کورونا: یہ رہی ریاست اور عوام کی تیاری
- تحریر
- ہفتہ 21 / مارچ / 2020
- 3690
دوسری جانب سے اپنے کاروباری رفیق کی بے اعتنائی کے باوجود ہم نے فون پر گفتگو جاری رکھی۔ بات پوری ہو ئی تو جواب آیا: آپ خواہ مخواہ زیادہ پریشان ہو رہے ہیں۔ اللہ مالک ہے، موت کا ایک وقت معین ہے۔
اُن کے ہاں سینکڑوں ملازمین کی صحت اور سلامتی کا تقاضا تھا کہ احتیاطی تدابیر کو جنگی بنیادوں پر سمجھایا اور عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ مگر ان کی خود انکاری جاری رہی، بولے: سنا ہے کورونا وائرس ستائیس ڈگری سے زائد گرم موسم میں زندہ نہیں رہتا۔ آپ دیکھیں گے یہ وائرس موسم گرم ہوتے ہی چند دنوں میں ختم ہو جانا ہے، آپ پریشان نہ ہوں۔ یہ ایک نہیں بلکہ ہمارے ہاں ہزاروں لاکھوں افراد کورونا وائرس کی ہولناکی اور پھیلاؤ کے لئے غیر سنجیدہ اور لاپرواہی کا رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ چین میں اس وائرس کے پیدا ہونے، اٹلی میں اس قدر زیادہ اموات اور یورپ بھر میں تیز پھیلاؤ اور لاک ڈاؤن پر کج بحثی کے لئے سازشی تھیوریوں سے لے کر طرح طرح کے جواز موجود ہیں۔ معاملے کی حساسیت کے پیشِ نظر ایمرجنسی اقدامات اور سخت ترین احتیاطی تدابیر کے لئے شعوری کوشش تو بہت بعد کی بات ہے!
لاہور اور کراچی میں کچھ ایسے کنفرم کیسز بھی سننے میں آئے ہیں کہ باہر سے آنے والے کو خود میں علامات کی موجود گی کا اندازہ ہونے کے باوجود انہوں نے شادی کے فنکشنز یا فیملی کے اجتماع میں شرکت کی۔ بعد ازاں معاملہ ہاتھ سے نکلا تو پتہ چلا رابطے میں آنے والے کئی بے خبر متاثر ہو چکے ہیں۔ پہلے پہل کی یہ بے اعتنائی اب گھبراہٹ اور خوف میں بدل رہی ہے۔ کہاں تو یہ عالم تھا کہ گزشتہ تین ماہ سے سوشل میڈیا پر کورونا وائرس کے بارے میں مزاحیہ اور طنزیہ میم بنانے کا چسکا چھایا ہوا تھا۔ شاید ہی کوئی سبزی اور جڑی بوٹی بچی ہو جس میں کوونا کش صلاحیت نہ بتائی گئی ہو۔ اب جبکہ کورونا وائرس نے ملک میں پنجے گاڑ دیے ہیں، متاثرین کی تعداد پانچ سو کے قریب ہے اور تیزی سے بڑھ رہی ہے، دو افراد جان کی بازی بھی ہار چکے ہیں تو سوشل میڈیا میں حکومت پر تنقید کی بوچھاڑ شروع ہو گئی ہے۔
’نہ جی ناں، اصل تعداد بہت زیادہ ہے، یہ صحیح تعداد بتا نہیں رہے ٗ، ُاِن کے پاس تو مناسب تعداد میں ٹیسٹنگ کٹس ہی نہیں، یہ ٹیسٹ نہیں کر پا رہے تو صحیح تعداد کیا بتائیں گے، ُاِن کے پاس تو قرنطینہ کے لئے سہولیات ہی نہیں، جو ہیں ان کے حالات بھی توبہ توبہ۔۔ ٗ۔ جتنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ اتنے ہی تبصرے ہیں۔ کورونا وائرس چین کے شہر ووہان میں نومبر میں دریافت ہوا اور تیزی سے پھلنا شروع ہوا۔ خود چینی حکومت کو اس کی سنگینی اور اس کے متعدی ہونے کی حقیقت کا ادراک کرنے میں کئی ہفتے لگے۔ چین کی حکومت خود انکاری سے باہر نکلی تو بہت سرعت سے کورونا وائرس کے خلاف اقدامات شروع کر دیے۔ ان اقدامات میں ووہان شہر سمیت بہت سے علاقے مکمل لاک ڈاؤ ن کئے گئے، دس دنوں میں دو ہسپتال کھڑے کر دیے گئے۔ کوونا وائرس کے بارے میں سائنسی ڈیٹا جمع ہونا شروع ہوا، درجنوں ادارے اس پر ریسرچ میں جُت گئے۔
