پاکستان میں کورونا کے 908 متاثرین، ریلوے سروس مکمل طور سے بند

  • منگل 24 / مارچ / 2020
  • 4470

پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 908 تک پہنچ گئی ہے۔ سندھ اس وقت ملک میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے۔

پاکستان میں وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد چھ ہے جن میں سے تین کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے جبکہ ایک، ایک فرد سندھ، گلگت بلتستان اور بلوچستان میں ہلاک ہوا۔ ملک کے تین صوبوں سندھ، بلوچستان اور پنجاب کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی حکومتوں نے مکمل یا جزوی لاک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ملک بھر میں فوج بھی طلب کر لی گئی ہے۔

پاکستان کی حکومت نے چار اپریل تک ملک میں بین الاقوامی فضائی آپریشن معطل کررکھا ہے جبکہ ملک بھر میں ٹرین آپریشن بھی 31 مارچ تک بند کر دیا گیا ہے۔ حکومت پنجاب نے نجی و سرکاری دفاتر بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے جبکہ شہروں کے اندر اور باہر پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے نقل و حرکت پر پابندی بھی عائد کر دی گئی ہے۔ ۔ پاکستان کے صوبے پنجاب کے وزیر اعلی عثمان بزدار نے کہا ہے کہ صوبے میں بلدیاتی انتخابات مؤخر کر دیے گئے ہیں۔

ایک نیوز بریفنگ میں عثمان بزدار نے اعلان کیا کہ صوبے بھر کے سکولوں میں چھٹیاں 30 مئی تک بڑھا دی گئی ہیں۔ انہوں نے نجی سکولوں کو تجویز دی کے اس دوران بچوں سے نصف فیس وصول کی جائے۔  پنجاب کے وزیر اعلی نے یہ بھی کہا کہ سماجی بہبود کے فنڈز کا استعمال کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا ’ہم ڈاکٹرز اور طبی عملے کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ’میں اور میرے کابینہ کے تمام ارکان ایک ماہ کی تنخواہ کورونا سے بچاؤ کے لیے دے رہے ہیں۔‘

پاکستان کی وزارت ریلوے نے منگل سے ملک بھر میں سات دن کے لیے ریلوے آپریشن معطل کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ دوسری جانب کراچی کے کینٹ ریلوے سٹیشن پر مسافروں کے رش کے باعث سماجی دوری اور دیگر احتیاطی تدابیر نہیں اپنائی گئیں۔

پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹے نے ادارے نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ (این ڈی ایم اے) کا کہنا ہے کہ ابتدائی مراحل میں ڈاکٹروں اور ہیلتھ ورکرز کو ذاتی بچاؤ کا سامان مہیا کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پاکستان بھرمیں مختلف سرکاری محکمہ جات اور ہسپتالوں کو حفاظتی سامان فراہم کیا گیا ہے۔ اس سامان میں این 95 فیس ماسک سمیت حفاظتی سوٹ، تھرمل گنز اور دستانے شامل ہیں۔ جبکہ سرجیکل ٹوپیاں، کاٹن رول، ڈیٹول اور فیس شیلڈ بھی ڈاکٹرز کو بھجوائی گئی ہیں۔

این ڈی ایم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ دوبئی اور اور دوحا میں پھنسے 141 پاکستانی مسافروں کی سکریننگ کے بعد ان کے گھروں کو روانہ کر دیا گیا ہے۔ ان مسافروں میں سے کسی میں کورونو وائرس کی کوئی علامت نہیں پائی گئی۔

وزیراعظم عمران خان نے ملک میں کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث معاشی سرگرمیوں میں آنے والے تعطل اس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مختلف شعبہ جات کے لیے ریلیف پیکیج کا اعلان کیا ہے۔

حکومت اقدامات کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں15 روپے کی فوری کمی کی گئی ہے۔ بجلی اور گیس کے بل قسطوں میں ادا کیے جاسکتے ہیں۔ طبی سامان کے لیے 50 ارب روپے وقف کیا گیا ہے جبکہ کھانے پینے کی اشیا پر بھی ٹیکس کم کر دیے گیے ہیں۔

ایکسپورٹ انڈسٹری کو فوری 100 ارب روپے کا ٹیکس ریفنڈ دیں گے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مکمل لاک ڈاون کرنے سے غریبوں کو کھانا کون فراہم کرے گا، میں اور میری پوری ٹیم حالات کا جائزہ لے رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مزدور طبقے کے لیے 200 ارب روپے مختص کر رہے ہیں۔ برآمد کنندگان کے قرضوں پر سود ملتوی کر رہے ہیں اور معاشرے کے انتہائی غریب طبقے کے لیے 150ارب روپے مختص کیے جارہے ہیں جس کے تحت ہر غریب خاندان کو 4 ہزار روپے ماہانہ فراہم کیے جائیں گے۔