افغان بحران اور درپیش چیلنجز

افغان بحران کا حل بہت زیادہ پیچیدہ ہے۔ اس کی وجہ افغانستان میں مختلف فریقین میں موجود داخلی کشمکش، بداعتمادی اور ٹکراؤ کی سیاست ہے اور یہ ہی بحران کسی بڑے ممکنہ حل میں رکاوٹ بھی ہے۔

افغان امن معاہدہ ایک بڑی پیش رفت کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے، لیکن اس  سے فوری طور پر بڑے بہتر نتائج کی توقع کرنا بھی خوش فہمی  ہوگی۔اگرچہ سب فریقین اب افغان بحران کا حل چاہتے ہیں مگر سب کا اپنا اپنا ایجنڈا ہے اور سب ایک دوسرے پر برتری رکھ کر کچھ لو او رکچھ دو کی بنیاد پر مفاہمت کرنا چاہتے ہیں۔ایک طرف افغانستان کی حکومت ہے جو عملی طو رپر دو حصوں میں تقسیم ہوگئی ہے۔ ڈاکٹر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ دونوں صدر ہونے کے دعوے دار ہیں۔ اسی طرح ایک بڑا فریق افغان طالبان ہیں جو خود کو برتری میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح گلبدین حکمت یار، حامد کرزئی اور رشید دوستم بھی نہ صرف ڈاکٹر اشرف غنی کے مخالف ہیں بلکہ وہ عبوری حکومت کے قیام کے حامی ہیں۔

افغان امن معاہدے کے بعد ایک بڑی مزاحمت یا اپنی سیاسی برتری یا اپنے فیصلوں کو حاوی کرنے کی کو کوشش افغان صد ڈاکٹر اشرف غنی نے کی۔ اسے نہ افغان طالبان نے کوئی اہمیت دی او رنہ ہی امریکہ میں اس کی کوئی بڑی پزیرائی دیکھنے کو ملی۔ کیونکہ امریکہ کسی صورت بھی اس کا حامی نہیں کہ کوئی بھی فریق افغان امن معاہدہ کو متنازعہ بنائے یا اسے خراب کرے۔یہ ہی وجہ ہے کہ افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی آہستہ آہستہ امریکہ کے لیے بھی مشکل پیدا کررہے ہیں او روہ سیاسی بوجھ بھی بن سکتے ہیں۔ اس کے برعکس عبداللہ عبداللہ کی ابھی امریکہ کی نظر میں اہمیت ہے۔ڈاکٹر اشرف غنی نے پہلے تو معاہدے کے تحت افغان طالبان قیدیوں کو رہا کرنے سے انکار کیا، پھر دباؤ میں آکر تعداد کو کم کیا جسے افغان طالبان نے مسترد کردیا۔ امریکی صدر او رامریکی سیکرٹری خارجہ کی افغان راہنماؤں سے براہ راست بات چیت او راس امر کی یقین دہانی کروائی کہ معاملات معاہدے کے تحت ہی چلیں گے۔ اس طرح صورتحال کو بگڑنے سے بچایا۔

اس وقت او رایک دلچسپ صورتحال یہ پیدا ہوگئی ہے کہ افغان حکومت، طالبان او رامریکہ کے بعد داعش بھی میدان میں موجود ہے او راس نے حالیہ دنوں میں  کابل میں حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ داعش بھی ایک بڑی فریق بن کر سامنے آئی ہے۔ داعش کو ایک سطح پر ان قوتوں کی بھی حمایت حاصل ہے جو افغانستان میں امن معاہدہ کو مشکل میں ڈالنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہاں عدم استحکام کسی نہ کسی شکل میں موجود رہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی صدر نے اپنے متوقع انتخابات کے تناظر میں امریکی ووٹرز میں یہ احساس بڑھادیا ہے کہ ہم افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلا کررہے ہیں اور جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔امریکہ کے انتخابات اور اس سے جڑے نتائج بھی افغان امن معاہدے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔

