کورونا وائرس سے ہلاکتیں 8 ہزار ہوگئیں، مریضوں کی تعداد دو لاکھ سے تجاوز
- بدھ 18 / مارچ / 2020
- 4500
دنیا بھر میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد آٹھ ہزار سے بڑھ گئی ہے جب کہ دو لاکھ سے زائد مریض رپورٹ ہو چکے ہیں۔
امریکہ کی جان ہوپکنز یونیورسٹی کے جاری اعداد و شمار کے مطابق بدھ کو دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مریضوں کی مجموعی تعداد دو لاکھ ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جن میں سے 82 ہزار سے زائد مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔ کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد بھی بڑھ کر 8007 ہو گئی ہے۔ چین کے بعد سب سے زیادہ ہلاکتیں اٹلی میں ریکارڈ کی گئی ہیں جہاں ہلاکتوں کی تعداد 2503 ہو گئی ہے۔
پاکستان میں اب تک کورونا وائرس کے 249 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ اب تک اسلام آباد میں 7 کیسز، پنجاب میں 9 کیسز،خیبر پختونخوا میں 19 کیسز، بلوچستان میں 15 کیسز، آزاد جموں و کشمیر میں ایک کیس اور گلگت بلتستان میں 13 کیسز سامنے آئے ہیں۔
پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے تیسرے روز بھی مندی کا رحجان برقرار رہا اور 100 انڈیکس 2200 پوائنٹس کی بڑی کمی کے ساتھ 30 ہزار 416 پر بند ہوا۔ اسٹاک مارکیٹ میں آج 6 اعشاریہ 7 فی صد کمی ریکارڈ کی گئی۔ تاجروں اور معاشی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کاروبار کے لیے اس وقت مشکل صورتِ حال کی کیفیت ہے۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے شرح سود میں کمی ناکافی ہے۔
یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک نے گزشتہ روز نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے اعشاریہ 75 فی صد شرح سود کم کی تھی۔ اب آئندہ دو ماہ کے لیے سود کی شرح 12 اعشاریہ 50 فی صد مقرر کی گئی ہے۔ معاشی امور کے ماہر ولید احمد نے کہا ہے کہ توقع یہ کی جا رہی تھی کہ حکومت شرح سود میں کم از کم 2 فی صد کمی کرے گی لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے یہ اقدام آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدے کی روشنی میں کیا ہے۔ لیکن اگر شرح سود میں کمی کی جاتی تو اس سے ملکی معیشت کی سست روی کم کرنے میں مدد مل سکتی تھی۔
خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس کے مزید تین مریض سامنے آئے ہیں جس کے بعد صوبے بھر میں کووڈ 19 کے مریضوں کی کُل تعداد 19 ہو گئی ہے۔ خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت تیمور خان جھگڑا نے مزید تین مریض سامنے آنے کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ بونیر، ہنگو اور مردان میں ایک ایک مریض رپورٹ ہوا ہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ محمود خان نے بدھ کو کہا ہے کہ کرفیو نہیں لگا رہے، اشیائے خور و نوش کی دکانیں 24 گھنٹے کھلی رہیں گی۔ لیکن دیگر دکانیں شام 7 بجے تک کھولی جائیں گی۔ سرکاری دفاتر شام چار بجے تک کھلے رہیں گے۔ صوبے میں شادی کی تقریبات اور عوامی اجتماعات پر پہلے ہی پابندی عائد ہے۔
وزیرِ اعلیٰ کا کہنا تھا کہ اگلے مرحلے میں ٹرانسپورٹ بند کرنے سے متعلق فیصلہ کریں گے۔