عمران خان کا لاک ڈاؤن سے انکار، سندھ میں آج رات سے بند رہے گا
- اتوار 22 / مارچ / 2020
- 4240
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کورونا وائرس کے باعث ملک میں لاک ڈاؤن کرنے کی تجویز مسترد کر دی ہے اور کہا ہے کہ بیمار افراد خود قرنطینہ کا اہتمام کریں۔ سندھ میں آج رات سے مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے سرکاری ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی 25 فی صد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ یہ لوگ دو وقت کی روٹی مشکل سے کماتے ہیں۔ پورے ملک میں مکمل لاک ڈاؤن سے کم وسائل کا طبقہ اہل خانہ کی کفالت نہیں کر سکے گا۔ انہوں نے کورونا وائرس روکنے کے لیے پاکستانی قوم کو احتیاط برتنے پر زور دیا۔
وزیر اعظم عمران خان گزشتہ ہفتے خطاب میں کہا تھا کہ کرونا وائرس سے ملک میں افراتفری پھیل رہی ہے۔ ملک بند کرنے سے معاشی مشکلات کا شکار عوام بھوک سے مرنا شروع ہوجائیں گے۔ اتوار کو قوم سے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پورے ملک میں لاک ڈاؤن کا مطلب کرفیو لگانا ہوتا ہے۔ پولیس اور سیکیورٹی اداروں کے ذریعے اس پر عمل در آمد کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 25 فی صد پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے ہیں جو دو وقت کی روٹی مشکل سے کماتتے ہیں۔ مکمل لاک ڈاؤن سے کم وسائل کا طبقہ اپنے اہل خانہ کی کفالت نہیں کر سکیں گے۔ حکومت کی اتنی استطاعت نہیں کہ ہر گھر میں اشیا پہنچا سکے۔ چین دنیا کا دوسرا امیر ترین ملک ہے اس کے لیے لاک ڈاؤن میں لوگوں کو گھر میں اشیا پہنچانا ممکن تھا۔
کورونا وائرس کو کنٹرول کرنے کے لیے وزیر اعظم نے کہا کہ وہ شہری جن کو فلو وغیرہ ہے ان کو ذاتی طور ہر قرنطینہ میں چلے جانا چاہیے، وہ ٹھیک ہو جائیں گے۔ اسپتالوں میں علاج کی سہولت محدود ہیں۔ ہمیں بڑی عمر کے افراد کے لیے یہ سہولیات فراہم کرنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بڑی تقریبات کی جاتی رہیں گی تو ہم اپنے اوپر ظلم کریں گے۔ حکومت نے بڑے شاپنگ مالز، اسکول، جامعات سمیت کرکٹ کے ایونٹ بند کر دیئے ہیں۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انسان کے ایمان کا علم مشکل وقت میں ہوتا ہے۔ پاکستانی قوم نے 2005 کے زلزلے اور 2010 کے سیلاب سے نمٹنے میں بھر پور طریقے سے اپنا کردار ادا کیا۔ ساری قوم نے اس کا مقابلہ کیا ہے اور اس مشکل سے نکل آئے۔ پاکستانی قوم کو احتیاط کرنی ہوگی۔
کورونا وائرس کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ پاکستانی قوم نظم و ضبط کی پابندی کریں اور اگر کھانسی یا فلو ہوتا تو گھر میں رہیں۔ اگر نظم و ضبط سے کام لیں گے تو چین کی طرح ہم بھی اس مشکل وقت سے نکل آئیں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت بھر پور انداز میں اقدامات کر رہی ہے جب کہ صنعت و تجارت کے لیے رعایت دینے کا اعلان دو دن میں کریں گے۔
ذخیرہ اندوزی سے شہریوں کو روکنے کے لیے وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں غذائی قلت نہیں ہے۔ ضرورت کی اشیا ملک میں وافر مقدار میں موجود ہیں۔ کورونا سے زیادہ نقصان افرا تفری سے ہوگا۔ ذرائع ابلاغ کا اہم کردار ہے کہ وہ ملک میں افراتفری نہ پھیلنے دے۔ حکومت اور عوام کا اتحاد رہا تو پاکستان کورونا وائرس پر قابو پا لے گا۔