امریکی صدر کے مقابلے میں امریکی اسٹیبلیشمنٹ ہر صورت میں کسی نہ کسی شکل میں امریکی فوجیوں کی ایک معقول تعداد کو افغانستان میں رکھنا چاہتی ہے اور وہ مکمل انخلا کی حامی نہیں۔ یہ بات پاکستان بھی چاہتا ہے کہ  امریکہ ماضی کی طرح افغانستان سے فوری طو رپر مکمل انخلا نہ کرے۔ یہاں امریکی اسٹیبلیشمنٹ اور پاکستان کا مفاد جڑا ہوا بھی نظر آتا ہے۔ کیونکہ ڈر یہ ہے کہ اگر امریکہ فوری طور پر مکمل انخلا کرتا ہے تو اس سے افغانستان میں موجود داخلی گروپ آپس میں ٹکراؤ پیدا کرکے  مسائل میں اور زیادہ اضافہ کرسکتے ہیں۔امریکہ کی موجودگی سے یقینی طور پر مقامی ترقی، انتظامی ڈھانچہ، سیکورٹی، تجارت اور صنعت کے فروغ کے عمل کو مضبوط بنانے میں ایک بڑا کلیدی کردار ادا کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔ڈاکٹر اشرف غنی میں یہ احساس بھی بڑھ رہا ہے کہ افغانستان یا کابل میں طالبان کی اہمیت بڑھ رہی ہے او رامریکہ کی توجہ کا مرکز بھی طالبان ہیں۔

اسی طرح بھارت کی کوشش ہوگی کہ جو بھی امن عمل آگے بڑھے اس سے پاکستان کو بہت زیادہ فائدہ نہ ہو او راس میں بھارت کے مفادات کو تحفظ بھی ملے۔یہ ہی وجہ ہے کہ بھارت کی افغانستان پر پوری نظر ہے اور اس کی انٹیلی جنس ایجنسی اپنے ایجنڈے کو تقویت دینے کے لیے پوری طرح مصروف نظر آتی ہے۔ایک بڑا مسئلہ انٹر ا افغان ڈائیلاگ کا ہے۔اس عمل نے بنیادی طو رپر طالبان، افغان حکومت اور افغان سیاسی قیادت کے درمیان تعلقات کا ر کا تعین کرنا ہے۔دلیل یہ دی جارہی ہے کہ موجودہ افغانستان جہاں دو افراد  خود کو صدر منوانے کی جستجو کررہے ہیں، یہ عمل ممکن نہیں ہوگا۔اس کے لیے ایک عبوری حکومت کی ضرورت ہوگی جس کی مدد سے افغان انٹرا ڈائیلاگ کا راستہ ہموار کیا جاسکے، یہ عمل طالبان کو مستقبل کے سیاسی و پارلیمانی نظام کا حصہ بنانے میں مدد دے سکے گا۔

یہ خبریں بھی موجود ہیں کہ افغان طالبان کے بعض گروہ اس معاہدے کے بہت بڑے حامی نہیں او روہ بھی مزاحمت کرسکتے ہیں۔ اگرچہ افغان طالبان اس کی تردید کرتے ہیں مگر کچھ  طالبان  بظاہر اس معاہدے کے ساتھ نہیں۔اصل مسئلہ وہاں پر موجود پراکسی جنگ کے خاتمہ کا ہے او ر اس میں اگر کوئی کمی آتی ہے تومعاملات مفاہمت کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ اگرچہ امریکہ انخلا کا تاثر ے رہا ہے مگر افغان داخلی  بحران میں تشدد آتا ہے اور داعش کے حملے تسلسل کے ساتھ ہوتے ہیں تو پھر امریکہ او ران کی اتحادی فوجیوں سمیت مختلف فریقین میں یہ سوچ ابھرے گی کہ ابھی امریکہ کو فوری طور پر مکمل انخلا نہیں کرنا چاہیے۔ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ افغان فورسز او راداروں کو معاشی طور پر چلانا بھی ہے۔امریکہ کے بقول وہ اب لمبے عرصے تک اس معاشی بوجھ کو قبول نہیں کرے گا او راس وقت زیادہ تر معاشی طور پران اداروں کوعملاً چلانے میں بڑا کردار امریکہ کا ہی ہے۔

