کورونا سے لڑنے کے لیے مشترکہ کاوشوں کی ضرورت ہے

یکم فروری یعنی گزشتہ ماہ پاکستان اور حجازِمقدس جانے کے لیے آسٹریلیا سے روانہ ہوئے تو ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ صرف ایک ہفتے کی تاخیر ہو جاتی تو ہم حجازِ مقدس کی زیارت اور عمرے سے محروم رہ جاتے۔

ہم دو فروری پاکستان پہنچے اور تین ہفتے وہاں گزار کر بیس فروری کی صبح جدہ ایرپورٹ پر اُترے۔ اس وقت تک پاکستان اور پھر سعودی عرب میں کرونا وائرس کے حوالے سے کہیں اور کوئی احتیاطی رکاوٹ نہیں تھی نہ ہی دونوں ملکوں میں کوئی خوف ہراس نظر آیا۔پاکستان میں، میں تقریباََ روزانہ محافل میں شریک ہوتا رہا۔ کرونا کے حوالے سے کہیں کوئی بات تک نہیں ہوتی تھی۔مساجد، بازار،ریستوران، بازار اور عوامی مقامات بھرے رہتے تھے۔ حالانکہ اس وقت پاکستان میں کرونا کے چند مریض منظرِ عام پر آ چکے تھے۔اسی طرح مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ  میں حرمین شریفین میں نمازیں، طواف، عمرے اور زیارت کا لامتناہی سلسلہ جاری تھا۔کوئی اکا دکا شخص ماسک میں نظر آتا۔ اکثریت بے فکر ہو کر اجتماعی عبادات میں مصروف رہتی، انتہائی قریب بلکہ جڑکر طواف کرتے، روضہ رسولﷺ کی زیارت اور ریاض الجنۃ میں نوافل کی ادائیگی کے لیے ہر وقت جم غفیر اور دھکم پیل جاری رہتی۔

حالانکہ اس وقت تک چین اور اٹلی سمیت بیشتر ملکوں میں یہ وبا پھیل چکی تھی مگر عوام کی اکثریت اس سے لاپرواہ اور حکومتیں بے نیاز نظر آتی تھیں۔ کہیں کوئی انتباہی یا احتیاطی تدابیرروا نہیں تھیں نہ عوام اس موذی مرض کی ہلاکت اور تباہی سے آگاہ تھی۔ اس کی وجہ سے کسی قسم کا ڈر یا خوف بالکل نہیں تھا۔حجازِ مقدس میں ایک ہفتہ گزار کر ستائیس فروری کی صبح ہم شہرِ نبیﷺ مدینہ منورہ سے روانہ ہو کر دبئی پہنچے تو ایر پورٹ کے اندراپنے ٹرمینل پر جانے کے لیے منی وین پر سوار ہوئے۔ وین ڈرائیور ایک پاکستانی نوجوان تھا، اس نے پوچھا”آپ لوگ عمرہ اد کرکے آرہے ہیں کیا؟“ اس نے شاید میرے منڈوائے ہوئے سر سے اندازہ لگا لیا تھا۔میں نے اثبات میں جواب دیا تو کہنے لگا ”آپ خوش قسمت ہیں کل سے عُمرے پر تاحکمِ ثانی پابندی لگ گئی ہے“۔  مجھے یقین نہیں آیا مگر تھوڑی دیر بعد ایک اور شخص نے بھی اس کی تصدیق کی تو خوشی بھی ہوئی اور دُکھ بھی۔

خوشی اس بات کی تھی کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں بروقت اور بخیریت اپنے در پر حاضری اور اپنے حبیب ﷺ کے روضے کی زیارت کی توفیق عطا فرمائی۔دُکھ اور تکلیف اس بات کی تھی کہ پہلی مرتبہ اللہ کے گھر جانے پر پابندی کی خبر سنی تھی۔ہمارے بعد جو لاکھوں لوگ عمرے اور زیارت کے لیے جارہے تھے وہ اس سے محروم رہ گئے تھے۔ بہت سوں کو تو جدہ ایرپورٹ سے واپس روانہ کر دیا گیا۔ کئی لوگوں کو ادا کردہ رقم بھی واپس نہیں ملی۔ ان معصوم لوگوں کی مایوسی کا خیال کر کے دل بھر آیا کہ بعض لوگ زندگی بھر کی جمع پونجی اور برسوں کی آس اور امید لے کر وہاں جانے والے تھے۔ مجھے اُمید ہے کہ پروردگار جو دلوں کے حال جانتا ہے ان لوگوں کی نیت اور ارادے کو قبول فرمائے گا اور انہیں وہی اجر عطا کرے گا جس کی انہوں نے نیت کی تھی۔

