کورونا کے باعث جرمن چانسلر قرنطینہ میں چلی گئیں
- سوموار 23 / مارچ / 2020
- 5980
جرمن چانسلر اینجلا مرکیل نے کرونا وائرس سے متاثرہ اپنے ڈاکٹر کے ساتھ رابطے کے بعد رضاکارانہ طور پر قرنطینہ میں جانے کا فیصلہ کیا ہے۔
جرمن حکومت کے ایک ترجمان نے اتوار کے روز بتایا ہے کہ جس ڈاکٹر نے جرمن چانسلر کو دو دن قبل جمعہ کو نمونیا سے بچاؤ کی ویکسین دی تھی، ان کا اپنا کورونا ٹیسٹ پازیٹو نکل آیا ہے۔ اس کے بعد اینجلا مرکیل نے قرنطینہ کا فیصلہ کیا۔
ڈاکٹر کو کرونا لاحق ہونے کے بعد اور یہ سمجھتے ہوئے کہ وہ ڈاکٹر کے ساتھ رابطے میں رہی ہیں، اینجلا مرکیل نے خود کو الگ تھلگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق جرمن سربراہ کا قرنطینہ کی مدت کے دوران باقاعدگی کے ساتھ معائنہ کیا جاتا رہے گا اور وہ گھر سے ہی سربراہ حکومت کے طور پر اپنی ذمہ داریاں ادا کرتی رہیں گی۔
اس دوران امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کورونا وائرس سے شدید متاثرہ ریاست واشنگٹن کو آفت زدہ قرار دیا ہے، جس کے بعد وفاقی حکومت اس مہلک وبا کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے ریاست، قبائل اور مقامی عہدے داروں کی معاونت کرے گی۔ واشنگٹن میں وائرس سے درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ قدرتی آفت زدہ یا تباہی کا شکار ریاست قرار دینے کے اعلان سے ایمرجنسی اور بحرانی صورتِ حال سے نمٹنے میں ریاست کو وفاقی مدد مل سکے گی۔ واشنگٹن کی گورنر جے انسلی نے صدر ٹرمپ کے اس اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے وفاقی حکومت کے اقدام کو مناسب قرار دیا ہے۔ گورنر جے انسلی کا کہنا تھا کہ ریاست نے وائرس کے حملے کا بری طرح شکار ہونے والے کارکنوں اور خاندانوں کے لیے وفاقی حکومت سے جتنی مدد کی اپیل کی تھی، یہ اتنی نہیں ہے۔
صحت کے عہدے داروں نے اتوار کے روز بتایا کہ ریاست واشنگٹن میں کورونا وائرس سے 95 ہلاکتیں ہو چکی ہیں اور تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد تقریباً دو ہزار ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے فیڈرل ایمرجنسی مینیجمنٹ ایجنسی سے کہا ہے کہ وہ کورونا وائرس کی وبا کا سب سے زیادہ ہدف بننے والی ریاستوں، واشنگٹن، کیلی فورنیا اور نیویارک میں موبائل اسپتال منتقل کرے تاکہ وہاں اس وبا کے مریضوں کا علاج اور دیکھ بھال کی جا سکے۔ نیویارک میں اس وبا میں مبتلا مریضوں کے لیے مزید ایک ہزار بستر فراہم کیے جائیں گے۔
صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایک نیوز کانفرنس میں یہ بھی بتایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کا سخت نشانہ بننے والی ریاستوں میں سانس کی بحالی اور دوسرے بہت سے آلات اور طبی ساز و سامان بھیجا گیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستوں اور مقامی لیڈروں نے فیڈرل حکومت سے اس سلسلے میں مدد کی درخواست کی تھی۔
امریکی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ اولین ذمہ داری ریاستوں کی ہے کہ وہ کورونا وائرس پر قابو پانے کے سلسلے میں ضروری سامان حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ ہم ایک طرح سے ریاستوں کے بیک اپ کا کام کرتے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم نے ان تین ریاستوں کے گورنروں کو نیشنل گارڈز طلب کرنے اور مقامی کنٹرول میں رکھنے کا اختیار بھی دے دیا ہے۔