امریکہ میں کورونا ویکسین کی پہلی مرتبہ انسان پر آزمائش
- منگل 17 / مارچ / 2020
- 5220
امریکہ کے شہر سیاٹل میں کورونا وائرس کی ویکسین کی پہلی مرتبہ کسی انسان پر آزمائش کی گئی ہے۔ اس آزمائش کے بعد امید پیدا ہو گئی ہے کہ ویکسین کرونا وائرس کی روک تھام میں معاون ثابت ہو گی۔
امریکہ کے محکمہ صحت نے پیر کو بتایا ہے کہ سیاٹل میں پہلی مرتبہ کسی انسان پر کورونا وائرس کی ویکسین کی آزمائش کی گئی ہے جسے 'ایم آر این اے -1273' کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ویکسین امریکی قومی ادارہ برائے صحت (این آئی ایچ) کے سائنسدانوں اور بائیوٹیکنالوجی کمپنی 'موڈرنا' کی مشترکہ کوششوں کے بعد سامنے آئی ہے۔
امریکہ کے محکمہ صحت کے مطابق 18 سے 55 برس کے 45 تندرست افراد نے خود کو رضاکارانہ طور پر ویکسین کے تجربے کے لیے پیش کیا ہے جنہیں لگ بھگ چھ ہفتوں کے دوران ویکسین دی جائے گی جب کہ ایک رضاکار کو ویکسین دی جا چکی ہے۔
گزشتہ برس دسمبر میں چین کے شہر ووہان میں کورونا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد اب یہ وائرس دنیا کے 120 سے زائد ملکوں میں پھیل چکا ہے۔ وائرس سے اب تک ایک لاکھ 75 ہزار سے زائد افراد متاثر ہیں اور سات ہزار سے زائد ہلاک ہو چکے ہیں۔ کورونا وائرس کے علاج کے لیے دنیا میں اب تک کوئی ویکسین موجود نہیں ہے۔ امریکہ کے قومی ادارہ برائے صحت کی جانب سے کئی ہفتوں سے ویکسین کی تیاری پر کام جاری تھا۔
این آئی ایچ کے محکمہ متعدی امراض کے سربراہ ڈاکٹر انتھونی فاؤچی کا کہنا ہے کہ ویکسین کی تیاری پہلے مرحلے میں ہے جسے ریکارڈ مدت میں تیار کیا گیا ہے اور یہ مقاصد حاصل کرنے کے لیے پہلا اور اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کی صحت ترجیح ہے اور امید ہے کہ ویکسین کے نتائج بہتر آئیں گے۔