پاکستان میں کورونا متاثرین کی تعداد 377 ہوگئی
- جمعرات 19 / مارچ / 2020
- 4690
پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 377ہوگئی ہے۔ 2 اموات کی تصدیق ہوئی ہے۔ دنیا بھر میں 2 لاکھ 18 ہزار سے زائد افراد متاثر، 8 ہزار 810 اموات اور 83 ہزار افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔
پنجاب میں کورونا وائرس کے مزید 45 نئے کیسز سامنے آگئے۔ وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد نے بتایا کہ صوبے میں اس وقت مجموعی طور پر 78 کورونا وائرس کے کیسز ہیں۔ 78 لوگوں میں سے 60 لوگ زائرین ہیں اور قرنطینہ مراکز میں موجود ہیں۔
ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث وفاقی حکومت نے واہگہ بارڈر کو سیل کرنے کا حکم دے دیا۔ وزارت داخلہ کی جانب سے ڈی جی رینجرز پنجاب کو بھیجے گئے نوٹی فکیشن کے مطابق ابتدائی طور پر واہگہ بارڈر کو 14 دن کے لیے ابتدائی طور پر بند کا کہا گیا ہے۔
دوسری طرف انڈونیشیا میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 82 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ ملک میں اب تک ایک روز کے دوران سامنے آنے والے کیسز کی یہ سب سے زیادہ تعداد ہے۔ انڈونیشیا میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 309 ہو گئی ہے۔ وزارتِ صحت کے حکام کے مطابق ملک بھر میں کورونا وائرس سے 25 ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔
کورونا وائرس کے باعث دُنیا کے مختلف ملکوں میں کئی کمپنیوں اور سرکاری اداروں نے ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت کی ہے۔ طلبہ بھی گھروں سے آن لائن کلاسز لے رہے ہیں۔ سائبر سیکیورٹی سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیکرز اس صورتِ حال سے فائدہ اُٹھا کر کمپنیوں کے ڈیٹا میں مداخلت کی کوشش کر رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ملازمین کا ڈیٹا محفوظ رکھنے کے لیے موصول ہونے والی درخواستوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نیٹ ورکنگ کی بڑی کمپنی 'سیسکو انٹرنیشنل' کو موصول ہونے والی درخواستوں کی تعداد میں 10 گنا تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔
مقبوضہ کشمیر کے دارلحکومت سری نگر میں جزوی لاک ڈاؤن کیا گیا ہے۔ یہ اقدام سری نگر کے گنجان آبادی والے خان یار علاقے سے تعلق رکھنے والی 67 سالہ خاتون کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد کیا گیا ہے۔ کورونا وائرس کی شکار خاتون چند روز قبل ہی عمرہ کی ادائیگی کے بعد واپس پہنچی تھی۔ متاثرہ خاتون کے اہلِ خانہ کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے اور ڈاکٹروں کی ایک ٹیم خان یار میں گھر گھر جا کر لوگوں کا موقع ہی پر طبی معائنہ کر رہی ہے۔
وادی میں کورونا وائرس کا یہ پہلا کیس ہے۔ جس کے بعد پورے علاقے خاص طور پر سری نگر میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ مقامی پولیس اور نیم فوجی دستے سری نگر میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کر رہے ہیں۔ پورے ضلع میں پبلک ٹرانسپورٹ سروسز بند کردی گئی ہیں اور لوگوں کے اجتماع پر پابندی ہے۔