سینائے مصر کی بدوی خاتون
- تحریر ڈاكٹر ولاء جمال العسيلي
- جمعرات 19 / مارچ / 2020
- 11340
سینا فیروز کی سرزمین ہے۔ یہیں مصر کی مشہور پہاڑ طور سینا (سینین) ہے جس پر حضرت موسی (علیہ السلام) کو اللہ تعالی کی تجلی ہوئی تھی۔ ان کو دو دفعہ اللہ تعالی سے ہم کلامی کا شرف حاصل ہوا۔
اللہ تعالی نے سورہ الطور میں اس کوہ کی قسم کھائی ہے۔ یہیں صحرائے سینا میں وادی مقدس (طوی) ہے جس پر کلیم اللہ موسی (علیہ السلام) کو پیغمبری سے نوازا گیا۔ اسی جزیرہ سینا میں بہت سارے تاریخی اور سیاسی مقامات ہیں جن کو دیکھنے کے لئے لوگ دور دور سے آتے ہیں۔ یہیں جزیرہ نمائے سینا میں بدوی خاتون رہتی ہے۔
بدوی خاتون کا کردار سینا پر 1967 سے 1980 تک اسرائیل کے قبضے کے دوران قابلِ تعریف ہے۔ تاریخ ایسی قابلِ تعریف اور پر عزم عورتوں کے کاموں سے بخوبی واقف ہے۔ ایسی عورتوں کی ہمت اور کردار کا اعتراف کرتی ہے۔ جنہوں نے سینا کو مزید محفوظ اور پر امن جگہ بنانے کے لئے ماضی میں قربانیاں دیں۔ مرد کے ساتھ ساتھ بدوی خاتون نے سینا سے اسرائیلی حملہ آور کو باہر نکالنے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کی۔ اُس وقت بدوی خواتین کا کردار اہم تھا۔ ذہنی اور جسمانی طور پر بیٹیوں کی تیاری کرنا، مزاحمت اور ہمت سے کام لینا، بیٹوں کے کھانے پینے کا بندوبست کرنا،اسلحہ اٹھانا، مقابلہ کرنے والوں کے قدموں کے نشان پر بھیڑوں کے ساتھ چلنا تاکہ دشمن ان کی پیروی نہ کرے۔
بدوی خاتون کے ان کاموں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی تعاون کے بغیر جو کام مردوں نے کیا تھا شاید وہ نہ کر سکتے ۔ ان کا کردار روشنی کی مانند تھا۔ جس طرح روشنی صاف ہو تو راستہ واضح ہوجاتا ہے۔ تاہم افسوس کی بات ہے کہ بدوی معاشرہ ان کی صلاحیت اور ان کے کردار کی قدر نہیں کرتا۔ اور اسے نظر انداز کیا جاتا ہے یا حقیر خیال سمجھا جاتا ہے۔ گھر کے اوزار کو ایک آلہ کی طرح دیکھتا ہے۔ سینا میں بدوی عورت خراب حالات میں زندگی گزار رہی ہے۔ ان کے درپیش بڑے مسائل کے سامنے وہ بے بس دکھائی دیتی ہے۔ کیونکہ وہ قبائلی معاشرے سے تعلق رکھتی ہے ۔ انہیں مردوں سے کمتر خیال سمجھا جاتا ہے۔ بدوی معاشرہ میں اپنے رسومات پر نہ چلنے اور عورت کا کوئی کردار ناقابل قبول ہے۔ اس معاشرے میں عورت ہمیشہ پوشیدہ نظر آتی ہے- زیادہ تر بدوی مرد، عورت کی کوئی قدر نہیں کرتا۔ عورتوں کو حقیر دیکھا جاتا اور انہیں یہ نہیں دیکھتا کہ وہ بھی ایک دماغ، ایک روح، ایک عقل اور ایک سوچ کی مالک ہیں بلکہ انہیں ایک حیاتیاتی نقطہء نظر سے دیکھتا ہے۔
بدوی معاشرہ جنم کے پہلے دن سے ہی مرد کو عورت پر ترجیح دیتا ہے۔ جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو لاثانی خوشیاں۔ یعنی والد کو بچے کی پیدائش پر فخر ہے۔ لیکن جہاں تک بچی کی پیدائشی کا تعلق ہے تو معاملہ بالکل الٹا ہو جاتا ہے۔ اس غم کے ساتھ مایوسی بھی ہوتی ہے اور آرزومند ہوتا ہے کہ کسی کو بچی کی آمد کا نہ پتہ چلے۔ اس لئے بہت ساری بدوی عورتوں کی دلی خواہش ہے کہ انہیں صرف لڑکا پیدا ہو تاکہ وہ معاشرتی دباؤ سے گریز کریں۔
بدوی عورتوں کا بڑا حصہ پیدائشی سرٹیفکیٹ سے محروم ہے۔ جبکہ ان میں کم سے کم تعداد عورتیں کی ہیں جن کی عمر تیس سال سے کم ہوتی ہے۔ جو پیدائشی سرٹیفیکیٹ کی مالک ہیں۔ اس بات کا بڑا سبب اور مقصد یہ ہے کہ دنیا میں ایک بیٹی آ گئی ہے۔ مگر لڑکے کی پیدائشی کے فوری بعد والد اس کے لئے پیدائشی سرٹیفیکیٹ نکلواتا ہے تاکہ بڑا ہو کر وہ بعد میں اسکول جائے۔
