پاکستان کے پاس کورونا کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت اور وسائل نہیں ہیں: عمران خان
- منگل 17 / مارچ / 2020
- 3690
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے غریب ممالک کی معیشت تباہ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے کم وسیلہ ملکوں کے پاس اس وبا سے نمٹنے کی صلاحیت اور وسائل نہیں ہیں۔
امریکی جریدے 'بلوم برگ' کو دیے گئے انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ امیر ممالک کو غریب ممالک کے ذمے واجب الادا قرضے معاف کر دینے چاہئیں۔ غریب ممالک میں اگر یہ وائرس متعدی مرض میں تبدیل ہو گیا تو نہ صرف پاکستان بلکہ برصغیر اور افریقی ممالک میں اس سے نمٹنے کے لیے صحت کی سہولیات ناکافی ہوں گی۔
پاکستان کا شمار دُنیا کے اُن ملکوں میں ہوتا ہے جن کے ذمے نہ صرف آئی ایم ایف بلکہ مختلف ممالک کی جانب سے دیے گئے قرضے واجب الادا ہیں۔ پاکستان کے وزیر اعظم کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان میں بھی کورونا وائرس کیسز کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق منگل کو پاکستان میں کورونا وائرس سے ایک ہلاکت کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔
انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ غربت اور کمزور معیشت کے باعث ہمارے پاس اس وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے وسائل نہیں ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ مجھے غربت اور بھوک میں اضافے کا زیادہ خدشہ ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم نے کہا کہ ایران کرونا وائرس سے شدید متاثر ہے۔ اس پر عائد پابندیاں فوری طور پر ہٹا لینی چاہئیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ایران ان پابندیوں کے باعث پہلے ہی مشکلات کا شکار تھا۔
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستان کے وزیر اعظم منگل کو پاکستانی عوام سے خطاب بھی کریں گے۔ پاکستانی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پاکستان میں وائرس ایران سے آنے والے زائرین کی وجہ سے پھیلا ہے۔ حکومت نے ایران میں پھنسے چھ ہزار سے زائد زائرین کو واپس لانے کا فیصلہ کیا تھا۔
یہ زائرین پاکستان کے صوبہ سندھ اور پنجاب میں آئے تھے، جن کے ٹیسٹ کرنے پر کئی افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔ حکومتِ پاکستان نے وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے تعلیمی ادارے بھی پانچ اپریل تک بند رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے علاوہ اجتماعات اور دیگر بڑی تقاریب بھی منسوخ کر دی گئی تھیں۔
انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ انہیں پریشانی ہے اگر پاکستان میں وائرس کا پھیلاؤ شدید ہوگیا تو گرتی ہوئی معشیت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے جی جانے والی کوششیں ناکام رہیں گی۔ برآمدات کم ہوجائے گی، بے روزگاری میں اضافہ ہوگا اور ملکی قرضوں کا بوجھ ناقابل برداشت ہوجائے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ صرف پاکستان نہیں بلکہ میرے خیال میں بھارت، بر صغیر اور افریقی ممالک کے لیے بھی ایسی ہی صورتحال ہوگی۔ اگر یہ مزید پھیلا تو ہمیں صحت کی سہولیات کے حوالے سے مسائل کا سامنا ہوگا۔ ہمارے پاس اتنی صلاحیت ہی نہیں اور نہ ہی ہمارے پاس اتنے وسائل ہیں۔