کورونا وائرس سے مجموعی ہلاکتیں 10 ہزار سے تجاوز کرگئیں، پاکستان میں 464 مریض
- جمعہ 20 / مارچ / 2020
- 4440
دنیا بھر میں کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ پاکستان کے صوبۂ سندھ میں بھی کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت ہوئی ہے۔ پاکستان میں کورونا متاثرین کی تعداد 464 ہوگئی ہے۔
امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے گورنر نے شہریوں کو حکم دیا ہے وہ وائرس سے بچاؤ کے لئے اپنے گھروں میں رہیں۔ اور غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلیں۔ امریکہ میں کورونا وائرس کے مزید 2700 نئے کیسز سامنے آنے کے بعد اس مہلک وبا سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 13 ہزار 133 تک پہنچ گئی ہے جب کہ لگ بھگ 200 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
امریکہ کی تمام 50 ریاستیں کورونا وائرس کی لپیٹ میں ہیں اور مختلف ریاستوں میں عوامی اجتماعات اور عوامی مقامات بند ہیں اور لوگوں کو گھروں میں ہی رہنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے لنڈی کوتل کے 94 عمرہ زائرین کے گھروں سے نکلنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے پشاور سے ملحقہ قبائلی ضلع خیبر کے علاقے لنڈی کوتل سے تعلق رکھنے والے عمرہ زائرین کو دو ہفتوں تک گھروں سے نہ نکلنے کی ہدایت کی ہے۔ ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر شمس الاسلام نے کہا ہے کہ یہ اقدام کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے کیا گیا ہے جب کہ مزید اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔
کراچی میں کورونا وائرس کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر ایکسپو سینٹر میں ایک بڑا عارضی اسپتال قائم کرنے کے اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ صوبائی حکومت نے اس بات کا فیصلہ مریضوں کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث کیا تھا۔ اس مقصد کے لیے فوج کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں۔
جمعہ کو اعلیٰ سول و عسکری حکام نے ایکسپو سینٹر کا دورہ کر کے وہاں عارضی اسپتال کے انتظامات کا جائزہ لیا۔ عارضی اسپتال میں آرمی کی جانب سے آئسولیشن سینٹر بھی قائم کیا جا رہا ہے جس میں وینٹی لیٹرز اور دیگر طبی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔ اسی طرح کراچی ایئرپورٹ کے قریب ایک سرکاری ہوٹل میں بھی 30 بیڈ کا قرنطینہ سینٹر قائم کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ سندھ پاکستان میں اب تک کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ ہے جہاں 238 افراد اس مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں اور ایک 77 سالہ شہری وائرس سے ہلاک بھی ہوا ہے۔
امریکہ نے کورونا وائرس کے باوجود ایران پر سے پابندیں اٹھانے سے انکار کردیا ہے۔ ایران میں کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ اور ہلاکتوں پر چین اور پاکستان سمیت مختلف ملکوں نے امریکہ پر زور دیا تھا کہ وہ ایران پر سے معاشی پابندیاں ہٹا لے۔ امریکہ کا استدلال ہے کہ ایران پر عائد پابندیاں کورونا وائرس کے باعث ملک میں امدادی سامان اور میڈیکل آلات کی ترسیل پر اثرانداز نہیں ہوتیں۔
امریکہ کے خصوصی نمائندے برائن ہک کا کہنا ہے کہ وہ ایران پر دباؤ برقرار رکھیں گے۔ برائن ہک کے بقول امریکی پابندیاں ایران میں امدادی سامان کی راہ میں حائل نہیں ہو رہیں۔