کورونا وائرس کے معاملہ پر امریکہ اور چین کی ایک دوسرے پر تنقید

  • بدھ 18 / مارچ / 2020
  • 4310

کورونا وائرس سے متعلق چین اور امریکہ کے درمیان پیدا ہونے والا سفارتی تنازع کھل کر سامنے آگیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے اس دعوے پر تنقید کی ہے کہ امریکی فوج  نے کورونا وائرس چین میں پھیلایا تھا۔

چین نے بھی امریکہ کے صدر کی طرف سے کورونا وائرس کو 'چینی وائرس' قرار دینے پر صدر ٹرمپ کا نام لیے بغیر تنقید کی ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو روز قبل کورونا وائرس کو 'چینی وائرس' قرار دیا تھا جب کہ امریکہ کے وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو متعدد بار اسے 'ووہان وائرس'  کہہ چکے ہیں۔

یاد رہے کہ دنیا کے 100 سے زائد ممالک کورونا وائرس کی لپیٹ میں ہیں۔  یہ وائرس سب سے پہلے چین کی شہر ووہان میں سامنے آیا تھا۔ منگل کو صدر ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ایک نیوز کانفرنس کے دوران اُن کی ٹوئٹ سے متعلق پوچھا گیا تو اُن کا کہنا تھا کہ چین مبینہ طور پر ایسی غلط معلومات فراہم کر رہا تھا کہ ہماری فوج نے کرونا وائرس پھیلایا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ چین کی جانب سے پھیلائی جانے والی معلومات غلط ہیں جس کے باعث مجھے 'چینی وائرس' کہنا پڑا۔ چونکہ یہ وائرس چین سے ہی آیا ہے اور میرے خیال میں یہ بالکل درست اصطلاح ہے۔ صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ بعض نقاد اس اصطلاح کے استعمال کو معیوب قرار دے رہے ہیں؟ اس پر امریکہ کے صدر نے کہا کہ وہ ایسا نہیں سمجھتے بلکہ یہ کہنا معیوب ہے کہ امریکہ کی فوج وائرس کے پھیلاؤ کا سبب ہے۔

ادھر چین نے بعض امریکی شخصیات کی طرف سے کورونا وائرس کو مبینہ طور چین کے ساتھ جوڑنے پر سخت برہمی اور اعتراض کیا ہے۔  چین کا کہنا ہے کہ امریکہ کو پہلے اپنے اندرونی معاملات پر توجہ دیتے ہوئے عالمی سطح پر صحت عامہ کے تحفظ کے لیے ہونے والی بین الاقوامی معاونت میں تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے۔ چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے منگل کو بیجنگ میں ایک بریفنگ کے دوران صدر ٹرمپ کا نام لیے بغیر یہ بات کہی۔

انہوں نے کہا کہ بعض امریکی شخصیات کورونا وائرس کو چین کی ساتھ جوڑ رہی ہیں ایسا کرنا چین کو بدنام کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ امریکہ سے کہیں گے کہ وہ اپنی غلطی درست کرتے ہوئے چین کے خلاف بلاجواز الزامات عائد کرنا بند کر دے۔

صحت کی عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کورونا وائرس کو کسی علاقے یا ملک کے ساتھ مخصوص نہ کرنے کی ہدایت کر چکا ہے۔  گینگ شوانگ نے یہ بھی کہا کہ کورونا وائرس دنیا کے متعدد ممالک میں پھیل چکا ہے اس لیے بین الاقوامی برداری کے لیے ٹھوس اور متفقہ کوششیں ضروری ہیں۔

یاد رہے کہ کورونا وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق 2019 کے اواخر میں چین کی شہر ووہان میں ہوئی تھی اور اب تک دنیا بھر میں اس وائرس سے دو لاکھ  لوگ متاثر اور آٹھ ہزار سے زائد ہلاک ہو چکے ہیں۔

چین کی وزارتِ خارجہ کے ایک اور ترجمان چاؤ لژیان نے ایک ٹوئٹ میں اس سازشی نظریے سے متعلق ایک پوسٹ شیئر کی تھی جس میں انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ کورونا وائرس کو اس خطے میں امریکہ کی فوج لے کر آئی تھی۔ چینی ترجمان کی پوسٹ کے ردِ عمل میں امریکہ کے وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے شدید اعتراض کیا تھا۔

پومپیو نے چین کے اعلیٰ سفارت کار یانگ جیچی سے بھی فون پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ وقت غلط معلومات اور بے بنیاد باتیں پھیلانے کا نہیں ہے۔ وقت کا تقاضہ یہ ہے کہ تمام ممالک مل کر اس مشترکہ خطرے (کورونا وائرس) کا سامنا کریں۔