امریکہ کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر، طبی سہولیات کی کمی

  • جمعہ 27 / مارچ / 2020
  • 4850

امریکہ میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 83 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ جو چین اور اٹلی میں رپورٹ ہونے والے تصدیق شدہ کیسز سے بھی زیادہ ہے۔

چین میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 81285 ہے جب کہ اٹلی میں 80539 کورونا وائرس کے مصدقہ کیسز سامنے آچکے ہیں۔ امریکہ میں اس وبا سے جمعرات تک 1204 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور دنیا بھر میں کورونا وائرس کے باعث 24  ہزاراموات ہو چکی ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق امریکہ میں طبی سہولیات کی کمی دیکھی جا رہی ہے۔  کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے درکار کٹس بھی مطلوبہ تعداد میں دستیاب نہیں ہیں۔ امریکہ میں کورونا وائرس کا مرکز سمجھے جانے والے شہر نیویارک کے اسپتال اور کولمبیا یونیورسٹی میڈیکل سینٹر میں ابتدائی طور پر دو مریضوں کے لیے ایک ہی وینٹی لیٹر کا استعمال شروع کر دیا گیا ہے۔

امریکہ کی ریاستوں نیویارک، نیو اورلینز اور کورونا وائرس سے متاثرہ دیگر ریاستوں میں اسپتالوں میں داخل ہونے والے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جس کی وجہ سے طبی عملے، سامان اور بستروں کی کمی کا سامنا ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹوئٹ میں کہنا ہے کہ انہوں نے چین کے صدر شی جن پنگ سے کورونا وائرس سے متعلق تفصیلاً گفتگو کی ہے۔ امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ چین اس صورتِ حال سے گزر چکا ہے اور چین نے اس وائرس کے خلاف مضبوط لائحہ عمل اپنایا ہے۔ صدر ٹرمپ کے بقول اس مہلک وبا کے خلاف امریکہ اور چین مل کر کام کر رہے ہیں۔

اس سے پہلے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے خلاف جاری جنگ میں ہم معاشی، سائنسی، طبی اور عسکری وسائل استعمال کر رہے ہیں تاکہ اس وبا کے پھیلاؤ سے امریکی شہریوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔ کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی امریکی ریاست نیویارک کے بعد لوزیانا ہے جہاں وینٹی لیٹرز کی طلب دو گنا ہوچکی ہے۔ لوزيانا کے گورنر جان بیل ایڈورڈز کا کہنا ہے کہ اگر اس مہلک وبا پر قابو نہ پایا گیا تو دو اپریل تک ریاست میں وینٹی لیٹرز اور سات اپریل تک اسپتالوں میں مریضوں کے لیے بستر ختم ہوجائیں گے۔

لوزیانا میں 'اوشنر ہیلتھ سسٹم' کے چیف ایگزیکٹو وارنر تھامس کا کہنا ہے کہ اسپتالوں میں قائم انتہائی نگہداشت وارڈز میں 80 فی صد مریض اس وقت وینٹی لیٹرز پر ہیں۔  امریکی اسپتالوں میں کام کرنے والی نرسز کی تنظیم 'نیشنل نرسز یونائیٹڈ' کی سربراہ بونی کیسٹیلو کا کہنا ہے کہ ہماری نرسز کے پاس کورونا وائرس کے مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے درکار طبی سامان کا فقدان ہے۔

'رائٹرز' کے مطابق امریکہ میں طبی سامان کی کمی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ طبی عملہ اپنی حفاظت کے لیے اب پرانے فیس ماسکس اور کوڑے کے لیے استعمال ہونے والے بیگز استعمال کر رہا ہے۔