دوسری طرف وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر صوبے میں رات 12 بجے سے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے۔ ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ چین میں چند روز میں ہی کیسز کی تعداد ایک سے ایک لاکھ تک پہنچ گئی تھی اور آج دنیا بھر میں 3 لاکھ سے زائد لوگ اس وائرس کا شکار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کہ تمام دوستوں، علما ، سیاسی لوگوں اور اتنظامیہ سے مشاورت کی ہے اور فیصلہ کیا ہے کہ وائرس کو پھیلنے سے روکا جائے۔ ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ آج رات 12 بجے سے لاک ڈاؤن کیا جائے اور اس دوران کسی کو غیر ضروری گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ لاک ڈاؤن کے دوران سارے دفاتر، اجتماع گاہیں بند ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بتایا جائے گا کہ اگر کوئی ضرورت سے باہر نکلے تو اس کو اجازت ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ ہم مہنگائی، ذخیرہ اندوزی کو روکیں گے۔ اگر کوئی شخص کسی کام سے نکلے تو اپنے ساتھ شناختی کارڈ رکھ کر نکلے۔ اگر کسی کو ہسپتال جانا ہے تو اسے اجازت ہوگی تاکہ بیماروں کو ہسپتال منتقل کیا جاسکے۔
ایک گاڑی میں ایک ڈرائیور اور ایک شخص کو جانے کی اجازت ہوگی۔ احتیاطی تدایر اپنانی ہوں گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جب ہم سختی کریں گے تو مسائل پیدا ہوں گے، اگر عوام نے ساتھ نہ دیا تو ہماری پوری محنت رائیگاں جائے گی۔ اس میں سب کی بہتری ہے کہ گھر سے نہ نکلیں۔
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ اگر کسی میں علامت سامنے آئیں اور اس نے بیرون ملک کا سفر نہیں کیا تو وہ انتظار کرے وہ ٹھیک ہوجائے گا۔ تاہم اگر طبیعت زیادہ خراب ہے تو ہماری ٹیم سے رابطہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم لاک ڈاؤن کے دوران اپنی طبی سہولیات بہتر بنائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ الیکٹرک، سیپکو، ہیسکو، واٹر بورڈ اور ایس ایس جی سی کو ہدایت دی ہے کہ کسی بھی علاقے میں لوڈ شیڈنگ نہیں ہوگی۔ جس کا بجلی کا بل 4 ہزار ہے تو اس سے رواں مہینے بل نہیں لیں گے اور یہ بل 10 مہینوں میں لیا جائے گا۔ سوئی گیس کا 2 ہزار تک کا بل نہیں لیا جائے گا۔ اسے بھی آئندہ 10 ماہ میں قسطوں میں لیا جائے گا، اگر کوئی بل ادا نہیں کرپاتا تو کنیکشن نہیں کاٹا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت تمام سیاسی جماعتوں اور مخیر حضرات کے ساتھ مل کر غریبوں کے گھر تک راشن پہنچائے گی یا پھر نقد رقم دی جائے گی۔ سندھ حکومت چاہتی ہے کہ صنعتیں بند نہ ہوں لیکن ان سے پہلے احتیاطی تدابیر کرنی ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم 15 روز میں کامیاب ہوگئے تو عوام کو اس بیماری سے بچالیں گے۔
انہوں نے کہا کہ افواہیں بہت پھیلیں گی تاہم سندھ حکومت ایک فیس بک اور ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے ہدایات جاری کرے گی اور وہاں سے روزانہ کی بنیاد پر نوٹی فکیشن جاری ہوں گے۔ انہوں نے میڈیا سے گزارش کی کہ تمام ہدایات فیس بک اور ٹوئٹر اکاؤنٹ سے لیں۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ یہ ملک کے لیے بڑا مشکل مرحلہ ہے، ہم سب مل کر مرض کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے تمام سیاسی، سماجی اور مذہبی لوگوں کا تعاون کرنے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں وفاقی حکومت کا بھی شکر گزار ہوں جو ہماری بھرپور مدد کر رہی ہیں۔ انہوں نے مخیر حضرات سے غریبوں کی مدد کے لیے آگے آنے کی بھی درخواست کی۔
وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر پاکستان میں اٹلی جیسے حالات ہوتے تو میں پورے ملک کو لاک ڈاؤن کردیتا لیکن ایسا ممکن نہیں، جبکہ چین میں لاک ڈاؤن کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھاکہ وہ دنیا کی دوسری بڑی معیشیت ہے لیکن ہم ایسا نہیں کرسکتے۔