بھارتی گلوکارہ کنیکا کپور کورونا وائرس پھیلانے کا سبب بنتی رہی

  • سوموار 23 / مارچ / 2020
  • 4830

بھارتی گلوکارہ کنیکا کپور میں گزشتہ روز کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔ اداکارہ پر سفری تاریخ خفیہ رکھنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ان کے خلاف پولیس میں مقدمہ بھی درج کروا دیا گیا ہے۔

گلوکارہ کے خلاف یہ ایف آئی آر لکھنؤ کے چیف میڈیکل افسر کی جانب سے درج کروائی گئی۔ چیف میڈیکل افسر نے اپنی شکایت میں لکھا کہ14 مارچ کو ایئرپورٹ پر گلوکارہ کی اسکریننگ ہوئی تھی، جس کے بعد ان میں نزلے کی علامات بھی سامنے آئیں۔ اس وقت کنیکا کو گھر میں قرنطینہ کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ تاہم انہوں نے اس پرعمل کرنے کے بجائے متعدد تقاریب میں شرکت کی۔

خیال رہے کہ 41 سالہ کنیکا کپور رواں ماہ لندن سے لکھنؤ پہنچی تھیں، جس کے چند روز بعد ان کا کورونا کا ٹیسٹ مثبت آیا۔ اس دوران گلوکارہ  نے 3 ایونٹس میں حصہ لیا، جہاں بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔ ان ایونٹس میں بڑی تعداد میں بھارتی سیاستدان بھی موجود تھے۔

وہ ایک رات کے لیے لکھنؤ کے فائیو اسٹار ہوٹل میں بھی ٹھہریں جبکہ شاپنگ کے لیے متعدد بازاروں کے چکر لگائے۔ دوسری جانب کنیکا کپور نے دعویٰ کیا کہ وہ 11 مارچ کو لکھنؤ پہنچی تھیں اور وہ لندن سے ممبئی ایئرپورٹ 9 مارچ کو پہنچیں۔

اس دوران بھارتی حکومت نے 22 مارچ کو تجربے کے طور پر 14 گھنٹے کے لیے نافذ کیے گئے جنتا کرفیو کی کامیابی کے بعد 23 مارچ سے ملک کی 20 ریاستوں کے 75 اضلاع میں لاک ڈاؤن نافذ کردیا ہے۔ بھارت میں 22 مارچ کو 14 گھنٹوں کے لیے رضاکارانہ طور پر لوگوں کو گھروں تک محدود رہنے کی اپیل کی گئی تھی اور وزیر اعظم کی درخواست پر کم سے کم ایک ارب بھارتی افراد گھروں تک محدود رہے تھے۔

22 مارچ کے کامیاب جنتا کرفیو کے بعد مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتوں نے 23 مارچ سے ملک بھر کے 75 اضلاع میں 31 مارچ کی شب تک لاک ڈاؤن کا نفاذ کردیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 23 مارچ کی صبح سے اترپردیش، مہاراشٹرا، پنجاب، کیرالہ، تلنگانہ، اتراکھنڈ، آندھرا پردیش، مغربی بنگال، جھارکھنڈ اور راجستھان سمیت مجموعی طور پر 20 ریاستوں کے درجنوں اضلاع سمیت مرکزی حکومت کے ماتحت اضلاع میں بھی لاک ڈاؤن کردیا گیا۔

مرکزی دارالحکومت نئی دہلی میں بھی 31 مارچ کی شب تک لاک ڈاؤن رہے گا اور اس دوران تمام ٹرانسپورٹ، ریلوے، کاروباری و تعلیمی ادارے، عوامی و مذہبی مقامات بند رہیں گے جب کہ سرکاری دفاتر میں بھی ملازمین کی تعداد کم رہے گی۔ کورونا وائرس کے پیش نظر ریاست مہاراشٹر کے دارالحکومت ممبئی میں بھی 31 مارچ تک لاک ڈاؤن رہے گا اور وہاں بھی ہرطرح کاروباری و تعلیمی ادارے بند رہیں گے جب کہ مذہبی و عوامی مقامات کو بھی بند کردیا گیا۔

ریاست مہاراشٹر کے دیگر اضلاع میں بھی لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا ہے جب کہ ریاست اترپردیش، بہار، تلنگانہ اور پنجاب کے بھی متعدد اضلاع میں لاک ڈاؤن کا آغاز ہوگیا۔ بھارت کے 75 اضلاع میں لاک ڈاؤن سے تقریبا 20 کروڑ کے قریب افراد کی نقل و حرکت پر پابندی رہے گی یا ان کی نقل و حرکت محدود ہو جائے گی۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق لاک ڈاؤن کے دوران اگر کسی بھی ریاست یا مرکزی حکومت کے ماتحت علاقے میں اگر کوئی کورونا وائرس کیا نیا کیس سامنے آیا تو عین ممکن ہے کہ متاثرہ علاقے میں بھی لاک ڈاؤن کردیا جائے۔ بھارت میں 23 مارچ کی صبح تک کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر 430 تک جا پہنچی تھی جب کہ وہاں ہلاکتوں کی تعداد 7 ہوگئی ہے۔

بھارت میں سب سے زیادہ کیسز ریاست مہاراشٹر میں سامنے آئے ہیں، جہاں 23 مارچ کی صبح تک کیسز کی تعداد 90 تک جا پہنچی تھی۔

اس دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک ٹوئٹ میں ملک میں نام نہاد جنتا کرفیو پر عمل درآمد پر عدم اطمیان کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ لوگ اسے سنجیدہ نہیں لے رہے۔