قوم کا اعتماد بحال رکھنا ہوگا

کورونا وائرس کا مرض ایک عالمی بحران ہے او رہمارے جیسے ملکوں کو بھی اس مرض نے اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ مرض ابھی اور زیادہ شدت سے ہمیں کسی بڑے بحران میں مبتلا کرسکتا ہے۔

 پاکستان کی ریاست یا حکومت نے اس مرض سے بچاؤ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر بڑے سخت فیصلے کیے ہیں۔ ان فیصلوں میں تعلیمی اداروں کی بندش، پی سی ایل میچوں کا روکنا، سیاسی،سماجی ہر سطح ہر مذہبی تقریبات کو روکنا، کھیلوں، مدارس، بڑی سیرگاہوں اور فضائی آپریشن سمیت مختلف امو رشامل ہیں۔ وقتی طور پر یہ تمام پابندیاں یا فیصلے لوگوں کے لیے مشکلا ت پیدا کرنے کا سبب بن سکتے ہیں، مگر مشکل حالات کے پیش نظر ہمیں مشکل فیصلے ہی کرنے پڑرہے ہیں جو شائد قومی مفاد  میں ہیں۔

یہ بات بھی سمجھنی ہوگی کہ یہ حالات اچانک پید ا ہوئے او رہم درست طور پر یہ بھی سمجھ نہیں سکے کہ ہم بھی اس بحران کا شکار ہوسکتے ہیں او رابتدا میں ہم نے اسے ایک یا دو ملکوں کا مسئلہ سمجھ کر نظرانداز کردیا تھا۔ لیکن جیسے جیسے یہ مرض مختلف ملکوں میں پھیلتا گیا تو ہمیں بھی تشویش ہوئی او ر ہم نے پھر جو فوری اقدامات کیے یا کررہے ہیں وہ ہمارے سامنے ہے۔پاکستان تو پہلے ہی ان ملکوں میں شمار ہوتا ہے جہاں بنیادی صحت یا صحت سے جڑی سہولتوں کا فقدان واضح نظر آتا ہے۔ ایسے میں جب کوروناوائرس جیسا موذی مرض سامنے آیا تو ہماری صحت سے جڑی ہوئی سہولتوں کا مسئلہ بھی ایک بڑا مسئلہ بن کر سامنے آیا۔اب وفاقی اور چاروں صوبائی حکومت اس مرض سے جنگ لڑنے کی پوری کوشش کررہی ہے۔ بقول وزیر اعظم کے ہمیں اس جنگ سے ڈرنا نہیں بلکہ مقابلہ کرنا اور جنگ جیتنا ہے۔

یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جب ایران میں یہ مرض سامنے آیا تو وہاں پر موجود ہمارے چھ ہزار زائرین بھی اس بحران کا شکار ہوئے اور یہ بھی اعتراف کرنا ہوگا تفتان بارڈر پر جو ہمیں تسلی بخش انتظامات کو یقینی بنانا تھا وہ بھی مکمل طور پر ممکن نہ ہوسکا۔ حالانکہ مشیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے یقین دلایا تھا کہ وہ وہاں انتظامات بہت معیاری ہیں، مگر اب جو خبریں آرہی ہیں وہ ناقص انتظامات کے بھی ہیں او راس کا اعتراف خود حکومتی سطح سے بھی کیا گیا۔تفتان بارڈر پر قرنطینہ کا وقت گزرنے کے بعد بغیر ٹیسٹ کیے ان لوگوں کو گھروں میں منتقل کردینا واقعی بڑی غلطی تھی  او راس کی حکومتی سطح پر جوابدہی بھی ہونی چاہیے۔

