بھارت میں 14 گھنٹوں کا جنتا کرفیو، مکمل سناٹا رہا

  • اتوار 22 / مارچ / 2020
  • 6790

بھارت میں وزیر اعظم نریندر مودی کی اپیل پر 22 مارچ کو ملک بھر میں کورونا وائرس سے احتیاط کے لئے ’جنتا کرفیو‘ کے باعث عوام گھروں تک ہی محدود رہے۔ تمام کاروبار اور ٹرانسپورٹ بھی بند رکھی گئی۔

بھارتی حکومت نے قانونی طور پر کرفیو کا اعلان نہیں کیا تھا۔ تاہم وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب میں عوام سے محض 14 گھنٹے کے لیے گھروں تک محدود رہنے کی اپیل کی تھی۔ نریندر مودی نے 21 مارچ کی شب عوام سے اپنے مختصر خطاب میں اپیل کی تھی کہ وہ 22 مارچ کی صبح سے لے کر رات 9 بجے تک گھروں میں محدود رہیں تاکہ پورا ملک محفوظ بن سکے۔

وزیر اعظم نے عوام سے خطاب میں ’جنتا کرفیو‘ کا لفظ استعمال کرتے ہوئے عوام پر واضح کیا تھا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت انہیں مجبور نہیں کر رہی کہ وہ گھروں میں قید ہوں بلکہ حکومت ان سے اپیل کر رہی ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر گھروں تک محدود رہیں۔ اس اپیل پر 22 مارچ کو ہندوستان بھر میں جنتا کرفیو نافذ رہا اور ملک کے تمام بڑے شہروں میں کاروبار بھی بند رہا جب کہ عوامی ٹرانسپورٹ بھی نظر نہیں آئی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کی اپیل پر عوام نے 22 مارچ کی صبح سے ہی خود کو گھروں تک محدود کرلیا جب کہ روڈوں پر ٹرانسپورٹ بھی نہیں دیکھی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارت کے بڑے شہروں میں کاروبار بھی مکمل طور پر بند رہا، جب کہ مندر بھی خالی دکھائی دیے اور لوگ کسی بھی کام کے لیے مجمع کے صورت میں نظر نہیں آئے۔

جنتا کرفیو کے آغاز کے بعد  نریندر مودی نے ایک ٹوئٹ میں عوام سے ایک بار پھر گھروں تک محدود رہنے کی اپیل کی۔  اگرچہ عام طور پر بھارت میں اتوار کے دن عام تعطیل ہوتی ہے تاہم پھر بھی کئی کاروبار مراکز، دفاتر اور عوامی مقامات کھلے رہتے ہیں۔ لیکن 22 مارچ کو تمام معمولات زندگی معطل رہی۔

بھارت سے کورونا وائرس کے کل کیسز کی تعداد بڑھ کر 370 تک پہنچ چکی ہے۔ بھارتی میدیا کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے  کہ 22 مارچ کے کامیاب جنتا کرفیو کے بعد مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے کرفیو کو مزید 15 دن تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

رپورٹ میں حکومتی عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے مشترکہ طور پر کم سے کم 31 مارچ تک کرفیو کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