پاکستان میں کورونا مریضوں کی تعداد 800 سے بڑھ گئی، یوم پاکستان کی تقاریب نہیں ہوئیں
- سوموار 23 / مارچ / 2020
- 4010
پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور ملک بھر میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد آٹھ سو سے تجاوز کرگئی ہے۔ جبکہ وائرس کی وجہ سے 6 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
پاکستان کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پیر تک کورونا وائرس کے مزید تین مریض چل بسے جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد چھ ہو گئی ہے۔ پاکستان میں پیر کی صبح تک کورونا وائرس کے مزید 27 نئے کیسز سامںے آئے ہیں اور اب تک اس وائرس کے چھ مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔
کورونا وائرس سے صوبۂ سندھ سب سے زیاد ہ متاثر ہے جہاں متاثرہ مریضوں کی تعداد 352 ہو گئی ہے۔ پنجاب میں 225، بلوچستان میں 108، خیبر پختونخوا 31، دارالحکومت اسلام آباد میں 15، پاکستان کے زیرِ انتظام گلگت بلتستان میں 71 اور کشمیر میں کرونا وائرس کا ایک کیس رپورٹ ہو چکا ہے۔
پاکستان کے صوبۂ سندھ کی حکومت نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے صوبے بھر میں لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے جس کے تحت کراچی سمیت مختلف شہروں میں کاروباری مراکز بند اور سڑکوں پر سناٹا ہے۔ پولیس اور رینجرز نے سڑکوں پر گشت بڑھا دیا ہے اور غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے والے شہریوں کو واپس گھروں کو لوٹایا جا رہا ہے۔
لاک ڈاؤن کے باعث سندھ کے دو بڑے ہوائی اڈے بھی مقامی پروازوں کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔ سول ایوی ایشن کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق کراچی کا جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور سکھر ایئر پورٹ مقامی پروازوں کے لیے بند رہے گا۔ مقامی پروازوں پر پابندی کا اطلاق 24 مارچ کی صبح 6 بجے سے ہوگا۔
پاکستان بھر میں 80واں یومِ پاکستان سادگی سے منایا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں ہونے والی تمام سرکاری و غیر سرکاری تقاریب منسوخ کر دی گئی ہیں۔ تاہم دن کے آغاز پر وفاقی دارالحکومت میں 31 اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21,21 توپوں کی سلامی دی گئی۔ یومِ پاکستان کے سلسلے میں ہونے والی فوجی پریڈ بھی منسوخ کر گئی ہے جس میں پاکستان کی فوجی طاقت کا اظہار کیا جاتا ہے۔
یوم پاکستان سے متعلق قومی اعزازات کی مرکزی تقریب بھی ایوانِ صدر میں ہونا تھی جس میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے مختلف شخصیات کو عسکری و سول اعزازات سے نوازنا تھا۔ تاہم اس تقریب کے علاوہ گورنر ہاؤسز میں ہونے والی اعزازات کی تقاریب بھی منسوخ کر دی گئی ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اعزازات کی تقریب صورتِ حال بہتر ہونے پر منعقد کی جائے گی۔
کراچی میں مزارِ قائد اور لاہور میں مزارِ اقبال پر گارڈز کی تبدیلی کی تقریب بھی نہیں ہوئی۔