لیکن اس کے باوجود اب تک ہم نے جو بھی حفاظتی انتظامات کیے یا ان معاملات سے نمٹنے کی جو بھی وفاقی یا صوبائی حکومتوں کی جانب سے کوششیں ہورہی ہیں وہ کافی حد تک تسلی بخش ہیں۔ وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے زیادہ متحرک او رفعال کردار ادا کیا جو ان کے سیاسی مخالف یا حکومتی سطح پر بھی اس کا اعتراف کیا جارہا ہے۔اصل مسئلہ ایران یا دیگر ملکوں سے آنے والے افراد کا مکمل ٹیسٹ ہے اور یہ کام ہم جتنی جلدی کرسکیں یہ ہمارے مفاد میں ہوگا۔ سندھ کے بعد دیگر صوبائی حکومتوں کی فعالیت بھی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ لیکن کرونا وائرس کا جو ٹیسٹ ہے اس کی فیس کئی ہزار ہے۔ ایسے میں یا تو حکومتی ہسپتالوں میں ان تمام ٹیسٹ کی سہولتیں ہونی چاہیے او رلوگوں کو کم نرخ پر ان ٹیسٹوں سے  استفادہ ملنا چاہیے۔لیکن اگر یہ کام نجی شعبہ میں بھی ہورہا ہے تو حکومت کو نجی شعبہ کی مدد سے اس عمل میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ریلیف دینا چاہیے۔ یہ تاثر نہیں بڑھنا چاہیے کہ اس مرض سے نمٹنے کے جو بھی حفاظتی امو رہیں ان کی قیمتوں میں اچانک بے تحاشہ اضافہ کرکے لوگوں کو کسی بڑی پریشانی میں مبتلا کیا جائے، انہیں ہر صورت میں قانون کے شکنجے میں لانا ہوگا۔

