عالمی ادارہ صحت کا کورونا کے ٹیسٹ میں اضافہ کا مشورہ
- منگل 17 / مارچ / 2020
- 3840
عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس ایدھانوم نے کہا کہ کہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لئے ہر مشتبہ مریض کا ٹیسٹ کیا جانا چاہئے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے کہا کہ آپ آنکھیں بند کر کے آگ سے لڑ نہیں سکتے۔ زیادہ سے زیدہ ٹیسٹ کرنے سے ہی وئارس کے پھیلاؤ کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
کورونا وائرس جس تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے اس سے حکومتیں سرحدیں بند کرنے، گھروں پر قرنطینہ میں رہنے، بڑے کھیلوں کے مقابلوں سمیت ہر عوامی اجتماع پر پابندی لگانے جیسے اقدامات پر مجبور ہوگئیں ہیں۔ سربراہ ڈبلیو ایچ او کا کہنا تھا کہ چین جہاں دسمبر میں پہلی مرتبہ کووِڈ-19 سامنے آیا تھا اس کے علاوہ دنیا بھر میں مزید ہلاکتیں اور کیسز رپورٹ ہورہے ہیں۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ہمارے دور کا عالمی صحت بحران ہے۔ اس قسم کے بحران انسانیت کے لیے بدترین اور بہترین چیزیں سامنے لاتے ہیں۔
خیال رہے کہ کورونا وائرس 142 ممالک میں 6 ہزار 5 سو سے زائد افراد کی ہلاکت کاسبب بنا ہے اور ایک لاکھ 68 ہزار سے زائد افراد کو متاثر کرچکا ہے۔ تاہم چین میں صورتحال مسلسل بہتر ہورہی ہے۔ ووہان جو وبا کا مرکز تھا وہاں کل صرف 4 کیس سامنے آئے۔ دنیا کے دیگر ممالک میں کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے۔
حکومتیں نہ صرف وائرس کو روکنے بلکہ معاشی بحران سے بھی نمٹنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں جس سے دنیا کے کساد بازاری کا شکار ہوجانے کا خدشہ ہے۔
یورپی یونین نے منگل کے روز ایک اجلاس بلایا ہے جس میں وائرس کے ردِ عمل، سرحدوں کی بندش اور غیر ضروری سفر پر پابندی عائد کرنے پر غور ہوگا۔ یورپ بھر میں ممالک مکمل طور پر لاک ڈاؤن ہیں جبکہ امریکا کے بڑے شہروں میں شراب خانوں، ریسٹورنٹس اور اسکولوں کو بند کردیا گیا ہے۔ یورپ میں تازہ پیشرفت جرمنی کی جانب سے سرحدیں محدود کرنے، گرجا گھروں، مساجد اور یہودی عبادت گاہوں میں اجتماعات پر پابندی عائد کردی گئی اور غیر ضروری دکانوں اور کھیل کے میدانوں کو بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
فرانس انتہائی سخت پابندیوں کی تیاری کررہا ہے۔ حکومت نے میڈیکل اور فوڈ اسٹورز کے علاوہ اسکولز، شراب خانے اور ریسٹورنٹس بند کردیے ہیں۔ یورپ میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک اٹلی ہے جہاں مزید ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔ مرنے والوں کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