وبا کے دنوں میں کرنے کے کام
- تحریر سرور غزالی
- سوموار 23 / مارچ / 2020
- 8760
زمین اپنے محور پر گردش کے لیےچوبیس گھنٹے لیتی ہے، دن و رات جنم لیتے ہیں۔ اور سورج کے گرد اپنا چکر 365 دن میں مکمل کرتی ہے تو ماہ و سال جنم لیتے ہیں۔ جاڑا گرمی، بہار و خزاں جنم لیتے ہیں۔
لیکن زمین کے باسی اپنی نت نئی ترقی، سائنسی ایجادات اور سفری سہولیات سے زمین کی اس خراماں خراماں رفتار کو تیز سے تیز کرتے جاریے تھے۔ برقی سہولیات کی موجودگی میں آٹھ گھنٹے کام، آٹھ گھنٹے فارغ اور آٹھ گھنٹے سو کر گزارنے کا تصور مٹتا جارہا تھا۔۔۔۔۔ شہری زندگی بالخصوص اور دیہی زندگی بالعموم ہلچل سے پر بے سکونی کا شکار ہورہی تھی۔
ہر وقت کام کام، زر کا حصول شاپنگ، خریداری، معیشت کا گھومتا پہیہ بغیر کسی جدول کے بس گھومے جارہا تھا۔ موٹر کار، ٹرین اور ہوائی سفر کی بہتات نے زندگی کو جیٹ لیک اور فضا کو آلودگی سے دوچار کر دیا تھا۔ انسان بھول رہا تھا کہ اس کے اردگرد اور بھی انسان، جانور پرندے اور پھول بھی اپنا وجود رکھتے ہیں اور اس کی توجہ کے طلبگار ہیں۔
مغرب میں خاندانی طرز زندگی کے ٹوٹ جانے کی وجہ سے، لیکن مشرق میں یہ روایات قائم رہنے کے باوجود انسان تنہا ہو کر رہ گیا تھا۔ اپنی ذات میں گم انسان اپنے روزمرہ کے، مقررہ اوقات میں مختلف سرگرمیوں کو ہی زندگی جان کر مگن تھا۔ بے پرواہ ہوگیا تھا۔۔۔۔۔اور ایسے میں کورونا وبا پھوٹ پڑتی ہے۔
کل 22 مارچ کو جرمنی کی چانسلر انجیلا میرکل نے ایک پریس کانفرنس میں عوام کو کم از کم دو ہفتوں کے لئے جرمنی میں لاگو نئے قوانین سے متعارف کروایا ہے۔ یہ قوانین کتنے عرصے لاگو رہیں گے ابھی نہیں کہا جاسکتا۔مگر بقول ان کے ان قوانین کا مقصد عوامی زندگی کو ممکنہ حد تک سست کرنا ہے۔ عام حالت میں سستی اور کاہلی کو برا جاننے والی قوم موجودہ کورونا وبا کے پیش نظر سستی اور قیام کو اپنا شعار بنارہی ہے۔
عوامی مقامات پر ہی نہیں گھروں کے اندر بھی اجتماعات اور پارٹی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ گویا خانگی زندگی پر بھی حکومتی قوانین اثرانداز ہوں گے۔ ان اقدامات کی وجہ سے کورونا وبائی مرض کے اثرات معاشی طور پر تباہ کن ہوں گے۔ مگر انسان زندہ رہے گا تو معیشت بحال کر لے گا۔ یہ وقت ہے بہت سے بھولے بسرے، چھوٹ گئے اور نظر انداز کیے گئے کاموں کو نمٹانے کا ۔۔۔۔۔۔ خاندان، دوست احباب اور بھلائے گئے انسانوں کو یاد کرنے کا ۔۔۔۔ اپنے اپنے عقیدے کے مطابق عبادات کے لیے وقت نکالنے کا۔
جس کا عقیدہ انسانیت ہے وہ انسانوں کی فلاح کے لئے کچھ کرے اور جو جس رب کو مانتا ہے وہ اس کے لیے وقت نکالے۔مگر افواہ، غلط خبر کا پھیلانا، نفرت انگیز باتیں آگے بڑھانے، کسی خاص مذہب، مسلک کو اچھا اور دوسرے کو برا کہنے سے گریز کیجیے، نسلی امتیاز پھیلانے سے اجتناب کیجیے۔ کسی کی دل آزاری مت کریں۔ بلا تفریق رنگ و نسل، جنس و عمر، مذہب و عقیدہ سب سے محبت کیجیے۔۔۔۔
جنگیں موقوف ہیں، ماحولیاتی آلودگی کم ہے، زندگی میں ٹھہراؤ ہے تو اس کا بھی لطف اٹھائیے۔ انٹرنیٹ، اسکائپ سوشل میڈیا کی سہولتوں سے رابطے، کھیل کود اور خدمت انسانی اور دیگر تمام طرح کی مثبت سرگرمی میں مشغول رہیں۔ یہی وقت کا تقاضاہے۔صحت مند رہیں اور دوسروں کی صحت پر اثرانداز ہونے کا سبب مت بنیں۔