طالبان ترجمان نے کہا تھا کہ طالبان اسی رہائی کو تسلیم کریں گے جو منظور کردہ فہرست کے مطابق ہو گی اور کابل کو متنبہ کیا تھا کہ کوئی متبادل شخص قابل قبول نہیں ہو گا۔