سڈنی ایر پورٹ پر امیگریشن کے کمپیوٹر کے ایک سوال کے بعد ہمیں جانے کی اجازت مل گئی۔ وہ سوال یہ تھا کہ آپ چین سے تو نہیں آرہے۔ اس وقت تک صرف چین سے آنے والوں پر نظر رکھی جارہی تھی۔ لیکن محض دو اڑھائی ہفتے بعد اب صورتِ حال یکسر بدل چکی ہے۔ بیشتر فضائی کمپنیوں کی پروازیں بند ہو چکی ہیں۔ غیر ملکیوں کا آسٹریلیا میں داخلہ بند ہو گیا ہے۔ جو آسٹریلین شہری اپنے ملک واپس  آرہے ہیں ان کی ایر پورٹ پر طبی تشخیص کی جاتی ہے اور انہیں دو ہفتے کے لیے قرنطینہ میں رکھا جاتا ہے۔ دو ہفتے بعد انہیں پھر چیک کیا جائے گا اگر ٹھیک ہوں تو باہر نکلنے کی اجازت ہو گی۔اس دوران حکومت نے متعدد قوانین کا نفاذ کر کے لوگوں کے میل جول، اجتماعات،تقریبات، کھیل کود، باہر اور اندر زیادہ لوگوں کے جمع ہونے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ابھی مکمل لاک ڈاؤن تو نہیں ہے لیکن غیر ضروری باہر نکلنے اور میل ملاقات پر قدغن ہے۔

سب سے زیادہ اثرات دکانوں اور شاپنگ سنٹر میں اشیائے ضروریہ پر پڑا ہے۔ کئی لوگوں نے صفائی ستھرائی، صحت سے متعلق اشیائے خوردو نوش، scenetizer(ہاتھ صاف رکھنے والی جراثیم کش کریم) اور ٹوائلٹ رول سمیت دیگر اشیاء اتنی بڑی تعداد میں خرید لی ہیں کہ مارکیٹ میں یہ اشیا ء نایاب ہو گئی ہیں۔ اگر تھوڑی بہت کہیں نظر آتی ہیں تو گاہک ان پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ کئی جگہ خواتین ان اشیا ء کے لیے ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو گئیں اور یسی ویڈیوز لاکھوں لوگوں نے دیکھیں۔ ایسے مناظر آسٹریلیا میں پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ شاید ایسی آفت یا ایسی آزمائش بھی پہلے یہاں کبھی نہیں آئی تھی اور قدرت ایسے مواقع پر ہی لوگوں اور قوموں کو آزماتی ہے۔حالانکہ آسٹریلیا میں نوّے فیصد سے زائد بنیادی اشیائے ضرورت مقامی طور پر بنتی ہیں لیکن چونکہ لوگوں نے یہ اشیاء بڑی تعداد میں جمع کرنی شروع کر دی ہیں اس لیے ان کی شدید کمی واقع ہو گئی ہے۔ سب سے زیادہ لڑائیاں ٹوائلٹ رول کے لیے ہو رہی ہیں حالانکہ اس کا آسان حل یہ ہے کا اس کی جگہ پانی استعمال کیا جائے لیکن آسٹریلین اس سے مکمل نابلد ہیں۔ نہ تو وہ لوٹا استعمال کر سکتے ہیں اور نہ انہیں مسلم شاور کا علم ہے۔ بیچارے گورے، انہیں علم ہی نہیں کہ لوٹے کی کتنی افادیت و اہمیت ہے اور ان کی پہنچ کہاں تک ہے۔ کسی پاکستانی سے پوچھ کر دیکھتے جو ستر برس سے لوٹوں کو بھگت رہے ہیں۔

اس وائرس نے دنیا کو ایک بڑا گاؤں ثابت کر دیا ہے جس طرح کسی گاؤں میں آفت آتی ہے تو پورا گاؤں اس کا شکار ہوتا ہے اور وہ مل کر اس آفت کا مقابلہ کرتے ہیں۔ یہ بھی مشترکہ مسئلہ ہے اور بیک وقت پوری دنیا سے اس آفت کو نیست و نابود کرنے کی ضرورت ہے ورنہ دنیا کا ہر انسان خطرے میں رہے گا۔ مگر بدقسمتی سے ایسا ہو نہیں رہا۔ چین میں یہ مصیبت نازل ہوئی تو دنیا نے اسے ان کا اندرونی مسئلہ سمجھ کر مکمل نظر انداز کیا۔ نہ صرف کسی نے ان کی طرف دستِ تعاون دراز نہیں کیا بلکہ اپنی تیاری بھی نہیں کی۔ کئی لوگوں نے تو چینیوں کا مضحکہ اُڑایا جو شاید قدرت کو پسند نہیں آیا اور آج پوری دنیا اس وبا کا شکار ہے۔اس وقت بھی اقوام متحدہ اور WHO   کے تحت  بین الاقوامی برادری کومشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے کی اشد ضرورت ہے ورنہ یہ بلائے ناگہانی ایک ایک کر کے سب کو چاٹ جائے گی۔

وقت اور حالات کا تقاضا یہ ہے کہ قومی اور بین الاقوامی قیادت اور بین اقوامی ادارے سیاست سے بالا تر ہو کر سر جوڑ کر بیٹھیں اور مشترکہ کاوشوں سے اس وبا سے نمٹنے اور دنیا کو اس سے چھٹکارا دلانے کی بھرپور جنگ کریں۔عوام حکومت اور طبی ماہرین کی ہدایات پر مکمل عمل کریں اور لاپرواہی یا تساہل کا مظاہرہ کر کے اپنی، اپنے عزیز و اقارب اور دوسروں کی جان سے نہ کھیلیں۔ یہی عقل مندی،یہی انسانیت اور یہی دین کا تقاضا ہے کیونکہ اپنی اور دوسروں کی جان بچانا فرض ہے۔دُعا ہے کہ ربّ ذُولجلال تمام انسانوں کو اس آفت سے نجات دلائے۔آمین