موجودہ حالات میں سیاست گناہ ہے، حکومت کی مدد کرنا ہوگی: شہباز شریف

  • منگل 24 / مارچ / 2020
  • 4180

مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کورونا وائرس کے سبب ملک کو درپیش کڑے وقت میں سیاست کو گناہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم سب کو اس معاملے میں حکومت کی مدد کے ملی تقاضوں کو پورا کرنا چاہئے۔

شہباز شریف نے ویڈیو لنک کے ذریعے کورونا وائرس کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں بھی کورونا وائرس نے شدید حملہ کیا ہے اور جو لوگ اس کی زد میں آکے اللہ کو پیارے ہو گئے ہم سب ان کے خاندانوں کے غم میں شریک ہیں۔ آج تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق پاکستان بھر میں 890کے قریب کورونا وائرس کے مریض سامنے آئے ہیں اور ایک جیل میں بھی کورونا کا مریض پایا گیا ہے اور مجھے امید ہے کہ حکومت وقت جیلوں میں ٹیسٹ اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے لیے فی الفور اقدامات کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ آج ہمیں کوئی ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جس سے معاشرے کی تقسیم میں اضافہ ہو۔ میں لندن میں اپنے بڑے بھائی میاں نواز شریف کے علاج کے لیے رکا ہوا تھا لیکن کورونا وائرس میں پاکستان میں تیزی آئی تو انہوں نے مجھے کہا کہ فی الفور پاکستان لوٹ جاؤ۔ موجودہ صورتحال اور قومی سلامتی کے تقاضوں کو دیکھتے ہوئے سیاست کرنا بڑا گناہ ہوگا۔ صورتحال کو دیکھ کر تمام سیاسی اکابرین، تمام طبقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ ہمیں فی الفور لاک ڈاؤن کی طرف جانا چاہیے لیکن ایسا نہ ہو سکا اور یہ تعطل کا شکار ہوا۔ پنجاب حکومت نے اب لاک ڈاؤن اور فوج کی امداد طلب کرکے اس معاملے کو طے کیا ہے۔

ساق وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ہماری معیشت بہت کمزور ہے اور معاشرے میں مختلف وجوہات کی بنا پر تقسیم ہے۔ ان مسائل کے ساتھ  ہمیں کوورنا وائرس کا بھی مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے۔ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اس چیلنج کو موقع میں تبدیل کردیں اور اس موقع پر سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک قوم بن جائیں اور اس چیلنج کا بھرپور مقابلہ کریں۔ سیاسی آمیزش کے بغیر حکومت کے اچھے اقدامات میں ان کی تعریف کرنی ہوگی اور کمزوریوں کی مثبت انداز میں نشاندہی کرنا ہوگی۔ اس وجہ سے میں یہ کہنا چاہوں گا کہ تفتان کے حوالے سے حکومت کی شدید غفلت سامنے آئی ہے اور اگر برق رفتاری سے انتظامات کیے جاتے، سنجیدگی سے پروٹوکول پر عمل کیا جاتا تو صورتحال بہتر ہوتی۔

ان کا کہنا تھا کہ تفتان میں اگر لوگوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح نہ رکھا، اسکریننگ کی گئی ہوتی اور آئیسولیشن سینٹر بنائے گئے ہوتے تو آج پاکستان میں وائرس کے حملے کی شدت اتنی نہ ہوتی لیکن بہرکیف بدقسمتی ہے کہ اس طرح ہوا، اب ہمیں آگے بڑھنا ہے اور اس معاملے کو حل کرنا ہے۔

شہباز شریف نے عوام سے کہا کہ کورونا وائرس کی اب تک کوئی ویکسین یا دوا سامنے نہیں آئی لہٰذا اس کا واحد علاج احتیاط ہے۔ ہمیں جو بھی ہدایات دی جائیں، اس پر ممکنہ حد تک بھرپور عمل کرنا ہو گا۔ انہوں نے اپنی جماعت کے کارکنوں کو بھی پیغام دیا کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بھرپور تعاون کریں اور جو بھی ہدایات دی جا رہی ہیں ان پر خود بھی عمل کریں اور اپنے علاقے محلے کے لوگوں کو بھی اس کی بھرپور ترغیب دیں۔

شہباز نے مزید کہا کہ میں وزیر اعظم پاکستان سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ فی الفور مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس طلب کریں اور چاروں وزرائے اعلیٰ کے ساتھ مل کر اس بحران سے نمٹنے کے قومی منصوابہ پر عمل کریں۔ نیشنل ٹاسک فورس میں تمام سیاسی جماعتوں کو نمائندگی دیں جس طرح 2014 کے آرمی پبلک اسکول کے سانحے کے بعد اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے تمام جماعتوں کو ایک چھت کے نیچے اکٹھے کیا تھا اور اس وقت یکجہتی کی ایک آواز پوری دنیا نے سنی تھی۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ وہ آلات جن کی ملک میں کمی ہے ان کو فی الفور منگوایا جائے مثلاً اضافی وینٹی لیٹرز منگوائے جائیں اور خصوصی طیارے بھیج کر جن ملکوں سے یہ آلات مل رہے ہیں ان کو فوری طور پر منگوایا جائے تاکہ ہسپتالوں میں ان کا فوری آپریشن شروع کیا جائے اور ہمیں جنگی بنیادوں پر آلات باہر سے منگوانے چاہئیں۔

پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ نے ڈاکٹرز کو بھی فوری حفاظتی کٹس کی فراہمی کا مطالبہ کیا تاکہ وہ بھی اس بیماری کا شکار نہ ہو جائیں لہٰذا جہاں سے بھی یہ کٹس دستیاب ان کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ اس موقع پر شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) کی طرف سے 10ہزار حفاظتی کٹس کی فراہمی کا اعلان کرتے ہوئے کہ ہم یہ کٹس ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کو فراہم کریں گے۔

شہباز شریف نے شرح سود میں بھی 3 سے 4فیصد تک کمی کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے 54لاکھ خاندان فیضیاب ہورہے ہیں۔  ہم اس میں مزید خاندانوں کو اس میں شامل کرسکتے ہیں۔  ان کا کہنا تھا کہ شہروں میں رہنے والے غریب افراد کو رجسٹر کرکے اس ایمرجنسی کے عرصے میں ان کو 3ہزار روپے ماہانہ وظیفہ دیں تو احسن اقدام ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے تمام اپوزیشن جماعتوں سے رابطہ کیا تاکہ آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے اور مثبت انداز میں حکومت کو مشورے دیں۔ ان کے اچھے کاموں کو سراہیں اور کمزوریوں کو مثبت انداز میں نشاندہی کریں تاکہ انہیں درست کیا جا سکے۔