دنیا نے جلد یہ جان لیا کہ آپس میں جڑی گلوبل دنیا میں یہ وائرس دوسرے ملکوں تک جلد یا بہ دیر پہنچے گا۔ ہانگ کانگ، جنوبی کوریا اور سنگاپور جیسے ممالک نے خطرے کو بھانپتے ہوئے تمام وسائل حاضر کئے، اور انتظامی اقدامات جنگی بنیادوں پر اٹھانا شروع کئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ نقصان بہت کم ہوا، عوام کا اعتماد اور تعاون ایک دن بھی متزلزل نہ ہوا۔ دوسری جانب کئی ممالک نے اس پر طنز کے نشتر برسائے، امریکی صدر نے تو اسے یعنی شر انگیز جھوٹ کہا، اٹلی نے پہلے پہل اس کی سنگینی کا احساس نہ کیا، جزوی لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا تو عوام نے تعاون نہ کیا، مجبوراٌ پورا ملک لاک ڈاؤن کرنا پڑا۔ عمل درآمد کے لئے فوج سڑکوں پر بلانا پڑی۔ یہی کچھ چند دن بعد سپین اور فرانس کو بھی کرنا پڑا۔ اب برطانیہ سمیت یورپ کے تمام ممالک روزانہ اموات کا کاؤنٹر کو دیکھ کر خوفزدہ ہیں اور اب چین کے اقدامات کا اتباع کرنے پر مجبور ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور امریکہ میں بھی اب خطرہ تمام ریاستوں میں پنجے گاڑ چکا ہے۔
جوں جوں دنیا کو کورونا کے پھیلاؤ کا اندازہ ہوا، اس کے ساتھ ہی چین پر گلوبل سپلائی چین کے اس قدر انحصار کا انکشاف ہوا۔ ماسک، تھرمل تھرما میٹر، وینٹی لیٹر، میڈیکل اسٹاف کے لئے حفاظتی لباس اور سامان، مریضوں کے بیڈ، ہسپتال کا سازوسامان، عملے کی یونی فارم حتیٰ کہ ٹائلٹ پیپر، صابن اور وائرس کش ہینڈ سینی ٹائزر تک کے لئے چین پر انحصار نے بیشتر ممالک میں ایک نیا بحران کھڑا کر دیا۔ سپر مارکیٹس میں چھینا چھپٹی کی شکایات عام ہو گئیں۔ گلوبلائزیشن کا خمار پہلی بار ایک کانٹے کی طرح چبھا۔
اس کے ساتھ ہی عالمی حصص منڈیوں میں بقول شخصے کشتوں کے پشتے لگ گئے یعنی Blood bath ہو گیا۔ کھربوں ڈالرز کی مالیت حصص مارکیٹ میں بھاپ بن کر اڑ گئی۔ یورپ اور امریکہ کے مرکزی بنکوں نے راتوں رات نقصان اور اعتماد کے رِستے زخموں پر مرہم رکھنے کے لئے شرح سود صفر کر ڈالی۔ یورپی یونین اور امریکہ نے الگ الگ اپنے ہاں ایک ایک ہزار ارب ڈالرز کے لگ بھگ مالیاتی سپورٹ کا اعلان کیا، آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک بھی میدان میں کود پڑے ہیں کہ عالمی معیشت کو کسی نہ کسی صورت کساد بازاری سے بچایا جائے۔ اکثر ممالک ٹیکس معاف کرنے، واجبات موخر کرنے، چھوٹے بڑے کاروبار اور بے روزگاری کے شکار افراد کے لئے براہ راست امداد کے اقدامات ہنگامی بنیادوں پر کر رہے ہیں تاکہ عالمی معیشت کی شمع کی ساری موم پگھل نہ جائے۔
پاکستان کی وفاقی و صوبائی حکومتوں کے پاس تیاری کے لئے کم از کم دو ماہ سے زائد کا عرصہ تھا۔ میڈیا بیانات کی حد تک اور کاروائیوں کی حد تک یہی تاثر دیا گیا ہے کہ ہم تیار ہیں۔ کوروناوائرس کے انٹری پوائنٹس پر ’فول پرو ف‘ اقدامات کا بھرم تافتان بارڈر پر قائم قرنطینہ مرکز کی وائرل ویڈیوز نے کھول کر رکھ دیا ہے۔ کل کے اخبارات گواہی دے رہے ہیں کہ ماسک اور ہینڈسینی ٹائزر تک شارٹ ہیں، اب ایتھونال بنانے والی کمپنیوں کو ہینڈ سینی ٹائزر بنانے کی جازت دی گئی ہے۔ ملک بھر میں فقط ساڑھے گیارہ سو وینٹی لیٹرز ہیں، اب ایک ہزار نے وینٹی لیٹرز کا آرڈر دیا گیا ہے۔
ڈاکٹرز اور طبی عملے کے لئے حفاظتی لباس اور سامان تک مطلوبہ تعداد میں دستیاب نہیں۔ سندھ حکومت کو وفاق کے عدم تعاون اور فضائی و زمینی راستوں سے بیرون ملک ٹریفک کے بر وقت کنٹرول نہ کرنے کا شکوہ ہے۔ دنیا بھر میں اجتماعات اور عوام کی نقل و حرکت روکنے کے لئے انتہائی اقدامات ہنگامی بنیادوں پر اٹھائے گئے مگر ہمارے ہاں اگر مگر کی گردان اور ’یہ اور وہ‘ کے مناظر جاری ہیں۔یہ ہے اس تیاری کی کیفیت جو دو ماہ سے ریاست اور عوام اپنے تئیں کئے بیٹھے تھے۔
آنے والے دن بہت بھاری لگ رہے ہیں۔ ظفر اقبال کا ایک شعر یاد آ رہا ہے:
درخت تھے اک دو تو آگ مہلک نہ تھی زیادہ
بچاؤ خود کو کہ اب وہ جنگل جلا رہا ہے