پاکستان میں ٹرانسپورٹ پر پابندی ختم کرنے کا فیصلہ، رضاکاروں کی فورس بنانے کا اعلان
- جمعہ 27 / مارچ / 2020
- 6080
پاکستان کی وفاقی حکومت نے ملک میں اشیائے خورونوش کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے گڈز ٹرانسپورٹ پر پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسلام آباد میں سینئر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ کورونا وائرس کے باعث ملک میں کھانے پینے کی اشیا کی قلت نہیں ہونی چاہیے۔ قلت سے افراتفری ہوسکتی ہے اس لیے رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ کسی مال بردار گاڑی کو نہیں روکا جائے گا۔ سامان کی نقل و حرکت کے لیے ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ٹیکس سے حاصل ہونے والی مجموعی آمدنی 45 ارب ڈالر ہے اور امریکا نے صرف ریلیف پیکج 2 ہزار ارب ڈالر کا دیا ہے، اس کے باوجود وہاں وفاق کچھ کر رہا ہے اور ریاستیں کچھ کر رہی ہیں کیونکہ موجودہ صوتحال اتنی آسان نہیں ہے۔ کورونا وائرس کی وبا سب کے لیے نئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں بھی کورونا وائرس کی وجہ سےصوبوں پر دباؤ بڑھا اور انہوں نے اس کے مطابق اقدامات اٹھائے۔ بظاہر ایسا تاثر ملا کہ حکومت کو سمجھ نہیں آرہی کہ کیا ہورہا ہے۔ درحقیقت ایسا نہیں تھا، پاکستان کو ایسی صورتحال کا تجربہ نہیں تھا۔
عمران خان نے کہا کہ میں لوگوں کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ دو ہفتے قبل قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد ہم نے لاک ڈاؤن شروع کردیا تھا۔ پی ایس ایل سمیت کھیلوں کے تمام مقابلے ختم کر دیے لیکن اس کے بعد جس بات کا مجھے خدشہ تھا کہ جب ہم لاک ڈاؤن کی بات کرتے ہیں تو ہمیں بہت سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا چاہیے کیونکہ ہم جو بھی قدم اٹھاتے ہیں اس کا ردعمل اور اثرات آتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 'گڈز ٹرانسپورٹ پر پابندی ختم کرنے کے علاوہ یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ کھانے پینے کی اشیا بنانے والی اور اس سے منسلک صنعتوں کو بھی کام کرنے کی اجازت ہوگی اور چاروں صوبے مل کر اس کا طریقہ کار بنائیں گے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اللہ کا خاص کرم ہے کہ ہمارے ملک میں کورونا وائرس اب تک ویسے نہیں پھیلا جیسے دوسرے ممالک میں پھیلا ہے لیکن کوئی گارنٹی نہیں اور ہوسکتا ہے کہ دو ہفتے بعد کیسز ایک دم زیادہ ہوجائیں لہٰذا قوم کو تیار رہنا چاہیے اور ہمیں انتہائی بُرے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیاری کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اس لیے ہم نوجوانوں کی ایک خصوصی فورس بنا رہے ہیں اور وزیر اعظم ہاؤس کے سٹیزن پورٹل کے ذریعے اس کی ممبرشپ کریں گے۔ 31 مارچ سے فورس کے لیے رجسٹریشن شروع ہوگی۔ اس فورس کے اہلکاروں کو ملک بھر میں بھیجا جائے گا اور اگر کسی علاقے سے اچانک کیسز سامنے آتے ہیں تو اس علاقے کے لوگوں کے گھروں میں ان کے ذریعے کھانا پہنچایا جائے گا۔
عمران خان نے کہا کہ اگلے ہفتے کورونا فنڈ کا اعلان کیا جائے گا اور جو بھی عطیات دینا چاہے وہ اس فنڈ میں دے گا۔ غریب طبقے کی احساس پروگرام کے ذریعے بھی مالی مدد کی جائے گی۔ بیروزگار ہونے والوں اور چھابڑی والوں کی اس فنڈ سے مدد کی جائے گی۔ مالی مدد کرنے والوں کی رجسٹریشن کی جائے گی اور ان کے لیے منظم نظام بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے ہماری تجارت متاثر ہورہی ہے اور برآمدات گر رہی ہیں۔ ہمیں ڈر ہے کہ اس صورتحال کی وجہ سے ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوں گے اور روپے پر دباؤ بڑھے گا۔ اس لیے میں اس کی بھی تیاری کر رہا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اوورسیز پاکستانیوں سے درخواست کروں گا وہ اس اکاؤنٹ میں پیسے جمع کروائیں تاکہ روپے پر دباؤ ختم ہو۔