اسی طرح ابتدا میں ہم نے عوامی آگاہی او راحتیاطی تدابیر میں سست روی کا مظاہرہ کیا او راب اس میں ہنگامی بنیادوں پر بڑے اقدامات حکومتی او رنجی شعبہ کی طرف سے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔اصل میں کرونا وائرس ایک بڑا مرض ہے او رپوری دنیا اس کی لپیٹ میں آئی ہوئی ہے تو ایسے میں ہمیں اس مرض کی بنیاد پر لوگوں کے اندر خوف اورڈر سمیت ایک غیر یقینی یا ہیجانی کیفیت کو پیدا کرکے ماحول کو کسی بڑی مشکل میں نہیں ڈالنا۔ بحرانوں سے نمٹنا ہی قوموں کا اصل اور بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ ہمیں بھی اس مرض سے لڑنا ہے لیکن یہ کام کسی بھی صورت میں کسی تنہائی میں نہیں ہوگا۔ یہ کام حکومت اور معاشرے دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس سے نمٹنے کے لیے اپنی اپنی سطح پر اقدامات کو یقینی بنائیں۔ بڑا مسئلہ حکومت او رحزب اختلاف کے درمیان اس اہم مسئلہ پر سیاست سے گریز کرنا ہے۔کیونکہ عمومی طور پر ہم ایسے حساس طرز کے معامات پر بھی سیاسی سکورنگ کرکے اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل کو یقینی بناتے ہیں، جو درست عمل نہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے چارو ں صوبائی حکومتوں اور وزرائے اعلی کو ساتھ ملا کر اس بحران سے نمٹنے کی کوشش کررہے ہیں، مگر یہ بات یہاں نہیں رکنی چاہیے۔ حکومت او روزیر اعظم کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ حزب اختلاف کی قیادت کو بھی اس اہم مسئلہ پر اعتماد میں لے او ران کی تجاویز کو بھی اہمیت دے کر اس مسئلہ سے نمٹنے کی حکمت عملی وضع کرے۔ اس وقت ہیلتھ کی ایمرجنسی نافذ ہے او رہمیں اس وقت اپنے بڑے وسائل اس بحران سے نمٹنے میں خرچ کرنے پڑرہے ہیں۔یہاں سیاسی جماعتوں، مذہبی جماعتوں، میڈیا اور علمائے کرام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ شعور و آگاہی او رلوگوں کو ریلیف دینے کے اس عمل میں خود کو پیش کریں۔کیونکہ اگر اس مرض سے لوگوں کو بچنا ہے تومحض حکومتی اقدامات تک خود کو محدود کرنے کی بجائے آگے بڑھ کر خود بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہونگی اور دوسروں کو بھی قائل کرنا ہوگا کہ وہ بھی طے شدہ احتیاطی تدابیر کو اختیار کریں۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ اس مرض سے نمٹنے کی جو بڑی صلاحیت درکار ہے اس کے بارے میں ہماری اپنی آگاہی بھی بہت محدود یا تربیت کا فقدان ہے۔ ایسے میں اس طرز کے مرض سے خود کو بھی اور دوسروں کو بھی بچانا خود ایک بڑا چیلنج ہے۔اس وقت قوم میں اس مرض کے بارے میں منفی خبرو ں کو پھیلا کر یا ان میں ڈر اور خوف پیدا کرکے ہم کوئی بڑی قومی خدمت نہیں کرسکیں گے۔ خاص طور پر ہمارے یہاں جس انداز سے سوشل میڈیا پر ایک مخالفانہ یا ڈر اور خوف کو بنیاد بنا کر مہم چلائی جارہی ہے وہ خود بڑا بحران پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ یہاں ایک بڑی ذمہ داری سوشل میڈیا کے مقابلے میں پرنٹ او رالیکٹرانک میڈیا کی بنتی ہے کہ وہ نہ صرف لوگوں میں شعور و آگاہی دیں بلکہ علاج کی سہولتوں کے بارے میں معلومات او ران میں اس مرض سے لڑنے کی صلاحیت کو بھی پیدا کرنا میڈیا کی ذمہ داری کے زمرے میں آتا ہے اور خاص طور پر ہمیں اس حساس مسئلہ پر میڈیا ریٹنگ یا  ٹاک شوز میں الزام تراشیوں پر مبنی پروگرام یا ایک دوسرے میں ٹکراؤ پیدا کرنے کی بجائے ایک ذمہ دارانہ کردار کی ضرورت ہے۔اس وقت ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ہمیں اپنے صوبائی اور ضلعی یا تحصیل ہسپتالوں کو اس مرض سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا اور ان میں بنیادی سہولتوں کو یقینی بنانا ہوگا۔ صوبائی او رضلعی انتظامی یونٹ کو فعال کرنا ہوگا اور باقاعدہ ایک ہنگامی آپریشن یونٹ قائم کرنا ہوگا جو وفاقی، صوبائی اور ضلعی انتظامی عمل میں باہمی مشاورت اور تعاون کے امکانات کو بڑھاکر زیادہ سے زیادہ سہولتوں کو یقینی بنایا جاسکے۔

اسی طرح پاکستان کی کوشش ہونی چاہیے کہ وہ اس مرض سے نمٹنے کے لیے چین کے تعاون کو یقینی بنائے۔کیونکہ چین نے جس تیزی سے ان معاملات میں اپنے اندر بہتری پیدا کی وہ قابل قدر ہے۔ ہمیں چین سمیت دنیا کے تجربوں سے بھی فائدہ اٹھانا چاہیے۔ وزیراعظم روزانہ کی بنیاد پر چاروں صوبائی وزرائے اعلی سے رابطہ کو یقینی بناکر ان کو جو بھی صوبائی سطح پر درپیش مسائل یا چیلنجز ہیں ان کے حل میں وفاقی حکومت کی طرف سے تعاون کے امکانات کو بڑھائیں۔اسی طرح صوبائی وزرائے اعلی ارکان اسمبلی، صوبائی اور ضلعی انتظامیہ کی مدد سے نگرانی کے نظام کو مربوط بنائیں۔ کیونکہ ہمیں ہر سطح پر مشکل وقت میں لوگوں کا اعتماد بھی بحال کرنا ہے اور بطور قوم اس جنگ سے لڑنا بھی ہے او راسے ہر سطح پر جیتنا بھی ہے، یہ ہی ہماری قومی حکمت عملی ہونی چاہیے۔