کورونا کے دنوں میں ڈائری کا ایک ورق
- تحریر سرور غزالی
- ہفتہ 21 / مارچ / 2020
- 4930
آج 21 مارچ کو چار بجے مشاعرہ رکھا ہے۔ ایسے حالات ہیں کہ مشاعرہ آن لائن رکھ کر بھی دل مطمئن نہیں۔
سماجی رابطے کے لئے تو قربت، نزدیکی چاہئے جو پہلے ہی بے معنی ہو چکے ہیں۔ انسان گھر سے بیٹھے بیٹھے دنیا سے رابطے میں رہ کر سمجھ رہا تھا کہ یہی سب کچھ ہے۔ مگر پھر بھی گمان غالب یہی تھا کہ قرب سے بڑھ کر کوئی رابطہ مضبوط نہیں۔ مگر کورونا وائرس کے ہنگامے نے ثابت کردیا ہے کہ جسمانی قربت و نزدیکی کے علاوہ بھی رابطے ممکن ہیں اور بہت ضروری ہیں۔
انسان بغیر سانس لئے، بغیر دل کی حرکت کے اور دماغ کی تحریک کے قبر میں تو اتر سکتا ہے مگر زندگی کے ان لوازمات کے ساتھ تنہا نہیں رہ سکتا۔ زندگی صرف دیکھنے، محسوس کرنے یا سانس لینے کا نام نہیں ہے۔ زندگی ہلچل کا نام ہے، تحریک کا نام ہے۔ متحرک رہنے کانام ہے۔
تاہم اب وقت کی پکار یہی ہےکہ قربت جسمانی کو ترک کرکے صرف قربت برقی کو قائم رکھا جائے۔ شاید واٹس ایپ، فیس بک اور دیگر سماجی رابطے ایجاد ہی اسے لئے ہوئے تھے کہ انسان کو کورونا جیسی وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کیا جائے۔
اس کے علاوہ بھی کھیل کود اور ورزش وغیرہ جیسی مصروفیات کا حل اس برقی، آن لائن دور میں موجود ہے۔ ہم اس وباکو اسی طرح شکست دے سکتے ہیں۔ گھروں میں رہئے اور خود کو اس طرح مصروف رکھئے کہ بلا ضرورت گھر سے باہر نہ نکلا جائے۔
خریداری کرنے، ڈاکٹر کو دکھانے اور نوکری کے علاوہ ماہ دو ماہ کے لیے تمام مصروفیات مؤخر کر دیں۔ اس طرح سے شعبہ صحت اور امن عامہ سے وابستہ افراد کا کام بھی کم ہوگا۔ وبا کم سے کم پھیلے گی اور حالات قابو میں رہیں گے۔
میری بات پر دھیان ضرور دیجیئے گا۔ صحتمند رہئے.