’کچھ‘ کرو ناں !
- تحریر
- جمعرات 19 / مارچ / 2020
- 5000
کورونا وائرس کی تباہی چین، ایران اور دیگر ممالک کے بعد اب پاکستان پر حملہ آور ہے۔ دو ماہ سے بار بار سن رہے تھے کہ حکومت نے سب تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ گھبرانے کی ضرورت نہیں۔
عوام نے حوصلہ پا کر اس دوران سوشل میڈیا پر ایک سے بڑھ کر ایک میم بنانے کا چسکا پورا کیا۔ پیاز ، لہسن، ادرک اور نہ جانے کیا کیا علاج دنیا کو تجویز کئے۔ دنیا کی بے خبری اور کم فہمی کہ ان نادر نسخہ جات کو گھاس نہ ڈالی ، اور یوں دنیا نے بھگتا۔
اب جبکہ کورونا وائرس مختلف راستوں سے ملک میں حملہ آور ہو چکا ہے تو حکومت ایک طرف عوام کو سمجھانے میں مصروف ہے کہ انہوں نے بہترین بندوبست کئے، جس کی تعریف ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے کنٹری ہیڈ نے بھی۔ کیا جتن کرکے میڈیا پر اس تعریف کو ہیڈ لائنز بنا کر سینہ تاننے کا خود پسندی کا شوق بھی پورا کیا گیا۔ دوسری طرف اب جبکہ تین سو سے زائد کنفرم کیسز سامنے آئے ہیں تو وفاقی اور پنجاب حکومت میڈیا کے جادو کے زور پر یہ سمجھانے پر مصر ہے کہ سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے۔ بس کچھ عادی ناقدین اور سیاسی مخالفین ہیں جو ہر ایسے موقع پر دھما چوکڑی مچاتے ہیں ۔ اب ایسے لوگوں کی تنقید کیا اور اس تنقید کا سنا کیا۔
مگر کیا کریں کہ ہر گزرتے دن اس تیاری کا بھرم کھل رہا ہے جس کا دو ماہ سے شہرہ تھا۔اگر تیاریاں مکمل اور سائنسی گائیڈ لائینز پر ہوتیں تو کورونا یوں جن کی طرح بوتل سے نکل کر پورے ملک میں خوف اور موت کا ناچ برپا نہ ہوتا۔ دور کیا جانا، صرف آج کے اخبارات کی ہیڈ لائینز کافی ہے یہ بتانے کے لئے کم از کم اب تو کچھ " کرو ناں"۔
ماسک اور سینی ٹائزر مارکیٹ سے غائب ہیں۔ جو بمشکل دستیاب ہیں وہ بھی کئی گنا مہنگے۔ وینٹی لیٹرز کے لئے آرڈرز دے دیے گے۔ کل پنجاب نے ڈسٹلریز خو اجازت دے دی گئی ہے کہ وہ خود سینی ٹائزرز بنا سکتے ہیں ۔۔
کسے نہیں معلوم کہ ائیرپورٹ اور زمینی راستوں کے مکمل لاک ڈاون کے ذریعے وائرس ملک میں آ سکتا ہے مگر جو داستانیں سننے میں آ رہی ہیں ، اس نے سوچ میں ڈال دیا ہے کہ اگر یہ تیاری تھی تو عدم تیاری اور غفلت کیا ہوتی ہے؟
تافتان بارڈر اور ڈیرہ غازی خان میں قرنطینہ سنٹرز کی گردش میں ویڈیوز اگر تیاری کا مظہر ہے تو کیا کیا جائے۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے سربراہ بار بار کہتے رہے کہ ٹیسٹ، ٹیسٹ اور ٹیسٹ ہی اس بیماری روکنے کے لئے ضروری ہے مگر اب جا کر کہیں ٹیسٹ کٹس کے اضافی آرڈرز دیے گئے۔ ملک میں ساڑھے گیارہ سو وینٹی لیٹر موجود ہیں۔ دو ماہ سے تیاریوں کا شہرہ رہا مگر آج ایک ہزار وینٹی لیٹر کے آرڈر کی نوید سننے کو مل رہی ہے۔
این ڈی ایم اے نے ایک طویل فہرست آج حکومت کو فراہم کی کہ ان کا بندوبست کیا جائے تاکہ کچھ کام وائرس کے بچاؤ کا بھی کیا جا سکے۔
لاہور میں ڈاکٹرز اور نرسنگ اسٹاف ہڑتال پر اس لئے مجبور ہوئے کہ ان کے پاس حفاظتی لباس اور اسباب میسر نہیں۔۔۔ کسے نہیں معلوم تھا کہ یہ سب کچھ درکار ہو گا مگر۔۔۔۔ کرونا شاید پھر بھی پھیلتا مگر یوں عوام بے بسی کا شکار نہ ہوتے۔ ہانگ کانگ، جنوبی کوریا اور سنگاپور کی طرح اعتماد کے ساتھ سامنا کرتے۔
اب بھی وقت ہے کہ سندھ حکومت کو ساتھ شامل کرکے پچھلی سستی کی تلافی کی جائے۔ میڈیا ٹاکس اور ٹویٹ کی بجائے ۔۔کچھ کرکے دکھائیے۔