اسلام آباد ہائی کورٹ کا اڈیالہ جیل سے معمولی جرائم والے قیدیوں کو رہا کرنے کا حکم

  • جمعہ 20 / مارچ / 2020
  • 4790

اسلام آباد ہائی کورٹ نے کورونا وائرس کے باعث اڈیالہ جیل میں موجود معمولی جرائم والے قیدیوں کو ضمانتی مچلکوں پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر 1362 قیدیوں کی ضمانت پر رہائی سے متعلق کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی۔ عدالت میں ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقت ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہوئے۔

دوران سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سوال کیا کہ جیل سے متعلق انتظامیہ کی کیا پالیسی ہے جس پر ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ ’ابھی تک جیل میں کسی قیدی میں کورونا وائرس کی تشخیص نہیں ہوئی ہے‘۔ اڈیالہ جیل میں ملاقاتیوں کا آنا جانا بند کر دیا گیا ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ اگر کسی جیل کے قیدیوں میں وائرس پھیل گیا تو بہت مشکلات ہو جائیں گی۔ ابھی تک صرف چین ہی اس وائرس کا پھیلاؤ روکنے میں کامیاب ہؤا ہے اور چین میں بھی 2 جیلوں میں وائرس پھیلنے کے بعد معاملات خراب ہوئے تھے۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ آوارگی کے الزام میں بھی لوگ جیل میں پہنچ جاتے ہیں۔ اتنے معمولی جرائم والے تو جیل تک نہیں پہنچنے چاہئیں۔ جیل میں کسی قیدی کو نہ اسکریننگ کے بغیر اندر آنے دیا جائے نہ باہر جانے دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکشن 401 کے تحت بیمار قیدیوں سے متعلق انتظامیہ اور حکومت بااختیار ہیں۔ ان کی سزا معطل کی جائے جبکہ پے رول پر بھی کچھ قیدیوں کو عارضی طور پر رہا کیا جا سکتا ہے۔

بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے کورونا وائرس کے باعث اڈیالہ جیل کے قیدیوں سے متعلق حکم جاری کرتے ہوئے معمولی جرائم والے قیدیوں کو ضمانتی مچلکوں پر رہا کرنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے حکم دیا کہ کہ ڈپٹی کمشنر ایک آفیسر مقرر کریں جو ضمانتی مچلکوں کے معاملات دیکھے۔ جو قیدی مچلکے جمع نہ کرا سکیں اور حکومت کو ان کے مچلکے خود دینا پڑیں تو دے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ ایمرجنسی نوعیت کے حالات ہیں ، تمام اقدامات کرنا ہوں گے، ہماری قوم گھبرانے والی نہیں لیکن اقدامات تو کرنے ہی ہوں گے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ جو قیدی تھانوں میں موجود ہیں ان کے مچلکے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) لے کر رہا کر سکتا ہے۔ ہم تھانے والے قیدیوں سے متعلق بھی تحریری حکم جاری کر دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ان حالات میں گرفتار صرف اسی کو کیا جائے جس سے بہت خطرہ ہو۔ اگر کورونا کو قابو نہ کیا گیا تو 50 سال تک اس نقصان کا ازالہ نہیں ہو پائے گا۔

اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے وکیل جہانگیر جدون نے عدالت سے سوال کیا کہ ’کیا نیب کے قیدیوں پر بھی عدالتی احکامات کا اطلاق ہو گا‘ جس پر عدالت نے کہا کہ نیب قیدیوں سے متعلق اختیار صوبائی حکومتوں کا ہے۔ ہم جیل میں قیدیوں کی تعداد کم کرنے کے لیے معمولی جرائم والے قیدیوں سے متعلق احکامات دے رہے ہیں۔