یہ بھی ایک افسوس ناک بات ہے کہ بدوی خاتون اپنے حقوق سے محروم ہیں اور جس کی مثال ہے جائیداد اور وراثت میں اس کا حصہ ہے۔ عورت کی وراثت کے متعلق بدوی معاشرے کی رسومات قانون اور اسلامی شریعت کے بالکل خلاف ہیں۔ اور یہ بے بس عورت کورٹ اور شرعی عدالت کے ذریعے اس کا حق دعوی نہیں کر سکتی ہیں۔ کیونکہ ان کے پاس نہ پیدائشی سرٹیفیکیٹ ہے نہ شادی کے دستاویز ہیں کیونکہ ان کی شادی قبائلی رسم کے مطابق ہوتی ہے۔ اس لئے مردوں کو آسانی ہے کہ وہ جائیداد میں ان کے حق سے محروم کریں۔
بدوی معاشرے کی روایات ہے کہ قبیلے سے باہر بے شمار عورتوں کو تعلیم حاصل کرنے اور کام کرنے سے محروم رکھتی ہے- تاکہ وہ لوگوں سے بات چیت نہ کرے اور ناقابل قبول بدوی معاشرے میں سماجی عادتیں نہ اپنائے۔ معاشرہ عورت کے سرکاری کام کو رد کرتا ہے۔ ایسا شاذ ونادر ہی ہوتا ہے کہ کوئی بدوی عورت سرکاری دفاتر میں کام کرتی ہے۔ گھریلو کام و کاج کے سلسلے میں بدوی مرد کا خیال ہے کہ یہ عورت کی لازمی ذمہ داری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بدوی عورتیں اور بھی کچھ کام کرتی ہیں جیسے مویشی پالنا، زراعت میں ہاتھ بٹانا، منسوج سازی، آرائش اور سلائی کڑھائی وغیرہ ہے۔ ایسے کاموں میں وہ ماہر ہوتی ہیں ۔اس کے علاوہ دودھ سے مختلف اقسام کے کھانا بنانے اور جڑی بوٹیوں سے علاج کی مہارت بھی انہیں حاصل ہے۔
بدوی عورت سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیتی اور قیاس کیا جاتا ہے کہ اگر ایسا ہوتا تو وہ سیاسی انتخابات میں ووٹ ڈالتی تو انہیں ایسی سیاسی پارٹیوں کے لئے ووٹ ڈالنے پر مجبور کیا جاتا جس کی اپنے شوہر یا اپنے والد یا اپنے بھائی حمایت کرتے ہیں۔ کیونکہ اسے اپنے شوہر یا بدوی معاشرے میں عورتوں کو گاڑی چلانے کی صلاحیت یا اجازت نہیں ہے۔ جو کہ اس معاشرے میں ایک ناجائز اور شرمناک بات ہے۔ یہ سہولت صرف بدوی مرد کو حاصل ہے۔
ان غلط تصورات کی وجہ سے بدوی معاشرے میں عورت بہت سی پابندیوں کا شکار ہو گئی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ صرف بدوی خاتون کی ہی کہانی نہیں، نہ جانے اور کتنی خواتین دنیا بھر میں ہیں جو اس طرح کی زندگی گزار رہی ہیں۔ جہاں عورتیں سماجی روایت، بے بسی اور لاچارگی کی بنا پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اپنے حقوق کی محرومی اور بے بسی کو مقدر کے سپرد کر کے خاموش بیٹھ جاتی ہیں جو کہ ایک افسوسناک بات ہے۔
آخر یہ کیسا معاشرہ ہے، جو عورت کو ایسے بنیادی حقوق سے محروم رکھتا ہے جن کی قانون اور شریعت نے اجازت دی۔ اب بھی بہت سے معاشروں میں تاحال خواتین اپنے انسانی حقوق سے محروم ہیں۔ انہیں جنسی بنیاد پر تفریق کا نشانہ بننا پڑتا ہے اور معاشی ترقی میں کردار ادا کرنے میں ان کی اہلیت کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں۔ بطور خاتون میرا ماننا ہے کہ عورت کو کو کمتر خیال کرنے کے بجائے اس کی قدر اور احترام کرنا چاہئیے اور اس پر بھروسہ رکھنا چاہئیے۔
میں اس بات پر زور دیتی ہوں کہ آج کی سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ عورت کو کٹھن حالات سے مقابلہ کر کے ہر ظالم نظام کے خلاف اپنی آواز بلند کرنی چاہیے۔ عورتوں کو سمجھنا چاہیے کہ زندگی صرف زندہ رہنے کا نام نہیں ہے بلکہ اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے جسے ہم اپنی کمزوری سمجھ کر سماجی دباؤ اور روایتوں کی وجہ سے برباد کر دیتے ہیں ۔