یہاں ایک بڑی ذمہ داری افغان  فریقین کی بھی ہے۔ کیونکہ اس معاہدے نے اگر کامیابی حاصل کرنی ہے تو اس میں بڑا کردار  افغان قیادت کا بھی ہے۔ اگر اس نے ذاتی مسائل یا مفادات میں الجھ کر معاملات سے نمٹا تو اس سے مسائل پیدا ہوں گے اور یہ امن معاہدہ بھی پیچھے چلا جائے گا۔  امن معاہدہ کے تناظر میں جو بڑا کردار پاکستانی  سیاسی اور عسکری قیادت نے کیا اسے  دنیا سمیت افغانستان میں بھی بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے۔ امریکہ نے خود اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کی مدد کے بغیر یہ امن معاہدہ ممکن نہیں تھا۔ اب بھی اگر اس معاہدہ نے آگے بڑھ کر مثبت نتائج دینے ہیں تو اس میں افغان فریقین کے ساتھ ساتھ پاکستان کا کردار بھی اہم ہوگا جو معاونت سے عملی طور پر جڑا ہوا ہے۔کیونکہ پاکستان بہتر طور پر سمجھتا ہے کہ افغانستان کے بحرا ن کے حل کا براہ راست فائدہ پاکستان او رخطہ کی سیاست سے جڑا ہوا ہے او ریہ امن پاکستان او ربھارت کے درمیان بھی کشیدگی کو کم کرنے کا سبب بنے گا۔

اصل مسئلہ افغان حکومت کا ہے۔کیونکہ وہ یہ سمجھتی ہے کہ اس امن معاہدے سے ان کی سیاسی حیثیت کمزور او رطالبان کی مضبوط ہوئی ہے او ر ان کو زیادہ بااختیاراو ران کی ساکھ کو قبول کیا گیا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ افغان حکومت جو خود کمزورہے خود کو مختلف حربوں سے منوانے کی کوشش کررہی ہے۔ فوجیوں کا انخلا، قیدیوں کی رہائی، پابندی کی فہرست سے ناموں کا اخراج، افغان سرزمین پر مداخلت او رافغان سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہ ہونا اہم فیصلے ہیں، لیکن عملدرآمد کا نظام افغان حکومت کی موجودگی میں پیچیدہ بھی ہے۔ اگر اس امن معاہدہ کی کامیابی کا امکان موجود بھی ہے تو یہ مشکل ضرور ہوگا۔اصل کردار خود امریکہ کا بھی ہے۔کیونکہ جب تک وہ خود کوئی بڑا کردار افغان داخلی بحران کے حل میں نہیں کرے گا، بحران قائم رہے گا۔

اصل میں ہونا تو یہ چاہیے کہ افغان بحران کے حل سے جڑے تمام فریقین سیاسی تدبر، فہم فراست او ربردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود کو چھوٹے اور فروہی مسائل میں الجھانے کی بجائے بڑے مقصد کے لیے پیش کریں۔ کیونکہ امن معاہدہ اسی صورت میں آگے بڑھ سکتا ہے اگر سب فریقین نہ صرف صرف کو دل سے قبول کریں بلکہ ایک دوسرے کے لیے سیاسی او رانتظامی لچک بھی پیدا کریں۔کیونکہ معاملات عملی طور پر فریقین میں کچھ لو او رکچھ دو کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ اگر ایک فریق خود کو بالادست سمجھ لے او رکچھ قربانی دینے کے لیے تیار نہ ہو تو مفاہمت کا عمل پیچھے چلا جاتا ہے او ربگاڑ کا عمل بالادست ہوتا ہے، یہ بڑا المیہ ہوگا۔